امریکہ دشمن کے ہائپرسانک میزائلوں کو کیسے تباہ کرے گا

امریکہ روس اور چینی ہائپرسونک میزائلوں کو ٹریک کرنے کے لئے خلا میں سسٹمز بھیجے گا

امریکہ بیلسٹک اور ہائپر سونگ میزائل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے خلا میں میزائل ڈیفنس سسٹم تعینات کرے گا۔ یہ اقدام کافی اہمیت کا حامل ہے کیوں کے امریکہ کے حریف روس اور چین نے ہائپر سونک میزائل ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی کی ہے۔

میزائل ڈیفنس کو وسیع کرنے کے لیے امریکا نے دونوں سیٹلائٹس کو زمین کے مدار میں بھیجا گیا ہے، محکمہ دفاع کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کیوب سیٹس نامی دو نینو سیٹلائٹس کو لانچ کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ امریکی میزائل ڈیفنس ایجنسی (ایم ڈی اے) کے نینوسیٹ ٹیسٹبیڈ انیشیٹو کا حصہ ہے۔

جس کا مقصد چھوٹی اور کم لاگت والی سیٹلائٹس کے استعمال کے ذریعے نینو سیٹلائٹس کے درمیان ریڈیو کمیونیکیشن کے نیٹورک کو جانچنا ہے۔ دونوں کیوبسیٹس کو 90 دنوں کیلئے خلا میں بھیجا گیا ہے تاہم اگر کیوبسیٹس مناسب طریقے سے کام کرتی رہیں تو اس مشن کو ایک سال تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

Nano satellite will help in tracking Hyper sonic missile

ایم ڈی اے کے ڈائریکٹر برائے سپیس سینسرز، والٹ چیا نے کا کہنا ہے کہ یہ سیٹیلائٹ کلیدی ٹیکنالوجی کی جانچ کریں گی جو نظاموں کیلئے خطرے کو کم کرتی ہیں۔ جیسے کہ ہائپر سونک اینڈ بیلسٹک ٹریکنگ سپیس سینسر، ایم ڈے اے ہائپرسانک اینڈ بیلسٹک ٹریکنگ سپیس سینسر پے لوڈ تیار کر رہا ہے۔ یہ پے لوڈ زمین کے مدار میں موجود سیٹلائٹس پر نصب کئے جائیں گے۔

ان سینسرز کے نصب کئے جانے کے بعد یہ ہائپر سونک اور بیلسٹک میزائلوں کے خطرات کا پتہ لگائیں گے اور انہیں ٹریک کر سکیں گے ، جسکے بعد یہ ڈیٹا میزائل ڈیفنس سسٹم کو فراہم کیا جائے گا۔ میزائل ڈیفنس سسٹم انٹرسیپٹرز، سینسرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز آپس میں منسلک ہوں گے جس سے دشمن کی طرف سے فائر کئے گئے میزائلوں کی نشاندھی کی جائے گی اور انھیں حدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ کیا جا سکے گا۔

کیوبسیٹس کیا ہیں؟

امریکی سپیس ایجنسی ناسا کے مطابق کیوب سیٹس نینو سیٹلائٹس کی ایک کلاس ہیں۔ ایک کیوب سیٹ ایک چھوٹے کمپیوٹر ،پاور مینیجمینٹ سسٹم، سولر سیل ، گیس پروپلشن سسٹم، کمیونیکیشن سسٹم اور سینسرز پر مشتمل ہے۔ کیوب سیٹس میں ترتیب اور خصوصیات, انکے مطلوبہ استعمال پر منحصر ہیں۔

CubeSats may help in tracking Hypersonic Missiles

اینٹی ہائپر سانک میزائل سسٹم

نیول نیوز کے مطابق نیوکلیئر اینڈ میزائل ڈیفنس پالیسی کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری دفاع لیونور ٹومیرو نے کہا ہے کہ پینٹاگون ۔ملک کی میزائل دفاعی پالیسیوں ، حکمت عملیوں اور صلاحیتوں کا جائزہ لے گا۔ تاکہ انٹیگریٹڈ ڈیٹرنس کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسی سلسلے میں محکمہ دفاع نے حال ہی میں امریکہ کے میزائل ڈیفنس سسٹم کی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے نیکسٹ جنریشن انٹرسپٹر کی تیاری کا آغاز کیا ہے۔ ٹومیرو نے کہا ہے کہ یہ شعبہ اس بات کو یقینی بناتا رہے گا کہ ہم فضائی خطرات اور میزائل ڈیفنس کیلئے بہتر سے بہتر سسٹمز تیار کریں تاکہ بیلسٹک میزائلوں کے خطرات سے نمٹا جا سکے اور کروز میزائلوں اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظام کے خلاف دفاع کو قابل بنایا جا سکے۔

روسی ہائپر سانک میزائل

روس ہائپر سانک میزائلوں کی تحقیق اور ترقی میں بہت آگے جا چکا ہے اور امریکہ ایسے میزائلوں کی تیاری میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ روس کے پاس اس وقت دو اہم ترین پائپر سانک میزائل ہیں ، پہلا ایونگارڈ اور دوسرا کنزال، ایونگارڈ ایک ایٹمی میزائل ہے اور اسکی سپیڈ ماک 20 سے بھی زیادہ ہے۔ اس میزائل میں گلائیڈ سسٹم ہے جو زبردست مینیورابلٹی کا حامل ہے۔

روس کا اس میزائل کے حوالے سے یہ دعویٰ ہے کہ یہ میزائل موجودہ اور مستقبل کے میزائل ڈیفنس سسٹمز کو دیکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کنزال ایک ائیر لانچڈ میزائل ہے اور مگ 31 اور ٹی یو 22 ایم سے لانچ کیا جا سکتا ہے ۔ اسکی ٹاپ سپیڈ ماک 10 سے بھی زیادہ ہے۔ یہ میزائل بھی ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Kinzhal Missile URDU

اکتوبر 2020 میں روس نے ہائپر سانک کروز میزائل زرکون کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ اس میزائل کے کامیاب تجربے پر روسی صدر نے نے ملک کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ زرکون کی سپیڈ ماک 6 سے زیادہ ہے اور اسے سبمیرینز اور سرفس شپس سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ لینڈ بیسڈ ویرئنٹ کی تیاری جاری ہے۔

اس میزائل کی تیزی رفتاری کی وجہ سے ہوا کا دباؤ اسکے آگے پلازمہ کلاوڈ بنا لیتا ہے جو کہ ریڈار کی ریڈیو ویوز (لہروں) کو اپنے اندر جزب کرلیتا ہے۔ اور یہ خصوصیت اسے دشمن کیلئے بہت بڑا خطرہ بنا دیتی ہے، کیونکہ ریڈارز اسے نہیں دیکھ سکتے۔

امریکی میزائل انٹرسپٹر ”ایجس” کو آنے والے میزائل کو روکنے کیلئے 8 سے 10 سیکنڈز کا وقت درکار ہوتا ہے جبکہ روسی میزائل زرکون 8 10 سیکنڈز میں 20 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔ اس طرح زرکون میزائل کو روکنے کیلئے امریکہ کو جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی۔

چینی ہائپر سونک میزائل

چین کا ڈی ایف 17 ایف درمیانے فاصلے پر مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے، جسے 2019 میں چین کی 70 ویں سالگرہ کی فوجی پریڈ کے دوران منظر عام پر لایا گیا تھا۔ ڈی ایف 17 ڈی ایف زیڈ ایف ہائپر سانک گلائیڈ وہیکل پر نصب ہے اور اسکی رینج 2500 کلومیٹر ہے۔ اسکی ٹاپ سپیڈ ماک 5 بتائی جاتی ہے۔ امریکی انٹیلیجنس ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈی ایف 17 زبردست درستگی کا حامل ہے۔ ڈی ایف 17 چین کو اقوام متحدہ کی الیٹ لیگ میں شامل کرتا ہے۔

Chinese DF 17 URDU

اس طرح کی صلاحیتوں کو تیار کرنے میں امریکہ چین اور روس سے پیچھے ہے۔ یعنی امریکہ کے پاس ایسے نظام نہیں ہیں جو روس اور چین کو اسی انداز میں خطرے میں ڈال سکیں اور نا امریکہ کے پاس روس اور چین کے ان میزائلوں کے خلاف موثر نظام موجود ہیں۔

چین اس وقت جے ایف 22 ونڈ ٹنل بھی تیار کر رہا ہے جو چین کو ہائپر سانک ٹیکنالوجی میں دنیا سے کئی دہائیاں آگے رکھ سکتا ہے۔ جے ایف 22 ونڈ ٹنل کی سپیڈ ماک 30 ہوگی۔ جے ایف 22 کے حوالے سے میسر معلومات کے مطابق یہ ہائپر سونک سپیڈ کیلیے کیمیکل دھماکوں کی ایک منفرد ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گا۔ جبکہ دوسرے ممالک ہائپر سانک سپیڈ کیلئے یا تیز رفتار ہوا کا بہاو پیدا کرنے کے لئے میکینیکل کمپریسر کا استعمال کرتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *