How Target drone is Helpful For Future Airforce Capabilities

پاکستان اور بھارت ٹارگٹ ڈرونز تیار کرنے کے بعد کون سے ہتھیار تیار کر سکیں گے؟

ٹارگٹ ڈرون کے حوالے سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کی یہ ڈرون فضا میں مار کرنے والے ہتھیاروں کو ٹیسٹ کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہ ڈرون محض میزائلوں کا شکار نہیں ہے۔ اسے تیار کرنے والا ملک اسے کئی مقاصد کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔ اور ایسے کئی ہتھیار ہیں جنکی تیاری میں ٹارگٹ ڈرون کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Target Drone PAC Kamra

بھارت کا ادارہ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ابھیاس اور لکشیا نامی ٹارگٹ ڈرونز تیار کر چکا ہے جبکہ پاکستان کا ہائی سپیڈ ٹارگٹ ڈرون تیاری کے اخری مراحل تک پہنچ چکا ہے۔ بھارت اپنے ٹارگٹ ڈرونز کی تفصیلات پہلے ہی سامنے لا چکا تھا تاہم پی اے سی کامرہ نے بھی اپنے ٹارگٹ ڈرون کی تفصیلات بتا دی ہیں۔

دونوں ملکوں کے ان ٹارگٹ ڈرونز کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ پاکستان کے ہائی سپیڈ ٹارگٹ ڈرون کی سپیڈ 1000 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب ہے۔ جبکہ ابھیاس کی سپیڈ 617 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اور لکشیا کی سپیڈ 864 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ پاکستان کا ہائی سپیڈ ٹارگٹ ڈرون بیس ہزار فٹ کی بلندی پر آپریٹ ہو سکتا ہے جبکہ ابھیاس سولہ ہزار 400 فٹ اور لکشیا 30000 کی بلندی پر آپریٹ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے ہائی سپیڈ ٹارگٹ ڈرون کی پرواز کا دورانیہ 50 منٹ تک ہے۔ دوسری طرف بھارت کے ان دونوں ٹارگٹ ڈرونز کی پرواز کا دورانیہ 30 منٹ ہی بتایا گیا ہے۔

Lakshya drone

بھارت لکشیا ٹو بھی تیار کر چکا ہے جو کہ لکشیا 1 کا ایڈوانسڈ ورژن ہے۔ بے شک ٹارگٹ ڈرونز کی تیاری میں بھارت نے پاکستان کی نسبت پہل کی اور کامیاب بھی رہا۔ تاہم دونوں ملک اس طرح کے ڈرونز تیار کر لینے کے بعد کچھ ایسے ہتھیار اور سسٹمز بھی تیار کر سکیں گے جن کے بارے میں آپ آرٹیکل میں جان سکیں گے۔ ٹارگٹ ڈرون کو فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کو ٹیسٹ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میزائلوں میں زمین سے فضا اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔

در اصل یہ ایک بہترین زریعہ ہے ایسے میزائلوں کو ٹیسٹ کرنے اور ان میں مزید بہتری لانے گا۔ اسکے علاوہ سٹیلتھ ٹارگٹ ڈرونز کو استعمال کرکے کم ریڈار کراس سیکشن کے آبجیکٹس کے خلاف فائٹر پائلٹس کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس طرح ریڈارز کی کارکردگی کو بھی جانچا جاتا ہے اور انھیں ایڈوانسڈ ایئرکرافٹس کے خلاف مزید طاقتور بنانے میں مدد ملتی ہے۔

Stealth Target Drone
اسکے علاوہ یہ ڈرونز تیار کرنے کے بعد پاکستان اور بھارت لوئٹرنگ میونیشن بھی تیار کر سکیں گے۔ بھارتی فورسز اس وقت اسرائیلی ساختہ لوئٹرنگ میونیشن استعمال کرتی ہیں۔ لوئٹرنگ میونیشن کی خاصیت یہ ہوتی ہے یہ ڈرون وارہیڈ لے کر زیادہ وقت تک سفر کرتا ہے۔ یہ دشمن علاقے میں ٹارگٹ کو تلاش کرنے تک فضا میں پرواز برقرار رکھتا ہے اور جیسے ہی کوئی ٹارگٹ نظر آئے اس پر خود کش حملہ کر دیتا ہے۔ بلکل ایسے ہی جیسے باز اور چیل انتہائی بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور جیسے ہی انھیں کوئی شکار نظر آئے اس پر جھپٹ پڑتے ہیں۔

اگر سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل یہ ڈرون لوئٹرنگ میونیشن میں تبدیل کر دیا جائے تو یہ ایک تباہ کن ہتھیار کی شکل اختیار کرلے گا۔

اسکے علاوہ ٹارگٹ ڈرون کی تیاری کے بعد ایسے ڈرونز کی تیاری بھی کی جا سکتی ہے جو دشمن کے ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم کو دھوکہ دے سکیں۔ یہ ائیر لانچڈ ڈیکوئے کہلاتے ہیں ۔ انھیں سی ون تھرٹی یا اس طرح کے پیٹلفارمز سے لانچ کیا جاتا ہے۔ جس کے بعد ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے یہ ڈرونز خود کو باقاعدہ ائیر کرافٹس ظاہر کرتے ہیں۔

MALD As Decoy

انھیں لانچ کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دشمن کا ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم انہیں اصل ائیرکرافٹس سمجھ کر ان سے انگیج ہو اور اس دوران اصل ائیر کرافٹس اپنا کام کرتے ہیں۔ آپ جب امریکہ کے مالڈ نامی ڈیکوئے میزائل کو دیکھتے ہیں تو آپ کو اس ویپن کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو سکتی ہے جس کا زکر ہم کر رہے ہیں۔ اگر رینج کے حوالے سے بات کی جائے تو ابھیاس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسکی میکسیمم رینج 400 کلومیٹر تک ہے۔ جبکہ پاکستانی ٹارگٹ ڈرون کے حوالے سے ایسی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *