sukhoi 75 5th Gen Urdu details

روس کا نیا ففتھ جنریشن طیارہ سخوئی 75 اور پاکستان انڈیا

روس ایک اور ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ میدان میں لے آیا ہے۔ اور اسے تیار کرنے کا مقصد اسے فروخت کرنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ فائٹر جیٹ امریکی طیاروں کا بہترین متبادل ہوگا اور کم قیمت بھی، جسکی وجہ سے فورتھ جنریشن طیاروں کی مارکیٹ تباہ ہو سکتی ہے، کیا پاکستان کے جے ایف سیونٹین کی مارکیٹ پر بھی یہ فائٹر جیٹ اثر انداز ہوگا؟ اسکی قیمت ہمارے مطابق کتنی ہو سکتی ہے؟ اسکی تکنیکی معلومات اور اسکے ممکنہ خریداروں کے حوالے سے بھی معلومات آپ سے شئیر کی جائیں گی۔

ایس یو 75 چیکمیٹ

پوری دنیاں میں اس وقت چند ہی ممالک ہیں جو ففتھ جنریشن ایئرکرافٹس تیار کر پائے اور جو ابھی تیار کر ے میں مصروف ہیں انکی تعداد بھی کچھ زیادہ نہیں۔ استعمال کرنے والے ممالک میں امریکہ پہلے نمبر پر ہے جو کہ ایف 22 اور ایف 35 استعمال کر رہا ہے۔ دوسرے نمبر پر چین ہے جو کہ جے 20 استعمال کر رہا ہے، اور تیسرے نمبر پر روس ہے جو بہت کم تعداد میں ایس یو 57 استعمال کر رہا ہے۔

چین نے جے 20 کو فروخت کرنے پر پابندی لگا رہی ہے جبکہ جے 31 جو کہ چین دوسرے ممالک کو بھی فروخت کرے گا اسکی سیریل پروڈکشن فلحال شروع نہیں ہوئی، لیکن پھر بھی جے 31 کی سیریل پروڈکشن چیکمیٹ سے پہلے ہی شروع ہوگی۔ دوسری طرف امریکہ نے ایف 22 صرف خود استعمال کیا اور کسی بھی ملک کو فروخت نہیں کیا، ایف 35 خاص اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر تیار کیا مگر یہ ائیر کرافٹ بھی ہر ملک کیلئے دستیاب نہیں ہے, اسے وہی خرید سکتے ہیں جو امریکہ کے اتحادی ہیں. روس نے بھی ایس یو 57 کو فروخت کرنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے.

یعنی کوئی بھی ملک ایسا نہیں جو ففتھ جنریشن ائیرکرافٹس تیار کرکے انھیں مارکیٹ میں لایا ہو، اور اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روس نے ایک ایسا ائیر کرافٹ تیار کیا جو ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی کا حامل ہے، سنگل انجن ہے، کم قیمت اور ہائی پرفامنس بھی ہے۔

میں سمجھتا ہوں روس مارکیٹ میں پہلے سے ایسا ایئرکرافٹ موجود نا ہونے کی وجہ سے بہت فائدہ اٹھائے گا اور اس نے جو ائندہ پندرہ سالوں میں یہ 300 جیٹس بنانے کا تخمینہ لگایا ہے بلکہ درست ہے۔ روس کا یہ ایئرکرافٹ بہت سے ممالک خریدیں گے۔ کیونکہ اول تو مارکیٹ میں ففتھ جنریشن طیارے موجود نہیں اور دوسرا یہ ایئرکرافٹ بہت سستا بھی ہوگا۔

sukhoi 75 5th Gen Urdu details 1

چیکمیٹ کی ممکنہ قیمت

روس کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایئرکرافٹ ایف 35 کا ہم پلہ ہے، تاہم اسکے مقابلے میں یہ ایک بہت کم قیمت ایئرکرافٹ ہوگا، مختلف ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسکی قیمت 25 سے 30 ملین ڈالرز تک ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہوگا جیسا بتایا جا رہا, سنگل انجن ایئرکرافٹ ہونے کی وجہ سے اس ائیر کرافٹ کی قیمت باقی ففتھ جنریشن ایئرکرافٹس کی نسبت کم ضرور ہوگی مگر یہ کہنا کہ اسکی قیمت 25 سے 30 ملین ڈالرز تک ہوگی، غلط ہے۔

اسکی تیاری پر لاگت ہی تقریباً 50 ملین ڈالرز سے اوپر آئے گی۔ جبکہ روس کا اسے بنانے کا مقصد پیسہ کمانا بھی ہے، لہذا میرے اندازے کے مطابق روس اسے 70 سے 80 ملین ڈالرز میں فروخت کر سکتا ہے۔ اور اس قیمت کے ساتھ بھی یہ ایک کم قیمت ائیر کرافٹ ہوگا اور بہت سے ممالک اسے خریدنے کیلئے تیار ہو جائیں گے۔

آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ رافیل کے ایک یونٹ کی قیمت 110 ملین ڈالرز سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ جبکہ سنگل انجن ایئرکرافٹس کی قیمتیں بھی 60 ملین ڈالرز سے نیچے نہیں ہیں، یاد رہے میں ائیر کرافٹ کی تیاری پر آنے والی لاگت نہیں بتا رہا، بے شک ایک فورتھ جنریشن ایئرکرافٹ 30 سے 35 ملین ڈالرز میں تیار ہو سکتا ہے مگر اسے جب فروخت کیا جاتا ہے تو اسکی قیمت زیادہ رکھی جاتی ہے۔ اسلئے روس کا یہ نیا ائیر کرافٹ ممکن ہی نہیں کہ 35 ملین ڈالرز میں فروخت کیا جائے۔

چیکمیٹ اور فورتھ جنریشن طیاروں کی مارکیٹ

چیکمیٹ چونکہ اسی قیمت میں فروخت ہوگا جس میں سنگل انجن فورتھ جنریشن ایئرکرافٹس ہوتے ہیں تو یقینی طور پر ایس یو 75 دوسرے طیاروں کی مارکیٹ خراب کرے گا، یاد رہے میں ان فورتھ جنریشن ایئرکرافٹس کی بات کر رہا ہوں جن کی قیمت فروخت 50 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔ ایس یو 75 کی کم قیمت میں دستیابی کی وجہ سے فورتھ جنریشن ایئرکرافٹس کو فروخت کرنے والی کمپنیوں کو یقینی طور پر ان کی قیمت کم کرنا ہوگی۔

اور جہاں تک رہی بات جے ایف سیونٹین کی مارکیٹ کی تو اس ائیر کرافٹ کی مارکیٹ پر ایس یو 75 اثر انداز ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک انتہائی کم قیمت ایئرکرافٹ ہے اور ایک ائیر کرافٹ کی تیاری پر جتنی لاگت آتی ہے اس سے دگنی قیمت میں بھی اگر پاکستان اسے فروخت کرے، تو بھی 50 ملین ڈالرز نہیں بنتے۔

نائجیریا کو پاکستان نے تین جے ایف سیونٹین بلاک 2 ائیرکرافٹس 184.3 ملین ڈالرز میں دئیے تھے۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ ایک ائیر کرافٹ 61 ملین ڈالرز میں فروخت ہوا۔ اس قیمت میں ٹریننگ اور سپئیر پارٹس کی قیمت بھی شامل تھی۔ لہذا چیکمیٹ انہی فورتھ جنریشن ائیرکرافٹس کی مارکیٹ پر برا اثر ڈالے گا جو مہنگے داموں فروخت کئے جاتے ہیں۔

چیکمیٹ کے ممکنہ خریدار

چیکمیٹ کے آزمائشی ماڈل کی رونمائی سے پہلے کمپنی نے ایک تشہیری ویڈیو جاری کی تھی جس میں چار ممالک کے پائلٹس اس نئے فائٹر جیٹ کا انتظار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جن میں متحدہ عرب امارات، انڈیا ویتنام اور ارجنٹینا شامل تھے۔ اس تشہیری ویڈیو کی وجہ سے سمجھا جا رہا ہے کہ یہ چار ممالک اس روسی جیٹ کے ممکنہ خریدار ہیں۔

تاہم انڈیا کی طرف سے سرکاری سطح پر اس سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ۔ انڈیا اس وقت ایک ففتھ جنریشن ائیر کرافٹ پر بہلے سے کام کر رہا ہے، جبکہ تیجس کے نئے ویرئنٹس بھی تیار کر رہا ہے۔ اسکے علاوہ اومنی رول کمبیٹ ایئر کرافٹ بھی انڈیا تیار کر رہا ہے جو کہ رافیل کے ہم پلہ ہوگا۔ اگر یہ سب پروجیکٹس وقت پر مکمل ہو جاتے ہیں تو انڈیا روس سے اس فائٹر جیٹ کو نہیں خریدے گا۔ اور اگر انڈیا وقت پر اپنے ففتھ جنریشن کی سیریل پروڈکشن شروع نا کر سکا تو مجھے وہ چیکمیٹ کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

دراصل روس کسی صورت نہیں چاہتا کہ انڈیا جیسا بڑا خریدار اسکے ہاتھ سے نکل جائے اسلئے ممکن ہے انڈیا کو زبردست ڈسکاونٹ پر یہ ایئر کرافٹس آفر کئے جائیں۔

اور جہاں تک رہی بات پاکستان کی تو پاکستان بھی ففتھ جنریشن ائیر کرافٹ تیار کر رہا ہے۔ جس کی اگلے آٹھ دس سالوں میں سیریل پروڈکشن شروع ہو جائے گی, بلاک تھری کے بعد بلاک 4 پر بھی کام شروع ہو چکا ہے۔ لہذا پاکستان اور روس کے درمیان ایسی کوئی ڈیل ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سنگل انجن ففتھ جنریشن ائیرکرافٹ پاکستان ائیر فورس کیلئے ایک آئیڈیل ایئرکرافٹ ہوگا کیونکہ ایسے ائیر کرافٹ کی آپریشنل لاگت بھی کم ہوتی ہے، مگر اب پاکستان خود انحصاری کی طرف گامزن ہے اور خریداری کرنی بھی پڑی تو اپنی ڈاکٹرائن کو دیکھتے ہوئے چین اور ترکی جیسے ممالک سے کی جائے گی۔

اسکے علاوہ ہر وہ ملک جو مگز استعمال کرتا ہے وہ روس کے اس نئے ائیرکرافٹ کا خریدار سمجھا جا سکتا ہے۔ اسلئے روس کو مڈل ایسٹ اور ایشیا میں بڑی تعداد میں کسٹمز ملین گے۔

چیکمیٹ ایس یو 75 کیسا ایئرکرافٹ ہے؟

چیکمیٹ کو روسی اداروں یونائٹڈ ایئرکرافٹ کارپوریشن اور روسٹیک نے تیار کیا ہے۔ یہ سنگل انجن سٹیلتھ ، ڈیلٹا ونگ ائیر کرافٹ ہے، روس کے مطابق اس فائٹر جیٹ کو پائلٹ کی مدد کیلئے لیٹسٹ ایونکس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ اسے گلاس کاکپٹ سے بھی لیس کیا گیا ہے. روس اسکا انمینڈ اور ڈوول سیٹ ورژن بھی تیار کرے گا۔ یاد رہے روس ایس یو 75 کو انمینڈ موڈ میں اڑا چکا ہے ۔

چیکمیٹ میں استعمال ہونے والا انجن اے ایل41 ہے۔ اس انجن کو روس ایس یو 57 میں تھری ڈی تھرسٹ ویکٹرنگ نوزلز کے ساتھ استعمال کر رہا ہے۔ اسکی میکسیمم سپیڈ ماک 2 اور رینج 3000 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔ جبکہ اسکی سروس سیلنگ 52000 فٹ ہے، پے لوڈ کیپیسٹی کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو یہ 7400 کلوگرام تک کے وزنی ہتھیار اٹھا سکتا ہے۔ اسکی بیلی میں دو انٹرنل ویپنز بے موجود ہیں جو کہ ہتھیاروں کو لے جانے کیلئے ہیں۔ سٹیلتھ موڈ میں یہ پانچ میزائل انٹرنل ویپنز بے میں کیری کر سکتا ہے۔

sukhoi 75 internal weapons' Carrying Capacity

روس نے اس ائیر کرافٹ کو بائیلکا اعئیسا ریڈار سے لیس کیا ہے جو کہ ائیر کرافٹ فارمیشن کے درمیان ریڈار انفارمیشن ایکسچینج کرنے کیلئے ایڈوانسڈ ڈیٹا لنک سے لیس ہے۔ اسکی ائیر ٹو ائیر ڈیٹیکشن رینج 400 کلومیٹر ہے۔ اس ریڈار کی خاص بات یہ ہے یہ ہے کہ یہ ریڈار ایک ہی وقت میں 60 ٹارگٹس کو ٹریک اور 16 کو انگیج کر سکتا ہے۔ اسکے علاوہ اس ائیر کرافٹ کو انفراریڈ سرچ اینڈ ٹریک سسٹم سے بھی لیس کیا گیا ہے۔

میرے مطابق

مجھے چیکمیٹ کے انٹیک کے علاوہ باقی ائیر فریم بہت خوبصورت لگا، میرے خیال سے اسکا انٹیک مزید خوبصورت بنایا جا سکتا تھا۔ اور جہاں تک رہی بات اسکی قابلیت کی تو بے شک روس نے اسے ماڈرن وارفئیر کیلئے ڈیزائن کیا ہے، تاہم یہ کتنا موثر ہے اسکے آپریشنل ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *