رستم ڈرون پروجیکٹ – ڈرون ٹیکنالوجی میں بھارت پاکستان کے مقابلے میں کہاں کھڑا ہے؟

رستم انڈیا کا یو اے وی پروجیکٹ ہے جس پر “ڈی آر ڈی او” کام کر رہا ہے۔ رستم کے اب تک تین ویرئنٹس تیار کئے گئے ہیں جن میں رستم 1، رستم ایچ اور رستم 2 شامل ہیں ،انڈیا کے اس یو اے وی کو جاسوسی اور نگرانی کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ تا ہم نئے ویرئنٹ کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ہتھیاروں سے بھی لیس کیا جائے گا۔

رستم 1

رستم 1 ایک چھوٹا ڈرون ہے جسے پہلی بار 2009 میں اڑایا گیا تھا، یہ شکل و صورت سے چین کے سی ایچ 3 ڈرون جیسا ہی ہے۔ یاد رہے پاکستان نے جب براق ڈرون
منظر عام پر لایا تھا تو چونکہ اسکا ائیر فریم چین کے سی ایچ 3 سے ملتا جلتا ہے تو انڈیا کی طرف سے کہا گیا تھا کہ یہ پاکستان کا ڈرون نہیں ہے، پاکستان نے چین سے سی ایچ 3 ڈرون خریدے ہیں۔ بحر حال پاکستان نے براق ڈرون رستم 1 سے پہلے تیار کیا تھا۔ رستم پہلی بار 11 نومبر 2009 کو اڑایا گیا تھا جبکہ براق نو مئی 2009 کو۔

Rustom 1 India

:رستم 1 تکنیکی معلومات

رستم 1 کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ یہ ٹوٹل 720 کلو گرام کا ڈرون ہے، شروع میں انڈیا نے اسکی تفصیلات میں بتایا تھا کہ یہ 75 کلوگرام تک کا پے لوڈ کیری کر سکتا ہے مگر جب پاکستان نے براق ڈرون سے برق میزائلوں کا ٹیسٹ کیا جو کہ دو میزائل یہ ڈرون کیری کرتا ہے اور یہ ایک میزائل 50 کلوگرام کا ہے تو بھارت جان گیا کہ براق کی پے لوڈ کیپیسٹی اسکے رستم سے بہت زیادہ ہے جسکے کچھ عرصے بعد بھارت کی طرف سے بھی رستم کی نئی تفصیلات جاری کی گئیں، جن میں اسکی پے کوڈ کیپیسٹی 95 کلوگرام بتائی گئی، رستم کے پے لوڈ میں جاسوسی و نگرانی کرنے والے سینسرز شامل ہیں اور یہ ویپن کو فائر نہیں کرتا۔ جبکہ براق 100 کلوگرام کے صرف ہتھیار اٹھاتا ہے جبکہ سینسرز اسکے علاوہ ہیں۔

نئی معلومات کے مطابق رستم ون 26000 فٹ کی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے ، اسکی سپیڈ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ اور رینج 250 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے۔ رستم 1 تقریباً 12 سے 15 گھنٹے تک پرواز کرسکتا ہے۔ اور اس میں 150 ہارس پاور انجن استعمال کیا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق رستم ون ایک سے دو بار کریش بھی ہو چکا ہے۔ اسکا موجودہ سٹیٹس یہ ہے کہ یہ ڈرون ابھی تک آپریشنل نہیں ہوا۔

رستم ایچ

رستم کا دوسرا ویرئینٹ رستم ایچ ہے۔ جسکا ائیر فریم رستم ون سے بالکل مختلف ہے۔ انڈیا کے مطابق اسکا ایچ ورژن ایک میل یو اے وی ہے۔ جو کہ انڈر ڈویلپمنٹ ہے۔

:رستم ایچ تکنیکی معلومات

اس ڈرون میں 100 100 ہارس پاور کے دو ٹربوپروپ ونگ ماونٹڈ انجن استعمال ہونگے، تفصیلات کے مطابق یہ ڈرون 32000 فٹ کی بلندی تک پرواز کرسکتا ہے، جبکہ 30000 فٹ پر رہتے ہوئے آپریشنز کو سر انجام دے سکتا ہے۔ اسکی میکسیمم سپیڈ 225 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ کروز سپیڈ 175 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ رستم ایچ
کی کمیونیکیشن رینج 250 کلومیٹر سے 350 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹم استعمال کیا جائے گا یا نہیں۔

Rustom H India

اسکی فلائٹ کا دورانیہ 18 سے 24 گھنٹے تک ہے۔ رستم ایچ کی پے لوڈ کیپیسٹی کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو یہ ٹوٹل 225 کلوگرام وزن اٹھا سکتا ہے۔ اسکے پے لوڈ میں الیکٹرو آپٹیکل/ انفراریڈ سینسرز
سینتھیٹک اپرچر ریڈار
میری ٹائم پیٹرول ریڈار
کمیونیکیشن انٹیلیجنس سسٹم
اور الیکٹرونک انٹیلیجنس سسٹم شامل ہیں۔ مختلف سورسز کے مطابق اسے جاسوسی و نگرانی کیلئے تو استعمال کیا جائے گا ہی مگر اسے ہتھیاروں سے بھی لیس کیا جائے گا۔

فلحال یہ ڈرون انڈر ڈویلپمنٹ ہے، ٹرائلز کے دوران یہ ڈرون بھی ایک سے زائد بار کریش ہو چکا ہے۔

رستم2

رستم 2 اس سیریز کا سب سے ایڈوانسڈ ورژن ہے رستم 2 دراصل رستم ایچ سے ہی ڈویلپ کیا گیا ہے۔ رستم 2 بھی رستم ایچ کی طرح میل ڈرون ہے۔ یوریشین ٹامز کے مطابق اس ورژن کو ہندوستان ائیروناٹکس لمٹڈ تیار کر سکتا ہے۔ اس ڈرون کو تپس یعنی ٹیکٹیکل ایڈوانسڈ پلیٹ فارم فار ایرئیل سرویلنس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس ڈرون کو تیار کرنے کیلئے مختلف انڈین کمپنیز دلچسپی لے رہی ہیں۔ اور زیادہ چانسز یہی ہیں کہ اسکو بنانے کی زمہ داری ہندوستان ایراناٹکس لمٹڈ کو دی جا سکتی ہے۔

اس ڈرون کے مختلف پرزوں کو پرائیویٹ ڈیفنس ایجینسیوں سے خریدا جائے گا اور ہندوستان ائیروناٹکس لمٹڈ لیڈ انٹیگریٹر کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ جبکہ ایویونکس الیکٹرونکس ،سینسرز اور گراونڈ کنٹرول سسٹمز تیار کرنے کیلئے بھارت الیکٹرونکس ادارے کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
رستم ٹو کے ڈیٹا لنک کی ڈویلپمنٹ اور انٹیگریشن غالباً ڈی آر ڈی او کے زمہ ہے۔

Indian Drone Rustom 2

:رستم 2 کی تکنیکی معلومات

رستم 2 میں فلحال 180 ہارس پاور کے انجن استعمال ہو رہے ہیں۔ مگر مستقبل میں انڈیا اسے ملکی سطح پر تیار کئے گئے 165 ہارس پاور یا 210 ہارس پاور انجنوں سے لیس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ نئے انجنوں کے ساتھ اس ڈرون میں پے کوڈ کیری کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ انٹیلیجنس، سرویلنس ٹارگٹ ایکوزیشن اور ریکونیسنس کیلئے اسکے پے لوڈ میں لانگ رینج الیکٹرو آپٹیک پے لوڈ، سینتھیٹک اپرچر ریڈار، الیکٹرونک انٹیلیجنس ، کمیونیکیشن انٹیلیجنس، آئی ایف ایف، ٹی سی اے ایس، یو سی آر شامل ہیں۔

جبکہ اٹیک کرنے کیلئے اسے ہتھیاروں سے بھی لیس کیا جائے گا۔ اسکے ہتھیاروں کے حوالے سے فلحال یہ تفصیلات میسر نہیں ہیں کہ اسے کونسے ہتھیاروں سے لیس کیا جائے گا۔ رستم 2 بھی تقریباً 32000 فٹ کی بلندی پر پرواز کر سکے گا جبکہ آپریشنز کو سر انجام دینے کیلئے اسے 30000 فٹ کی بلندی تک آنا ہوگا۔ فلحال رستم 2 نے اپنی ٹیسٹ فلائٹس میں یہ ٹارگٹ اچیو نہیں کیا۔ اسکی پرواز کا دورانیہ 18 گھنٹے سے 24 گھنٹے تک ہوگا۔ رستم 2 میں سیٹیلائٹ کمیونیکیشن سسٹم موجود ہے۔ اور اس سسٹم کے ساتھ اسے ٹیسٹ بھی کیا جا چکا ہے۔ اس کی رینج کے حوالے سے مختلف سورسز یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ رستم ٹو کی رینج 1000 کلومیٹر تک ہو سکتی ہے۔

انڈیا کے اس ڈرون کے فائنل ٹیسٹ اسی سال متوقع ہیں۔ جسکے بعد اسے آپریشنلائز کردیا جائے گا۔ اس ڈرون کو انڈیا کی تینوں فورسز استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، انڈیا کا ماننا ہے کہ اس ڈرون کی مدد سے پاکستان اور چین سے ملتی سرحدوں کی نگرانی کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان اور چین چونکہ ان مقاصد کیلئے سی ایچ سیریز اور ونگ لونگ ڈرونز استعمال کر رہے ہیں جن کی مدد سے ناصرف انڈیا کی جاسوسی کی جا رہی ہے بلکہ یہ ڈرونز لانگ رینج ہتھیاروں سے بھی لیس ہیں۔ لہذا انڈیا نے اس مقصد کیلئے اسرائیل کے ڈرونز لیز پر حاصل لئے ہیں۔ یہ ڈرونز ہتھیاروں سے لیس نہیں ہیں۔

:رستم سیریز پر ہماری رائے

انڈیا اور پاکستان نے ڈرون پروجیکٹس پر کام تقریباً ایک ہی وقت میں شروع کیا تھا۔ انٹیلیجنس، سرویلنس، ریکونیسنس کے علاوہ اٹیکس کرنا پاکستان کا گول تھا۔ جبکہ انڈیا نے رستم کو صرف انٹیلیجنس، سرویلنس اور ریکونیسنس کیلئے تیار کرنا تھا۔ بعد میں جب انڈیا نے پاکستان کو آرمڈ ڈرونز میں دلچسپی رکھتے ہوئے دیکھا تو اس نے رستم کو بھی ہتھیاروں سے لیس کرنے کیلئے کام شروع کر دیا ، جو کہ تا حال جاری ہے اور اب تک انڈیا اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔ چند سالوں میں پاکستان نے جاسوسی کرنے کیلئے چھوٹے ڈرونز بھی تیار کر لئے، اور حملہ کرنے کیلئے براق ڈرون تیار کیا گیا۔ اس ڈرون کو دہشت گردوں کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا جا چکا ہے۔ اس نے پہلے حملے میں ہی تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا، اور اب پاکستان سٹیلتھ ڈرونز کے پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔ اور امید ہے کہ جتنے عرصے میں براق اور دوسرے ڈرونز کو تیار کیا گیا پاکستان کے نئے ڈرونز اس سے بھی کم وقت میں تیار کر لئے جائیں گے۔ کیونکہ پاکستانی انجینئرز کو اب ڈرون ٹیکنالوجی پر کام کرنے میں کافی تجربہ ہو چکا ہے۔

دوسری جانب انڈیا کے سر کا تاج انڈیا کا سب سے بڑا دفاعی ادارہ ڈی آر ڈی او ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود رستم 1 کو بھی اس مقام تک نہیں لا سکا کہ بھارتی فورسز اسے استعمال کر سکیں اور انہیں کرائے کے ڈرونز نا استعمال کرنے پڑیں۔ رستم ایچ کی کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔ پاکستان آگے بڑھتا رہا اور انڈین ادارے اپنے ڈرونز کے پچھلے ورژنز کو نئے سسٹمز سے لیس کرنے میں مصروف رہے۔ انڈیا کے ڈرونز پروڈیوس کرنے میں پاکستان سے پیچھے رہنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ انڈین اداروں کے پاس ڈرونز کو تیار کرنے کا تجربہ نہیں تھا، جبکہ پاکستان نے اس حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھائے اور مقررہ وقت سے پہلے کامیابی ملی۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ انڈین ادارے پاکستانی ڈرونز کے مقابلے میں اپنے ڈرونز کو اپگریڈ کرتے رہے اور انھیں استعمال نہیں کیا گیا۔ جبکہ پاکستان نے عقاب اور شہپر جیسے ڈرونز کو تیار کیا اور انھیں استعمال کیا، میدان جنگ سے حاصل تجربات کی بنیاد پر انھیں نا صرف بہتر نظاموں سے لیس کیا بلکہ نئے ڈرونز بنانے میں ان تجربات کو بھی مد نظر رکھا گیا۔ پاکستان نے اپنی ڈرون ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کیلئے امریکہ کو فالو کیا۔ جو کہ اپنے ہتھیاروں کو جنگوں میں آزماتا ہے اور ان جنگوں سے حاصل تجارت کی بنیاد پر اپنے ہتھیاروں کو ایڈوانس شکل دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انڈین ہتھیار فیکٹریوں میں ہی اپگریڈ ہوتے رہتے ہیں۔ پھر آپ چاہے تیجس کی مثال لے لیں ارجن کی لے لیں یا رستم ڈرون پروجیکٹ کی۔ آج انڈینز کہتے ہیں کہ تیجس اور ارجن بہت ایڈوانسڈ سسٹمز سے لیس ہیں۔ اور کسی حد تک ان سے اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ایڈوانسمنٹ انڈین فورسز کے کام آ رہی ہے؟ کیا اتنا خرچہ کرکے بھی انڈیا ان ہتھیاروں کو اس پوزیشن پر لا سکا کہ انھیں کسی دوسرے ملک کو بیچا جا سکے؟ کیا انڈین دفاعی ادارے اس قابل ہیں کہ منافع کما سکیں اور جو ان اداروں کا بوجھ ملکی خزانے پر ڈالا گیا ہے اسے کم کر سکیں؟ ان سب سوالوں کا جواب آپ سب کو معلوم ہے۔

آج جب بھارت کے ادارے سٹیلتھ ڈرونز کے سکیل ماڈلز ایگزبیشنز میں رکھتے ہیں اور ساتھ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں اگلے 4 یا پانچ سالوں میں بنا کر فورسز کے حوالے بھی کر دیا جائے گا تو مجھے رستم کا خیال سب سے پہلے آتا ہے۔ جو کہ ابھی تک آپریشنل نہیں کیا جا سکا۔ حالانکہ اس ٹیکنالوجی پر اب تقریبآ دنیا کا ہر دوسرا ملک کام کر رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *