Murmansk-bn Russia new Electronic warfare system

نیا روسی الیکٹرانک وارفیئر سسٹم دشمن کو مفلوج کر سکتا ہے

روسی فوج اہم تنصیبات جیسے کہ فوجی بیرکوں ، صنعتی علاقوں، نیوکلیئر پاور پلانٹس، شہروں اور دیگر اہم علاقوں کی حفاظت کیلئے ڈیڈ زون بنا کر دفاعی ٹیکنالوجی کو ایک اور سطح پر لے جا رہا ہے۔

روس کے نئے الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کا نام مرمانسک بی این ہے اور اسے دشمن کی سیٹیلائٹس کو غیر فعال کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔جس میں امریکی جی پی ایس کروز میزائل، ڈرونز اور دیگر ہتھیار شامل ہیں جو اپنے اہداف کو درست طریقے سے نشانہ بنانے کے لئے نیویگیشن سسٹمز پر انحصار کرتے ہیں۔

air launched cruise missile

در اصل مرمانسک بی این الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کی مدد سے جی پی ایس سمیت غیر ملکی سیٹیلائٹ نیویگیشن سسٹمز کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ جس سے حملے کے وقت وہ تمام ہتھیار ناکارہ ہو جائیں گے جو نیویگیشن سسٹمز کی مدد سے احداف کو نشانہ بناتے ہیں۔

اس الیکٹرانک وارفیئر کی مدد سے ایک ہی وقت میں دشمن کے کئی کروز میزائلوں اور دوسرے ہتھیاروں کو مس ڈائریکٹ کیا جا سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر بھارت کراچی میں کسی فوجی تنصیبات پر ایک ساتھ کئی کروز میزائل فائر کر دیتا ہے۔ جو کہ سپر سانک اور ہائپر سانک ہیں اور انھیں انٹرسپٹ نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورت میں مرمانسک بی این جیسے سسٹمز کا استعمال کرکے ان تمام میزائلوں کا رخ سمندر یا ریگستان کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔

مرمانسک بی این کو 2022 تک پورے روس میں فعال کیا جائے گا۔ تاہم کچھ اطلاعات کے مطابق یہ سسٹم روس شام میں شدت پسندوں کے ڈرونز وغیرہ سے بچاؤ کیلئے پہلے سے استعمال کر رہا ہے۔ اور اہم تنصیبات کے کو الیکڑانک وارفئیر کے حفاظتی حصار میں رکھا گیا ہے ۔

Murmansk-bn Russia new EW

یاد رہے 2015 میں روس کے شام کی جنگ میں داخل ہونے کے بعد کچھ ائیرلائنز سمیت اسرائیلی لڑاکا طیاروں اور امریکی فوج نے جی پی ایس نیویگیشن سسٹم میں رکاوٹ کی اطلاع دینا شروع کر دی تھی۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق روس نے مرمانسک بی این نامی الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کو روس کے شمال میں آرکٹک کے ساحل پر تعینات کیا ہے۔ جو کہ بحری جہازوں، آبدوزوں، اور ہوائی جہازوں کے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے پر ان کے کمیونیکیشن اور نیویگیشن سسٹمز کو متاثر کرنے کیلئے ہے۔

اس حوالے سے ناروے نے بھی شکایت کی تھی یہ جیمنگ ٹیکنالوجی اسکے فضائی دفاعی نظام پر بھی اثرانداز ہو رہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *