10 reasons why jf 17 get customers and tejas didn't

عالمی مارکیٹ میں تیجس کے بجائے جے ایف سترہ کو خریدار ملنے کی دس وجوہات

عالمی مارکیٹ میں جے ایف سیونٹین کو تیجس کے مقابلے میں جو زیادہ اہمیت مل رہی ہے اسکی بہت سی وجوہات ہیں۔ جن میں سے 10 اہم ہیں ۔

پہلی وجہ ۔ تیجس کو بہت کم ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے یا یو کہہ لیں کہ تیجس کے ہتھیاروں میں ورائٹی نہیں ہے۔ اس طیارے کو بھارتی اور مغربی ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے اور کسٹمرز اس طیارے کو خریدنے کی وجہ سے بھارتی ساختہ ہتھیاروں کو بھی خریدنے پر مجبور ہوں گے اور بھارتی ساختہ ہتھیاروں کو خرید کر خریدار ملک رسک نہیں لینا چاہتے۔

Tejas Armaments 2021


جے ایف سیونٹین ایک ایسا طیارہ جسے فضا سے فضا ، فضا سے زمین، سپر سانک اور سب سانک اینٹی شپ میزائلوں سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ تیجس ان صلاحیتوں سے محروم سے۔ ہاں مستقبل میں بھارت اس طیارے کو ضرور جدید ہتھیاروں سے لیس کر ے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مگر موجودہ وقت کی بات کی جائے تو جے ایف سیونٹین کے ہتھیاروں میں بہت ورائٹی ہے ۔ اور یہ بڑی اہم وجہ ہے کہ کسٹمرز تیجس کے بجائے جے ایف سیونٹین کو خریدنا چاہتے ہیں۔

دوسری وجہ – یہ ہے کہ جے ایف سیونٹین کے زیادہ تر ہتھیار چینی ساختہ ہیں۔ جن کا ٹریک ریکارڈ کافی اچھا ہے۔ چین کے ٹاپ آف دی لائن ائیر کرافٹس انہی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ اور چین دوسرے ممالک کی طرح اپنی کسٹمر کے ساتھ سخت رویہ نہیں رکھتا ۔ اس لئے کوئی بھی ملک اگر جے ایف سیونٹین خریدتا ہے تو اسلئے بھی کہ چین کی طرف سے اسے کسی قسم کی پابندی کا ڈر نہیں ہو گا۔

تیسری وجہ – یہ ہے کہ چین کی سلامتی کونسل ویٹو ہے چین سے اسلحہ خریدنے والا کوئی بھی ملک سلامتی کونسل کے کسی بھی فیصلے پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ جبکہ بھارت چین کی طرح ان چند ممالک میں شامل نہیں ہے جن کے پاس ویٹو پاور ہے۔

Veto power countries URDU

چوتھی وجہ – یہ ہے کہ جو ممالک مگ 21 مگ 27 ، ایف 4 ایف 5 اور ایف 104 جیسے پرانے طیارے استعمال کر رہے ہیں جے ایف سیونٹین کم قیمت طیارہ ہونے کی وجہ سے ان ممالک کیلئے زبردست آپشن ہے۔ جے ایف سیونٹین جن صلاحیتوں کا حامل ہے اگر تیجس کو اس کے مدمقابل لایا جائے تو ایک تو وقت درکار ہوگا اور دوسرا اس طیارے کی قیمت میں بہت اضافہ ہو جائے گا۔ تو کوئی ملک ایک کم قیمت اور جو پہلے ہی مختلف ائیر فورسز کا اعتماد حاصل کر چکا ہے اس طیارے کو چھوڑ کر ایک مہنگا طیارہ کیوں خریدے گا جسے اپنی ائیر فورس نے بھی برائے نام شامل کر رکھا ہے۔

پانچویں وجہ – یہ ہے کہ تیجس ایک بہت ہی کنفیوزڈ ائیرکرافٹ ہے جو کہ کسی بھی مارکیٹ سیگمنٹ میں فٹ نہیں آتا ۔

چھٹی وجہ – یہ ہے کہ جے ایف سیونٹین ایک آزمایا ہوا پلیٹ فارم ہے اور ایک عرصے سے استعمال ہو رہا ہے۔ اسے جب سے پاکستان ائیر فورس میں شامل کیا گیا اس میں بہتری لائی جاتی رہی۔ اب یہ طیارہ دنیا کے ان چند گنے چنے بہترین ملٹی رول طیاروں میں شامل ہوتا ہے جنہوں نے کافی نام کما رکھا ہے۔

JF 17 With Other Aircrafts

ساتویں وجہ – یہ ہے کہ تیجس کے بارے کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔ اسکی تیاری میں مختلف ممالک سے حاصل کردہ ہارڈویئر استعمال ہوتے ہیں۔ اور اس طیارے نے ابھی تک ایسا کچھ بھی ثابت نہیں کیا جس بنیاد پر خریدار ملک اسے چنیں۔ پاکستان ائیر فورس اپنے پرانے طیاروں کو ریٹائر کرکے تیزی سے ان کی جگہ جے ایف سیونٹین شامل کر رہی ہے۔ اس بات سے بھی دوسرے ممالک کا اعتماد اس طیارے پر بڑھ جاتا ہے کہ یہ طیارہ پرانے طیاروں کو ریٹائر کر کے انکی جگہ شامل کرنے کے لئے بہترین آپشن ہے۔

آٹھویں وجہ – ری ایکسپورٹ کے حوالے سے ہے۔ جے ایف سیونٹین میں زیادہ تر چینی آلات استعمال ہوتے ہیں جبکہ انجن روسی ہے۔ اور یہ سب کسی بھی تیسرے ملک کو ری ایکسپورٹ یعنی دوبارہ برآمد کئے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جیسے پاکستان نے مختلف ممالک سے پرانے میراج طیاروں کو خریدا اور انھیں نئی زندگی دی اور پہلے سے بھی کہیں زیادہ خطرناک بنا کر پاکستان ائیر فورس کے حوالے کیا گیا۔

Pakistan air force Mirages

نویں وجہ – یہ ہے کہ تیجس میں امریکی انجن ، اسرائیل ریڈار دوسرے الات مختلف ممالک سے لے کر انسٹال کئے گئے ہیں اور یہ ممالک ری ایکسپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

دسویں وجہ – یہ ہے کہ تیجس کا کوئی بھی بڑا آپریٹر نہیں ہے یہاں تک کہ بھارتی ائیر فورس بھی۔ دنیا جانتی ہے کہ اسکے چند یونٹس کو کیسے ائیر فورس کے حوالے کیا گیا ہے۔ بھارتی ائیر فورس تیجس کو چھوڑ کر جب دوسرے ممالک سے طیارے خریدنے کی تجویز دیتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں اس طیارے پر کسٹمرز کا اعتماد مزید کم ہو جاتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *