why india need Future ready Tanks

ارجن ٹینک ناکام؟ بھارت نئے ٹینک میں کیا چاہتا ہے؟

بھارت 2030 تک 1700 نئے جنگی ٹینک خریدے گا اور پرانے ٹی 72 ٹینکوں کو ریٹائر کر دے گا۔

گزشتہ دنوں دی پرنٹ نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ بھارت اگلے 9 سالوں میں تقریبآ 1700 نئے ٹینکس خریدے گا جو کہ مین بیٹل ٹینک کے طور پر استعمال ہوگا۔ آرٹیکل میں لکھا گیا کہ یہ 1700 ٹینکس ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کے تحت خریدے جائیں گے۔ جو کہ نا صرف فیوچر ریڈی ہوں گے بلکہ ہر طرح کے علاقے میں آپریٹ کئے جا سکیں گے۔ اس وقت بھارتی فوج کے پاس لائٹ مین بیٹل ٹینک ٹی 90 ہے جس کا وزن 46 ٹن ہے۔ یہ ٹینک چین کے ساتھ ملتی سرحد پر بھی تعینات کیا گیا ہے ،اسکے ساتھ ٹی 72 ٹینکوں کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ نیا ٹینک ریموٹ ویپن سٹیشن کے علاوہ اینٹی ائیر وارفیئر کی بھی صلاحیت رکھتا ہو، تاکہ دشمن کے ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کو تباہ کیا جا سکے۔

India new Battle tank features

ساتھ بھارت ارجن ٹینک بھی استعمال کر رہا ہے جو کہ ایک ہیوی ویٹ ٹینک ہے۔ بھارت یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ارجن ٹینک ایک نیو جنریشن ٹینک ہے اور پاکستانی ٹینکوں سے بہتر ہے، بھارت کا یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے دنیا اچھی طرح سے جانتی ہے، بھارت جب خود ٹینک تیار کر سکتا ہے تو نیا ٹینک اتنی بڑی تعداد میں کیوں خریدا جا رہا ہے۔ اگر بھارت کو ایک کم وزن اور ہر طرح کے انوائرمنٹ میں کام کرنے کے قابل ٹینک کی ضرورت ہے جو کہ ارجن ٹینک نہیں ہو سکتا، تو بھارت خود ایک نیا ٹینک ڈیزائن کر سکتا ہے۔ اسے کسی دوسرے ملک سے ٹینک کی ٹیکنالوجی حاصل کرکے اس پر کام کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟ بھارت کو 35 سالہ تجربہ بھی تو ہے۔

در اصل بھارت کا ارجن ٹینک ایک سفید ہاتھی ہے۔ یہ پروجیکٹ کرپشن کی نظر ہو چکا ہے، 35 سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود ارجن بھارتی فوج کا پرائمری ٹینک نہیں بن سکا۔ بھارت کی حفاظت ابھی بھی روسی ٹینک کر رہے ہیں۔ اس وقت بھی بھارت نے صرف 118 ارجن ٹینک مزید بنانے کیلئے آرڈر دے رکھا ہے جبکہ کسی دوسرے ملک کا ٹینک 1700 سے بھی زائد کی تعداد میں خریدا جا رہا ہے۔

اسکے مقابلے میں اگر پاکستان کو دیکھا جائے تو پاکستان ہر سال تقریباً پچاس ٹینکس بنا کر اپنی فوج کے حوالے کرتا ہے۔ بے شک پاکستان نے بھی الخالد کے ہوتے ہوئے وی ٹی 4 ٹینک خریدا جسکا جواب فلحال بھارت کے پاس موجود نہیں ہے۔ مگر پاکستان نے اسے اسلئے خریدا کیونکہ وی ٹی 4 الخالد 1 کی نسبت زیادہ جدید ہے۔ جبکہ بھارت دعویٰ کرتا ہے کہ اسکا ارجن ٹینک دنیا کے کسی ٹینک سے کم نہیں اور ایسے دعوے کرنے کے باوجود بھارتی افواج ارجن کم اور خریدے گئے ٹینکس زیادہ استعمال کرتی ہیں۔

indian army tanks

پاکستان نے کبھی ایسے دعوے نہیں کئے، پاکستان تیزی سے الخالد کی جدت پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔دراصل وی ٹی 4 نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خریدا گیا ہے۔ اسکے علاوہ ہم نے بڑی تعداد میں الخالد اے 1 بھی فوج کے حوالے کر دیئے ہیں اور الخالد 2 بھی مکمل ہونے کے قریب ہے۔ پاکستان زیادہ تر ملکی سطح پر ٹینکس تیار کرتا ہے۔ الخالد پاکستان کا پرائمری ٹینک ہے۔اور اگر پاکستان نے وی ٹی 4 ٹینک خریدے ہیں تو ملکی سطح پر بھی پاکستان بڑی تعداد میں ٹینکس تیار کر رہا ہے۔

بھارتی افواج کا اپنے ہتھیاروں پر کم بھروسہ ایک بڑی وجہ ہے کہ بھارت کو اپنے ہتھیاروں کے گاہک نہیں ملتے۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کار بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت سے زیادہ پاکستان ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ ارجن ٹینک ناقابل اعتبار ہے اور اسکی خراب کارکردگی کی وجہ سے بھارت اسے کسی ملک کو فروخت بھی نہیں کر پایا۔ ظاہر ہے خریدار ملک یہ ضرور سوچے گا کہ ارجن بنانے والا ملک خود 1700 ٹینکس ٹیکنالوجی کے ساتھ کسی اور ملک سے خرید رہا ہے ، تو وہ کیوں ارجن خریدے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *