بھارت ایئرکرافٹ کیرئیر استعمال کرنے سے کیوں ہچکچا رہا ہے

بھارت ایئرکرافٹ کیرئیر استعمال کرنے سے کیوں ہچکچا رہا ہے

بحر ہند میں انڈیا کی نیوی کو ایک بڑی اور طاقتور نیوی تصور کیا جاتا ہے، تاہم چینی نیوی دنیا کی سب سے بڑی نیوی کے طور پر ابھری ہے اور جنگ کیلئے تیار رہتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انڈین نیوی بظاہر اتنی طاقت رکھتے ہوئے محاز آرائیوں سے کیوں پیچھے ہٹ رہی ہے؟

انڈین کیرئیر ڈویلپمنٹ کی تاریخ 1960 کی دہائی کے اوائل کی ہے، لیکن یہ ایئرکرافٹ کیرئر گزشتہ جنگوں میں محدود کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چینی نیوی کا تیسرا ایئرکرافٹ کیرئیر اس وقت تیار ہو رہا ہے، اور حال ہی میں سیٹیلائٹ کی مدد سے حاصل کردہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹائپ 003 ایئرکرافٹ کیرئیر تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔ اس ایئرکرافٹ کیرئیر کے حوالے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ چینی نیوی میں اب تک کا سب سے بڑا ایئرکرافٹ کیرئیر ہوگا۔

چین نے اپنا پہلا ائیر کرافٹ کیرئیر لیاوننگ 2012 میں استعمال کرنا شروع کیا ،جبکہ دوسرا شین ڈانگ 2019 میں چینی نیوی میں شامل کیا گیا۔ جبکہ تیسرا ایئرکرافٹ کیرئیر جو کہ تیاری کے آخری مراحل میں ہے یہ فلیٹ ڈیک کا حامل ہوگا اور اس میں وزنی طیاروں کو لانچ کرنے کی صلاحیت ہوگی، چین کے اس ائیر کرافٹ کیرئیر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے چین مستقبل میں ایٹمی توانائی سے چلنے والے ائیر کرافٹ کیرئیر میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اور ایسا کرنے سے چین دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہو جائے گا جو ایٹمی توانائی سے چلنے والے ائیر کرافٹ کیرئیرز استعمال کرتے ہیں، فلحال امریکہ اور فرانس ہی ایٹمی توانائی سے چلنے والے ایئرکرافٹ کیریئر استعمال کر رہے ہیں۔ چین کے نئے تیار کئے جانے والے ٹائپ 003 ایئرکرافٹ کیرئیر کو سائز اور صلاحیتوں کے اعتبار سے امریکہ کے کٹی ہاک کلاس ایئرکرافٹ کیرئیر سے کمپیئر کیا جاتا ہے۔ ٹائپ 003 کو 2021 میں ہی لانچ کیا جائے گا جب کہ اسکی نیوی میں شمولیت 2025 میں متوقع ہے۔

Type 003 aircraft carrier URDU

انڈین ائیر کرافٹ کیرئیرز

آزادی کے بعد انڈیا نے چین اور سویت یونین کے برعکس جنہوں نے آبدوزوں میں بھاری سرمایا کاری کی، اسکے برعکس انڈیا نے ائیر کرافٹ کیرئرز کی ترقی پر توجہ دی۔

آئی این ایس وکرانت نے 1961 سے 1997 تک انڈین نیوی میں اپنی خدمات سر انجام دیں۔ جبکہ آئی این ایس ویرات 1987 سے 2016 تک سروس میں رہا۔ آئی این ایس وکرم ادتیہ جو کہ 2014 سے سروس میں ہے ، 20 مگ 29 لڑاکا طیاروں اور یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹروں کو آپریٹ کر سکتا ہے۔


INS Vikramaditya Indian Aircraft Carrier

انڈیا کی کیرئیر فورس کو تین مقاصد کیلئے تیار کیا گیا ہے

پہلا پاکستان کے خلاف کنوینشل جنگ کو سپورٹ کرنا اور پاکستان نیوی کی تنصیبات اور زمینی اڈوں کو نشانہ بنانا۔

دوسرا یہ کہ بحر ہند کے خطے میں ائیر کرافٹ کیرئیرز انڈین نیوی کو اولین طاقت بننے میں مدد دے سکتے ہیں اور اسے کسی بھی غیر ملکی حریف سے بہتر پوزیشن پر رکھتے ہیں۔ برطانیہ امریکہ یا فرانس کی طرح چین کے مقابلے میں انڈین ائیر کرافٹ کیرئیرز کو بحر ہند میں اڈوں اور معاون سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔

اور تیسرا چین اور ابھرتا ہوا جیو پولیٹیکل مقابلہ ہے۔ چین کو انڈیا جیسا ایئرکرافٹ کیریئرز کا تجربہ حاصل نہیں ہے تاہم چین کے پاس جہاز سازی کی ایک موثر صنعت ہے۔

جنگی ماحول میں انڈین ائیر کرافٹ کیرئیرز کا کردار

انڈیا کو ائیر کرافٹ کیرئیرز استعمال کرتے ہوئے تقریباً نصف صدی گزر چکی ہے، اس دوران انڈیا کا مختلف ممالک کے ساتھ تصادم بھی ہوا ،جن میں 1961 میں پرتگال کے ساتھ، 1962 میں چین کے ساتھ، اور پھر تین مرتبہ پاکستان کے ساتھ جو کہ 1965 میں پھر 1971 میں اور پھر 1999 میں ہوا

ان تمام جنگوں میں انڈین ائیر کرافٹ کیرئیرز کا کردار محدود رہا ہے، یعنی کسی بھی جنگ میں انڈین نیوی نے اپنے ائیر کرافٹ کیرئیرز کو پوری صلاحیت سے بروئے کار نہیں لایا۔ آئی این ایس وکرانت آپریشن وجے کا حصہ نہیں تھا انڈیا نے 1961 میں گواہ کو آزاد کروانے کی کوشش کی تھی, برطانوی آبدوزوں کے خوف اور پرتگالی دفاع سے متعلق ناکافی معلومات کی وجہ سے انڈیا نے اپنے بحری آپشن کو نظر انداز کر دیا۔

1962 میں بھی چین کے ساتھ ہوئی جنگ میں ائیر کرافٹ کیرئیر کو استعمال نہیں کیا کیا اور یہاں تک کہ اسے استعمال کرنے پر غور بھی نہیں کیا۔ جسکی وجہ یہ تھی کہ انڈیا کو طیاروں کے کیرئیر سے استعمال کرنے کا تجربہ نہیں تھا اور وہ چین کے ساتھ محدود جنگ ہی لڑنا چاہتا تھا۔ انڈیا چین کی جنگ میں انڈین ائیر فورس کو بھی استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ انڈیا کے اس فیصلے پر آج بھی تنقید کی جاتی ہے۔

1965 کی پاکستان انڈیا کی جنگ میں انڈین نیوی کو اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملا لیکن اس وقت آئی این ایس وکرانت ممبئی کی بندرگاہ پر تھا ۔ اور اس وقت اس پر کچھ کام جاری تھا۔ اسکے فضائی سکواڈرن کو ائیر فورس کی آپریشنل کمانڈ کے تحت رکھا گیا تھا۔

پاکستان کو توڑنے کیلئے لڑی جانے والی 1971 کی جنگ میں آئی این ایس وکرانت کو ابتدا میں سفر کرنے کیلئے نا اہل سمجھا گیا تھا۔کیونکہ اسکے بوائلر میں کچھ مسائل تھے۔ آخر کار اسے خلیج بنگال میں تعینات کیا گیا لیکن وہ اپنے طیاروں کو اڑانے میں ناکام ہی رہا۔

کہا جاتا ہے کہ انڈین نیوی نے آئی این ایس وکرانت کو خلیج بنگال میں تعینات کا کرنے کا انتخاب اس لیے کیا تھا کیونکہ وہاں کوئی پاکستانی بحری خطرہ نہیں تھا، وہاں بھی خراب موسمی صورت حال کی وجہ سے وکرانت پر موجود سی ہاک طیارے کم وقت کیلئے دستیاب رہے۔ پاکستان کے ساتھ 1999 کی کارگل جنگ کے دوران آئی این ایس ویرات عروج پر تھا۔ لیکن ایک بارپھر انڈین نیوی کو استعمال نہیں کیا گیا۔

سرمایہ کاری کا فقدان؟

بحر ہند کے خطے میں انڈیا اپنی نیوی پر دوسروں کی نسبت بہت کم خرچ کر رہا ہے۔ سال 2017 اور 18 کے اعداد وشمار کے مطابق انڈیا کے مجموعی فوجی اخراجات کا صرف 15 فیصد نیوی پر خرچ ہوا، جو کہ قواڈ میں اسکے کاؤنٹرپارٹس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

دوسری طرف یہ خیال کیا جاتا ہے کہ چین اپنی فوج پر مجموعی طور پر انڈیا سے تین گناہ زیادہ خرچ کرتا ہے اسی سال کے دوران انڈین نیوی نے 5.2 بلین ڈالر کی درخواست کی تھی لیکن اس کے لیے صرف 2.9 بلین ڈالر مختص کیے گئے، جس کا شاید نئی خریداری یا جدیدکاری پر منفی اثر پڑے گا۔

انڈیا کے پاس مطلوبہ اثاثے ہیں

ایڈمرل شیکھر سنہا ریٹائرڈ کہتے ہیں کہ انڈین نیوی کے پاس مطلوبہ اثاثے موجود ہیں۔ ہم اپنے خطرات کے تاثرات کو دیکھتے ہیں، ہمیں بحرالکاہل کے خطے اور بحرالکاہل میں وسیع تر دنیا میں اپنی بحری مواصلات کی حفاظت کے لیے اس پوزیشن میں ہونا چاہیے۔ اور جو بھی اثاثے درکار ہیں وہ اثاثے یا تو دستیاب ہیں یا جلد دستیاب ہوں گے۔ انڈین نیوی کا وکرانت ایئرکرافٹ کیرئیر تعمیر ہو ہو رہا ہے اور جلد آزمائشوں کیلئے میسر ہو گا۔

ایڈمرل سے جب چین کے مقابلے میں انڈیا کی بحری صلاحیت کے بارے میں پوچھا گیا یا تو انھوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے عزائم مختلف ہیں۔ چین ائیرکرافٹ کیرئیرز اور اور دوسرے نیول تنصیبات تیار کر رہا ہے کیونکہ اسے معاشی و عسکری طور پر امریکہ سے زیادہ طاقتور ملک بننا ہے۔ جبکہ انڈیا کے یہ عزائم نہیں ہیں انڈیا اپنے دفاع کیلئے تیاری میں مصروف ہے۔

ایڈمرل نے کہا ہے کہ چین ہماری معیشت سے پانچ گنا زیادہ ہے، چین کے پاس بہت بڑی نیوی ہے اور اسی وجہ سے ہم کسی مقابلے میں نہیں ہیں، ہاں ہمارے پاس اثاثے ہیں اور کچھ مزید اثاثے نیوی میں شامل کیے جائیں گے، جو چین کو انڈیا کے خلاف کسی فوجی کاروائی سے باز رکھنے میں مدد دیں گے، انھوں نے کہا ہے کہ انڈین نیوی بحر ہند میں ابھی بھی بالادستی قائم کئے ہوئے ہے۔

ریٹائرڈ ایڈمرل کے مطابق چین کے لئے بحر ہند میں ایئر کرافٹ کیریئر کے عمل کو برقرار رکھنا بہت آسان نہیں ہوگا کیونکہ کہ ایئرکرافٹ کیرئیر کسی کمپیوٹر گیم کی طرح نہیں ہے جسے آپ خریدتے ہیں اور کھیلتے اور سیکھتے ہیں۔ ایئر کرافٹ کیریئر کو چلانے کے لیے تکنیک اور مہارت کو استعمال کرنے میں برسوں درکار ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *