Hisar Air Defense Missile System Variants and thier capabilities Urdu

ترکی کا حصار ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم

ترکی واحد مسلمان ملک ہے جس کی دفاعی انڈسٹری بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ترکی نے تقریباً ہر طرح کا ہتھیار ملکی سطح پر تیار کر لیا ہے اور آئے دن کسی نا کسی ہتھیار کو ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

تین مئی کو بھی ترکی نے سٹیٹ آف دی آرٹ ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم حصار کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور آج اسی ائیر ڈیفنس سسٹم کے ہر ایک ورژن کے بارے میں آپ جان سکیں گے۔ حصار ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم کے چار ویرئنٹس ہیں۔ جو کہ مختلف رینج کے حامل ہیں۔ جن میں حصار اے ، حصار او ،حصار یو اور حصار آر ایف شامل ہیں۔ ترکی نے نا صرف ان سسٹمز کو تیار کیا بلکہ اب انھیں اپگریڈ بھی کر رہا ہے۔

حصار اے شارٹ رینج کا حامل ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم ہے۔ یہ ایک اے سی وی 30 گاڑی پر نسب کیا گیا ہے جو کہ ایک ریڈار الیکٹرو آپٹک سسٹم اور چار میزائلوں پر مشتمل ہے۔

یہ کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں، ہیلی کاپٹروں، ڈرونز ، کروز میزائلوں اور فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کو مار گرانے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ اسے آرمرڈ گاڑی پر نسب کرنے کا مقصد اسے میدان جنگ میں ٹینکوں اور دوسری فوجی گاڑیوں کے ساتھ بھیجنا ہے تاکہ فضائی حملوں سے انہیں بچایا جا سکے۔

Hisar A Air defense system URDU

حصار اے کا مار نامی موبائل سرچ ریڈار اپنے احداف کو 70 کلومیٹر کے فاصلے سے دیکھ سکتا ہے جبکہ 25 کلومیٹر کے فاصلے سے انھیں ٹریک کر سکتا ہے۔ اور تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر نشانہ بنا سکتا ہے۔ مار ریڈار ایک ایکس بینڈ تھری ڈی سرچ اینڈ ٹریک ریڈار ہے۔ جو کہ ایکٹیو فیزڈ ارے انٹینا سے لیس ہے۔ مار موبائل سرچ ریڈار بہت سی خوبیوں کا حامل ریڈار ہے جن میں ایک اس کا الیکٹرونک کاونٹر کاونٹرمیزر سے لیس ہونا ہے۔

حصار چونکہ میدان جنگ میں دوسری فوجی گاڑیوں کی حفاظت کیلئے تیار کیا گیا ہے تو اسے نیوکلیئر، بائیولوجیکل، اور کیمیکل پروٹیکشن سے لیس کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ یہ بیلسٹک پروٹیکشن سے بھی لیس ہے۔ حال ہی میں اسکے اپگریڈڈ ورژن کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس تجربے کے بعد اب حصار اے کو دفاع میں شامل کر لیا جائے گا۔

حصار او ایک شارٹ سے میڈیم رینج کا حامل ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم ہے جس میں ریڈار، میزائل لانچرز ، کمیونیکیشن سسٹمز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم شامل ہیں۔

یہ ائیر ڈیفنس سسٹم کالکن نامی اعئیسا ریڈار استعمال کرتا ہے۔ جو کہ ایکس بینڈ ٹرانسمشن فریکوئنسی کا حامل ہے۔ یہ تھری ڈی ٹارگٹ سرچ اینڈ ٹریک کی صلاحیت کا حال ہے۔ اس کی ٹارگٹ کو دیکھنے کی رینج 100 کلومیٹر جبکہ ٹریک کرنے کی 60 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔ کالکن ریڈار 10 کلومیٹر بلندی تک ٹارگٹس کو دیکھ کر سکتا ہے ۔

Hisar O Air defense system URDU

حصار او اور حصار اے میں استعمال ہونے والے میزائلوں میں ایک ہی طرح کے سیکرز، فیوز اور ڈوول پلس راکٹ موٹر استعمال ہوتی ہے۔ مگر حصار او کا میزائل سائز میں بڑا ہے جس کی وجہ اس میزائل کی رینج بڑھانا ہے۔

حصار او ایک وقت میں 60 ٹارگٹس کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور اسکی ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی رینج 25 کلومیٹر ہے۔ یہ سسٹم بھی طیاروں، ہیلی کاپٹروں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ حصار او کی پروڈکشن اگلے سال شروع ہونے کے امکانات ہیں۔ ترکی اسکا اپگریڈڈ ورژن بھی تیار کر رہا ہے جسکا نام “حصار او پلس” ہے.

حصار آر ایف در اصل حصار او کا ہی ریڈار گائیڈڈ ورژن ہے۔ یہ میڈیم رینج کا حامل ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم ہے جس کی رینج 50 کلومیٹر ہے۔

حصار یو ترکی کا لانگ رینج ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم ہے۔ یہ سسٹم تیاری کے مراحل میں ہے اور غیر سرکاری معلومات کے مطابق 2022 میں اسے تیار کر لیا جائے گا جبکہ 2026 تک اسے دفاع میں بھی شامل کر دیا جائے گا۔ اس سسٹم کے حوالے سے زیادہ معلومات میسر نہیں مگر جو معلومات میسر ہیں ان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم زبردست صلاحتیوں کا حامل ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اس میں “ای ائی ار ایس” نامی ارلی وارننگ ریڈار استعمال کیا جائے گا جو کہ 600 کلومیٹر سے زیادہ رینج کا حامل ہوگا۔ اس رینج میں یہ ریڈار فضا میں ہر طرح کے ٹارگٹس کو ٹریک کر سکے گا۔ اسکی تیاری ترکش کمپنی اسلسن کے زمہ ہے۔ ترکی کے مطابق یہ نیو جنریشن ایس بینڈ اعئیسا ریڈار ہے جو کہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل ٹارگٹس کو لمبے فاصلے سے ٹریک کر سکے گا۔ اس ریڈار کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہ ایک ہی وقت میں 300 سے زائد ٹارگٹس کو ٹریک کر سکتا ہے۔

Longest Range early warning radar Eirs Turkey Urdu

حصار یو کا دوسرا ریڈار “کیفرڈ” ہے جو کہ 450 کلومیٹر رینج کا حامل ہے۔ یہ ریڈار نیوی کے استعمال کیلئے تیار کیا گیا ہے۔

حصار یو ناصرف لمبے فاصلے تک مار کر سکے گا بلکہ انتہائی بلندی پر پرواز کرتے ہر طرح کے ٹارگٹس کو نشانہ بنا سکے گا۔ فلحال اس حوالے سے تفصیلات میسر نہیں ہیں کہ کتنی بلندی تک یہ مار کرسکے گا۔ حصار یو کا میزائل راکٹسان نامی ترکش کمپنی تیار کر رہی ہے۔

حصار ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم پر 2007 میں کام شروع کیا گیا۔ اس سسٹم کو ترکی کی دو کمپنیوں اسلسن اور راکٹسان نے ملک کر تیار کیا ہے۔ نئی جنریشن کے اس ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم کو تیار کرکے ترکی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس طرح کے ہتھیار بنانے میں کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے پیچھے نہیں ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *