harpoon anti ship missile and pakistan india

ہارپون میزائل اور پاکستان انڈیا

امریکہ نے انڈیا کو ہارپون میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ انڈیا کی نیوی کے پاس روسی ساختہ سپر سانک اور سب سانک اینٹی شپ میزائلز موجود ہیں۔ یہاں تک کہ براہموس میزائل جو کہ انڈیا کی تینوں فورسز کے پاس موجود ہے اس میزائل کے ہوتے ہوئے انڈیا کو ایک ایسے میزائل کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی جو سپیڈ اور رینج میں انڈین نیوی کے پاس موجود میزائلوں سے بہتر نہیں ہے۔ اسکے علاوہ پاکستان نیوی کے پاس ہارپون میزائل کے حوالے سے بھی اس آرٹیکل میں لکھا گیا کہ اس میزائل کا اپگریڈڈ ماڈل نا ملنے پر پاکستان نے اسکا حل کیا نکالا۔

ہارپون میزائل کیسے وجود میں آیا

سرد جنگ کے دوران اکتوبر 1967 میں ایک ایسا حیران کن واقع پیش آیا، جس نے نیول وارفئیر کو بدل کر رکھ دیا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایگ گن بوٹ نے سویت یونین کا تیار کردہ “سٹیکس” اینٹی شپ میزائل 24 کلومیٹر کے فاصلے سے فائر کرکے 1700 ٹن اسرائیلی ڈسٹروئیر کو تباہ کر دیا۔ سویت یونین نے اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے اس کانسیپٹ کو آگے بڑھایا اور مزید بہتر اینٹی شپ میزائل بنانا شروع کر دیے۔

اس واقعے پر امریکی نیوی کے آفسران حیران رہ گئے، کیونکہ وہ اس وقت اینٹی شپ میزائلوں کے خطرے سے آگاہ نہیں تھے، امریکہ اس وقت ایک ایسے میزائل پر کام کر رہا تھا جو سرفس سبمیرینز کے خلاف استعمال کرنے کیلئے بنایا جانا تھا، یہ ہارپون میزائل ہی تھا۔ اس پروجیکٹ میں تیزی لائی گئی اور دفاعی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ایک ایسا میزائل تیار کیا گیا جو ایئرکرافٹس ، سرفس شپس اور سبمیرینز سے فائر کیا جا سکتا تھا، اور ہر طرح کے موسم میں کارآمد بھی تھا، یہ میزائل سرفس سبمیرینز کے علاوہ دوسری سرفس فلیٹ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا تھا۔

ایران عراق جنگ میں اسے آزمانے کے بعد اس پر مزید کام کیا گیا اور ہارپون میزائلوں میں بہتری لائی جاتی رہی، اس میزائل کی خصوصیات اور ٹیکنالوجی سے بہت سی نیویز متاثر ہوئیں اور امریکہ کو اس زبردست میزائل کے گاہک بھی ملنا شروع ہو گئے ، اس وقت بھی اس میزائل کو پاکستان سمیت دنیا کے 33 ممالک استعمال کر رہے ہیں۔

ہارپون میزائل ایک سب سانک، سی سکیمنگ کا حامل میزائل ہے۔ اسے دنیا کے کامیاب ترین اینٹی شپ میزائل کا اعزاز حاصل ہے۔ ہارپون کے اپ تک مختلف ویرئنٹس تیار کئے جا چکے ،جن میں بلاک 1 بلاک 2 بلاک 2 + اور بلاک 2 پلس ایکسٹنڈڈ رینج شامل ہیں۔ اس میزائل کی رینج 124 کلومیٹر ہے۔ جبکہ اسکے ایکسٹنڈڈ رینج ورژن کی رینج 310 کلومیٹر ہے۔

یاد رہے ہارپون کو طیاروں فریگیٹس اور سبمیرینز سے لانچ کیا جاتا ہے اور ہر پلیٹفارم سے لانچ ہونے والے ہارپون میزائل کے ویرئنٹس کی رینج مختلف ہے۔

ہارپون انڈیا کیلئے

امریکہ نے انڈیا کو 82 ملین ڈالر کے ہارپون میزائل فروخت کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس ڈیل میں سپئیر پارٹز، مینٹیننس اور ٹریننگ وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یقیناً آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ انڈین نیوی کے پاس اس وقت براہموس سمیت دوسرے سپر سانک اور سب سانک میزائل موجود ہیں اور یہ میزائل ناصرف لانگ رینج ہیں بلکہ سی سکیمنگ کے بھی حامل ہیں۔ پھر انڈین نیوی کو ہارپون کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے۔ یاد رہے سی سکیمنگ ایک زبردست خصوصیت ہے جسکے حامل میزائل کو مار گرانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ سی سکیمنگ ایک ایسی ٹیکنیک ہے جو کہ ریڈار سے بچنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ میزائلوں کے علاوہ فائٹر ایئرکرافٹس بھی اس ٹیکنیک کو استعمال کرکے دشمن کو سرپرائز دیتے ہیں۔

اس وقت انڈین نیوی کے پاس روسی ٹیکنالوجی کے حامل میزائل موجود ہیں۔ پچلے کچھ عرصے سے انڈیا اپنے ہتھیاروں میں مغربی ہتھیاروں کو شامل کر رہا ہے اور لگاتار روس پر انحصار کم کر رہا ہے۔ روس اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے پاکستان چین کے بلاک میں شامل ہو چکا ہے اور انڈیا اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے قواڈ میں شامل ہو چکا ہے۔ انڈیا اس وقت خود ہارپون جیسا میزائل تیار کرنے کا اہل نہیں ہے۔ براہموس بھی انڈیا نے روسی انجینئرز اور ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیا ہے۔ لہذا انڈیا اینٹی شب اور کروز میزائل ٹیکنالوجی میں اس قابل نہیں ہے کہ خود ایسے میزائل تیار کر سکے۔ اسلئے انڈیا اپنی نیوی کو روسی میزائلوں کے علاوہ امریکی میزائلوں سے بھی لیس کر رہا ہے۔

یاد رہے جب پاکستان ہارپون میزائلوں کو خرید رہا تھا اس وقت انڈیا روس کا حامی تھا اور پاکستان امریکی بلاک میں تھا، اس وقت امریکہ نے ہارپون کا ائیر لانچڈ ویرئنٹ فائر کرکے انڈیا کے ایک کارگو شپ کو نقصان پہنچایا تھا، امریکہ نے اس حرکت سے انڈیا کو ایک خاص پیغام دیا تھا۔ تاہم وقت بدل چکا ہے اور سٹریٹیجک پارٹنرز بھی بدل چکے ہیں۔ اور اب انڈیا وہی ہارپون میزائل خرید رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہارپون بلاک 2 میزائل انڈیا کو فروخت کیا جائے گا۔

پاکستان اور ہارپون میزائل

پاکستان کے پاس غالباً ہارپون بلاک 1 اور بلاک 2 میزائل موجود ہیں۔ تاہم یہ بات طے ہے پاکستان کو اب تک کے سب سے جدید ورژن کی فراہمی نہیں ہوئی، 2009 میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ پاکستان نے ہارپون کو موڈیفائی کرکے اسے مزید خطرناک شکل دے دی ہے۔ جسکے بعد انڈین میڈیا نے اس خبر کو کافی اچھالا تھا۔

پاکستان نے اس بہترین میزائل کی خصوصیات کو سمجھتے ہوئے خود ایسے میزائل تیار کر لئے ہیں جو ہارپون کے نئے وہرئنٹس سے بھی کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ حربہ کروز میزائل فریگیٹ سے لانچ کیا جاتا ہے اور اسکی رینج 450 کلومیٹر سے 700 کلومیٹر سے بتائی جاتی ہے۔ یہ نا صرف ایٹنی شپ میزائل ہے بلکہ خشکی پر بھی مار کرتا ہے۔ جیسے کہ ہارپون ۔ کچھ ذرائع بتاتے ہیں کہ حربہ میزائل بابر کا ہی ایک ویرئنٹ ہے. یہ میزائل بھی ہارپون کی طرح سی سکیمنگ کی خصوصیت اور ہائی سب سانک سپیڈ کا حامل ہے۔

ضرب کروز میزائل بھی ایک اور اضافہ ہے۔ اسکی رینج بھی ہارپون سے زیادہ ہے اور یہ خشکی سے سمندر میں مار کرتا ہے۔ اسکے علاوہ سی 802 سیریز کی میزائل بھی پاکستان کے پاس موجود ہیں جن میں ایک ائیر لانچڈ ویرئنٹ ہے اور دوسرا شپ بیسڈ اینٹی شپ میزائل ہے۔ انکی رینج 180 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے۔ اسکے علاوہ “سی ایم 400 اے کے جی” ایک سپر سانک میزائل ہے جو کہ اینٹی شپ اور لینڈ اٹیک مشنز کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ میزائل خاص طور پر جے ایف سیونٹین کیلئے تیار گیا ہے۔ اسکی رینج 250 کلومیٹر بتائی جاتی ہے اور اسکی سپیڈ ماک 4 ہے۔ جو کہ براہموس کی سپیڈ سے زیادہ ہے۔ اس حوالے سے معلومات حاصل نہیں کی جا سکیں کہ یہ میزائل سی سکیمنگ کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

پاکستان نیوی بہت جلد “سی ایم 302” اینٹی شپ میزائل سے بھی لیس ہونے جا رہی ہے یہ میزائل نا صرف سی سکیمنگ کا حامل ہے بلکہ لانگ رینج اور سپر سانک سپیڈ کا بھی حاصل ہے۔ اس میزائل کی رینج 280 کلومیٹر ہے اور اسے فریگیٹس اور ائیر کرافٹس سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان فلحال اسکا شپ بیسڈ ویرئنٹ استعمال کر سکے گا جو کہ “ٹائپ 054 اے پی” فریگیٹس پر موجود ہوگا۔ جبکہ ائیر لانچڈ ویرئنٹ کیلئے پاکستان کے پاس ایسا کوئی ایئرکرافٹ نہیں جو اس میزائل کو کیری کر سکے، جسکی سب سے بڑی وجہ اسکا وزن اور سائز ہے اسکا وزن 2000 کلوگرام سے 2500 کلوگرام اور سائز 7 میٹر بتایا گیا ہے۔

تو میرے خیال سے انڈین نیوی کے ہارپون میزائل حاصل کرنے سے اسے پاکستان نیوی پر برتری حاصل نہیں ہوگی۔ یقیناً انڈین نیوی ایک بڑی فورس ہے پاکستان نیوی کی نسبت مگر میں ہارپون کی انڈکشن کے حوالے سے بات کر رہا ہوں۔ امریکہ انڈیا کو ہارپون بلاک 2 فراہم کرے گا تاہم اگر اسکا نیا ویرئنٹ بھی فراہم کر دے تو بھی پاکستان نیوی کو رینج اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے برتری حاصل ہے۔

اسکے علاوہ انڈین نیوی کیلئے ایک اور بڑا خطرہ ایگزوسیٹ میزائل ہے۔ جو میراج اور سی کنگ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ سبمیرینز سے لانچ کیا جاتا ہے۔ سبمیرین سے لانچ ہونے والا ایگزوسیٹ میزائل انڈین سرفس فلیٹ کیلئے ایک ڈراونا خواب ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ہائی سب سانک سپیڈ اور سی سکیمنگ کا حامل ہے۔ ہارپون کی طرح اس میزائل کو بھی دنیا کے بہترین اینٹی شپ میزائلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میزائل کو بھی ایران عراق جنگ میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ ایگزوسیٹ پاکستان انڈیا سمیت تیس ممالک کے پاس موجود ہے۔ اس کی خصوصیت کو سمجھتے ہوئے انڈیا نے بھی اپنی اٹیک سبمیرین کو اس سے لیس کر رکھا ہے۔ اور جس طرح پاکستانی سبمیرینز انڈین نیوی کیلئے خطرہ ہیں انڈیا کی ایگزوسیٹ سے لیس سبمیرین بھی پاکستان نیوی کیلئے اسی انداز میں خطرہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *