پاکستان کے بیلسٹک میزائلوں میں میزائل ڈیفنس سسٹم سے بچنے کیلئے کون کونسے نظام موجود ہیں؟

پاکستان کے بیلسٹک میزائلوں میں میزائل ڈیفنس سسٹم سے بچنے کے لئے کون سے نظام موجود ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے بیلسٹک میزائلوں میں میزائل ڈیفنس سسٹم سے بچنے کے لئے کون سے نظام موجود ہیں؟۔ اور کونسے میزائلوں کو مار گرایا جا سکتا ہے اور کن کن میزائلوں کو مار گرانا ناممکن ہے؟

بیلسٹک میزائلوں میں تین نظام استعمال ہوتے ہیں جو کہ میزائل ڈیفنس سسٹمز سے بچنے اور اہداف کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جن میں “ایم آر ای وی” “ایم اے آر وی” اور “ایم آئی آر وی” نظام شامل ہیں۔

Ballistic Missile Types Of Pakistan

پاکستان کے چھوٹے یا پھر شروع کے بیلسٹک میزائلوں میں “ایم آر ای وی” نظام موجود ہے۔ ان میزائلوں کی نوز کون (میزائل کے اگلے حصہ) میں ایک سے زیادہ وارہیڈ موجود ہوتے ہیں۔ جو کہ میزائل کو بتائے گئے حدف پر گرتے ہیں۔ ان وار ہیڈز کو رستے میں تباہ کرنا مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن ناممکن نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر ایک میزائل میں تین وارہیڈ انسٹال کئے گئے ہوں تو میزائل ڈیفنس سسٹم دو کو مار گرانے میں کامیاب ہو جائے مگر تیسرا کامیابی سے نشانے پر جا لگے۔ ایس فور ہنڈریڈ جیسا میزائل ڈیفنس سسٹم اس نظام کے خلاف موثر ہے۔

جبکہ دوسرا نظام یعنی “ایم اے آر وی” پاکستان شاہین 3 میں استعمال کرتا ہے۔ اس نظام کے تحت میزائل کی نوز کون میں موجود وارہیڈ انتہائی تیزی کے ساتھ زمین پر موجود ہدف کی طرف بڑھتا ہے۔ اور جب اس وارہیڈ کو رستے میں تباہ کرنے کے لئے میزائل ڈیفنس سسٹم اپنا میزائل لانچ کرتا ہے تو شاہین 3 کا وار ہیڈ اپنی طرف بڑھتے ہوئے میزائل کو دیکھتے ہوئے رستہ بدلنا شروع کر دیتا ہے۔

MARV Missile Pakistan

پھر میزائل ڈیفنس سسٹم چاہے جتنے مرضی میزائل فائر کرے یہ وارہیڈ مسلسل اپنا رستہ بدلتے ہوئے اپنے حدف تک پہنچ جاتا ہے۔ میرے خیال میں ایس فور ہنڈریڈ جیسا جدید ترین ائر ڈیفنس میزائل سسٹم اس نظام کے خلاف موثر نہیں ہے۔ یعنی بھارت اگر یہ ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم حاصل بھی کرلے تو شاہین تھری کو نہیں مار گرا سکتا۔ یاد رہے جب شاہین تھری کا وارڈ ہیڈ اپنے ہدف کی طرف بڑھتا ہے تو اس کی سپیڈ ماک 18 سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

میزائل ڈیفنس سسٹم سے بچنے کے لئے جو تیسرا نظام پاکستان کے بیلسٹک میزائلوں میں استعمال ہو رہا ہے وہ ہے ایم آئی آر وی۔ جس کا حامل ابابیل میزائل ہے۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو اسے حاصل کرنے میں کافی وقت لگا۔ ابابیل میزائل کی نوز کون میں ایک سے زائد وار ہیڈ موجود ہوتے ہیں۔ ہر ایک وارہیڈ کا ہدف الگ الگ ہوتا ہے۔ اور یہ ہر ایک وارہیڈ رستہ بدلتے ہوئے اپنے ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔

یعنی ایم آر ای وی جس کا ذکر سب سے پہلے میں نے کیا اس نظام میں یہ ہوتا ہے کہ وارہیڈز کو ایک ہی حدف کی طرف بھیجا جاتا ہے اور وہ وارہیڈ مزار ڈیفنس سسٹم کو چکما نہیں دیتے۔ لیکن ابابیل میں جو نظام موجود ہے۔ اس کے تحت ہر وارہیڈ الگ الگ اہداف کیلئے ہے اور ہدف کی طرف بڑھتے ہوئے یہ وارہیڈ شاہین تھری کہ وارڈ کی طرح میزائل ڈیفنس سسٹم کو دھوکہ دیتے ہوئے اپنے حدف کو تباہ کر سکتا ہے۔ پاکستان اسے دشمن کی اہم تنصیبات کو تباہ کرنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ جن میں ایس 400 بھی شامل ہے۔

وقت آنے پر اگر پاکستان کو لگتا ہے کہ اس کے باقی میزائلوں کو ایس فور ہنڈریڈ تباہ کر سکتا ہے تو ایک طرف تو سب سے پہلے ابابیل کے ذریعے دشمن کے جدید ائیر ڈیفنس میزائل سسٹمز کو نشانہ بنا کر فضائیہ کا راستہ صاف کیا جاسکتا ہے۔ اور دوسری طرف کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا بھی رستہ صاف کیا جاسکتا تھا۔

پاکستان کے ابابیل میزائل میں موجود ایم آئی آر وی نظام کے خلاف ایس فور ہنڈریڈ ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم بلکل موثر نہیں۔ اور پاکستان نے اس میزائل کو بنایا ہی ایسے جدید ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *