ارجنٹینا – جے ایف سترہ معاہدہ چین کیوں کر رہا ہے؟

جے ایف سیونٹین نے ایک اور کامیابی سمیٹ لی ہے اور پاکستان کو ایک اور خریدار مل چکا ہے۔ اس بار یہ ڈیل کچھ دلچسپ مراحل سے گزری ہے کیونکہ ارجنٹینا نے نئے لڑاکا طیارے خریدنے کیلئے روسی مگ 35 اور جے ایف سیونٹین کو چنا تھا۔ جس کے بعد ان دونوں میں سے کسی ایک کی خریداری کی جانی تھی۔ تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں جے ایف سیونٹین نے ناصرف بھارتی تیجس کو ہرایا بلکہ مگ 35 کو بھی ہرا دیا۔ تیجس کو تو ہرانے کی بات سمجھ میں آتی ہے مگر جے ایف سیونٹین کے مقابلے میں مگ 35 کو کیوں نہیں خریدا گیا؟ اسکے علاوہ جے ایف سیونٹین کی ڈیل پاکستان کے بجائے چائنہ کیوں کر رہا ہے اس حوالے سے بھی معلومات آس آرٹیکل میں موجود ہیں۔

گزشتہ دنوں یہ خبریں آئیں کہ ارجنٹینا میراج طیاروں کی جگہ مگ 35 یا جے ایف سیونٹین کو دینے والا ہے، جو کہ اب تصدیق ہو چکی ہے کہ ارجنٹینا نے جے ایف سیونٹین کے تقریباً 12 یونٹس خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں چین سے کچھ لوگ ارجنٹینا گئے ہیں جو کہ اس ڈیل کو فائنل کریں گے۔

یہ ڈیل پاکستان کے بجائے چین کر رہا ہے جسکی ایک خاص وجہ ہے۔ ارجنٹینا نے اس سے پہلے کورین ائیرو سپیس انڈسٹریز کے تیار کردا “ایف اے 50” طیاروں کی خریداری کرنا چاہی مگر برطانیہ کی طرف سے پابندی لگنے کے بعد یہ طیارے ارجنٹینا کو فروخت نہیں کیے جا سکے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طیارے میں برطانیہ کے پرزے بھی استعمال ہوتے ہیں۔

FA 50 Aircraft Fleet

اس پابندی کی وجہ برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان کچھ اختلافات ہیں۔ اب پاکستان برطانیہ کے تعلقات ایسے ہیں کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ اس ڈیل کے نتیجے میں برطانیہ ناراضی کا اظہار کرے تو یہاں چین کے ذریعے یہ ڈیل کی جا رہی ہے۔ اب برطانیہ پاکستان اور ارجنٹینا کی اس ڈیل پر اعتراض نہیں کر سکے گا کیونکہ جے ایف سیونٹین کو بنانے میں چین کا ایک ہم کردار ہے اور وہ یہ حق رکھتا ہے کہ پاکستان کی اجازت سے وہ جسے چاہے جے ایف سیونٹین فروخت کر سکتا ہے۔

جے ایف سیونٹین کو چاہے پاکستان فروخت کرے یا چین۔ ہر ڈیل پر ملنے والا منافع اور طیارے کو بنانے پر جو لاگت آتی ہے وہ پہلے سے طے ہے۔ جو کہ دونوں ملکوں کے حصے میں آتی ہے۔ میانمار کو بھی چین نے ہی جے ایف سیونٹین فروخت کئے تھے۔

ارجنٹینا پچھلے چند سال سے جے ایف سیونٹین میں دلچسپی لے رہا تھا اور ان طیاروں کو خریدنے کیلئے غالباً 2017 میں ارجنٹینا سے کچھ لوگ پاکستان بھی آئے تھے جنہوں نے طیارے کو چانچنا تھا۔ اس دوران ارجنٹینا اسرائیل کے ساتھ بھی رابطے میں تھا مگر اسرائیلی طیاروں کو نہیں خریدا گیا۔ ارجنٹینا کی ائیر فورس کے مطابق اسے جے ایف سیونٹین بلاک تھری میں دلچسپی ہے۔

JF17 Block3 in 2021 with PL10E

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روس نے ارجنٹینا کو خود اپنا مگ 35 آفر کیا تھا۔ لیکن اس لڑاکا طیارے کو خریدنے کے بجائے جے ایف سیونٹین کو کیوں چنا گیا۔ تو اسکی وجہ بھی موجود ہے۔ اور وہ وجہ ہے ویپن پیکج، سودا صرف طیاروں کا نہیں ہوتا بلکہ اس سے استعمال ہونے والے میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کا بھی ہوتا ہے۔ اور اس وقت جے ایف سیونٹین کا ویپن پیکج دیکھا جائے تو ہر طرح کا ہتھیار اس طیارے کے ہتھیاروں میں شامل ہے۔

JF 17 Block 3 Armaments

مگ 35 ایک ڈوول انجن طیارہ ہے اور اسکی پے لوڈ کیپیسٹی بھی جے ایف سیونٹین سے زیادہ ہے۔ بد قسمتی سے اس بہترین لڑاکا طیارے کو آج تک کوئی خریدار نہیں ملا۔ جے ایف سیونٹین کم قیمت طیارہ ہے اور اسکی مینٹیننس پر بھی کم پیسا خرچ ہوتا ہے۔ اس سنگل انجن طیارے کی کارکردگی اسکی قیمت کے مقابلے میں بہت اچھی ہے۔ یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ ارجنٹینا نے مگ 35 کے مقابلے میں جے ایف سیونٹین کو چنا ہے۔ مگ 35 کو 4++جنریشن کا طیارہ سمجھا جاتا ہے جبکہ جے ایف سیونٹین بلاک تھری 4+ جنریشن کا طیارہ ہے۔

مگ 35 کی ٹاپ سپیڈ 2.2 ماک ہے اور بلاک تھری کی ٹاپ سپیڈ 2 ماک ہوگی۔ مگ 35 کی کمبیٹ رینج 1000 کلومیٹر بتائی جاتی ہے جبکہ بلاک 2 کی 1350 کلومیٹر ہے۔ اور بلاک تھری کی اس سے بھی زیادہ ہوگی۔

مگ 35 کے ہارڈ پوائنٹس 9 ہیں جبکہ بلاک تھری کے 8 ہیں۔ مگ 35 اگر فضائی لڑائی میں شارٹ رینج آر 77 فائر کر سکتا ہے تو جے ایف سیونٹین نیو جنریشن “پی ایل ٹین ای” سے لیس ہے۔ لمبے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت میں بھی جے ایف سیونٹین پیچھے نہیں ہے۔ مگ 35 کو آر 77 میزائل سے لیس کیا گیا ہے جس کا ایک ویرئنٹ 80 کلو میٹر تک مار کرتا ہے جبکہ دوسرا 193 کلومیٹر تک۔ جبکہ بلاک تھری کو پی ایل 15 میزائلوں سے لیس کیا جا سکتا ہے جسکی رینج آر 77 سے زیادہ ہے۔

PL 15 Missile Reality

زمین پر مار کرنے والے ہتھیاروں میں بھی جے ایف سیونٹین کو مگ 35 کے مقابلے میں بہتر اور زیادہ فاصلے پر مار کرنے والے ہتھیاروں سے لیس کیا گیا ہے۔ جن میں سپر سانک اور سب سانک میزائل شامل ہیں۔

ریڈار کے حوالے سے بھی اگر دیکھا جائے تو بلاک تھری میں “کے ایل جے سیون اے” ریڈار انسٹال کیا گیا ہے جو کہ نا صرف چینی ہتھیاروں کو سپورٹ کرتا ہے بلکہ اس میں مغربی ہتھیاروں کو بھی سپورٹ کرنے والے موڈذ موجود ہیں۔ یوں جو ملک بھی جے ایف سیونٹین کوخریدے گا وہ اسے مغربی ہتھیاروں سے بھی لیس کر سکے گا۔ یہاں مگ35 پر بلاک تھری کو برتری حاصل ہے۔

ارجنٹینا نے پہلے جن طیاروں کو خریدنے کیلئے کوشش کی وہ مغربی ہتھیاروں سے کیس کئے جا سکتے ہیں، یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ارجنٹینا کو ایسے ہی طیارے کی ضرورت تھی جو مغربی ہتھیاروں کو فائر کر سکے۔ جے ایف سیونٹین خاص کانفیگریشن کے ساتھ ارجنٹینا کو فروخت کیا جا سکتا ہے، پھر وہ چاہے اسے چینی ہتھیاروں سے لیس کرے یا مغربی۔

جے ایف سیونٹین کی بلاک بلڈنگ جاری رہے گی اور پرانے بلاکس کو بھی نئے نظاموں سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ بلاک ٹو بھی بلاک تھری سٹینڈرڈ پر اپگریڈ کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *