Home / India / بھارت اسرائیل اور جل شکتی

بھارت اسرائیل اور جل شکتی

خشک سالی، قحط اور صحراؤں کے مسائل پر قابو پانے کے لیے اسرائیل نے بھارت کو مدد کی پیشکش کردی ہے، بنی اسرائیل کے پاس یہ ٹیکنالوجی موجود ہے کہ وہ صحراؤں اور کہہ دو زدہ علاقوں میں میں بھی اناج اگا سکتا ہے۔ اب جو لوگ احادیث کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں وہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ آج کے موضوع کا مقصد کیا ہے۔

یاد رہے امریکہ کے پاس ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے کہ وہ دنیا میں جہاں چاہے موسم سے چھیڑ چھاڑ کر کے بارش برسا سکتا ہے، یہاں تک کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے مخصوص جگہوں پر زلزلہ لایا جا سکتا ہے۔ بے شک ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان یہی ہے کہ یہ تمام کام صرف اللہ تعالی کی ذات کر سکتی ہے۔ مگر جب آپ دجال سے متعلق احادیث کا مطالعہ کریں تو آپ کو سب سمجھ آ جاتا ہے، بے شک سائنس بھی اللہ تعالی کا ہی علم ہے۔ اور اللہ تعالی کی مرضی کے بغیر سائنس بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

خیر بات ہورہی ہے اسرائیل کی طرف سے بھارت کو کی گئی پیشکش کی، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ہر شہری تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور آبی ذخائر میں جدت لانے اور پانی کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لئے انتخابات میں اس مقصد کیلئے ایک مخصوص وزارت قائم کرنے کا اعلان کیا جس کا نام “جل شکتی” رکھا گیا۔

بھارتی وزیر اعظم نے وعدہ کیا تھا کہ 2024 تک بھارت کے ہر ایک گاؤں کو پینے کا کا صاف پانی میسر ہوگا، جل شکتی وزارت قائم ہونے کے بعد اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ گھریلو و زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے پانی کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے بہتر حکمت عملی اپنائی جائے۔ اس سلسلے میں بھارتی حکومت آبپاشی کے نظام نام اور زرعی شعبے میں اصلاحات لانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

اسرائیل پہلے ہی بھارت کو ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کو آپریشن، “ایم اے ایس ایچ اے وی” کے تحت آبپاشی کی ٹیکنالوجی فراہم کرچکا ہے اب اسرائیلی حکومت نے بھارت کو پانی کی قلت سے نمٹنے کے لئے مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے. اسرائیل میں صرف 20 فیصد زمین ہی کاشتکاری کے قابل ہے لیکن کیا آپ کو پتہ ہے ہے کہ حکومتی اقدامات اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے اسرائیل اپنے صحراؤں میں بھی فصلیں اگانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اب وہ اپنے تجربات کے ذریعے بھارت کی مدد کرنے جا رہا ہے۔

اسرائیلی سفیر رون مالکا جو کہ بھارت میں تعینات ہیں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور بھارت قریبی دوست ہیں اور ہم اپنے دوستوں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی شئیر کرتے ہیں۔

پاکستان زراعت میں ترقی یافتہ ممالک سے تقریبا پچاس سال پیچھے رہ گیا ہے، ہماری زرعی زمین بنجر ہو رہی ہیں جبکہ دنیا بنجر زمینوں ساتھ ساتھ صحراؤں کو بھی زراعت کے لیے استعمال کال کر رہی ہے۔ کیا آپ کے زہن میں بھی یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ دجال سے متعلق احادیث پوری ہوتی نظر آ رہی ہیں؟ کہ دیجال جب آئے گا تو اپنے پیروکاروں پر خزانے برسائے گا ان کے لیے میوے اگائے گا جب کہ ان پر آگ برسائے گا جو اس کے پیروکار نہیں ہوں گے، اب آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ دجال کا انتظار کون لوگ کر رہے ہیں اور ان کے دوست کون ہیں۔ اور ہم ان کے دوستوں میں شمار ہیں یا پھر دشمنوں میں  یہ بھی آپ بخوبی جانتے ہیں۔

ایک طرف پاکستان کا پانی بند کر کے اسے بنجر بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف بھارت اپنے صحراؤں میں اناج اگانے کی سوچ رہا ہے۔
کیا ہمیں اسی لئے سزا دی جا رہی کہ ہم دجال کے پیروکار نہیں ہیں؟ تو ہمیں سزا قبول ہے۔ مگر پاکستان کو فوری طور پر چین سے اسی طرح کی ٹیکنالوجی حاصل کرنی چاہیے۔ چین اس حوالے سے پاکستان کی جتنی مدد کرسکتا ہے کوئی اور ملک نہیں کر سکتا۔ کیونکہ چین زراعت میں بہت کامیابیاں سمیٹ چکا ہے۔

About yasir

Check Also

ترکی کا امریکہ کو بھرپور جواب – ترک معاشی جنگ اور آئی فون

ترکی میں لاکھوں لوگ آئی فون استعمال کرتے ہیں. آئی فون بڑی تعداد میں امریکہ …