Home / Pakistan / پاکستان اپنی معدنیات کیوں نہیں نکال پا رہا

پاکستان اپنی معدنیات کیوں نہیں نکال پا رہا

پاکستان میں قدرتی وسائل کی موجودگی کا اعتراف بہت لوگ کرتے ہیں، جن میں سائنسدان اور غیر ملکی کمپنیاں بھی شامل ہیں، پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی پاکستانیوں کو یہ خوشخبری دے دی تھی کہ پاکستان کو خدا نے قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے۔

پاکستان میں کئی جگہوں پر ان وسائل کی موجودگی کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ اور ان جگہوں سے ان وسائل کو نکالنے کے لئے سنجیدگی سے کام بھی کیا گیا مگر ان کوششوں کے باوجود ہمیں کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا، یا مختلف رکاوٹوں کی وجہ سے ان کوششوں کو ادھورا چھوڑ دیا گیا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمارا صوبہ سندھ سندھ گیس جیسی نعمت سے مالا مال ہے یعنی صوبہ سندھ میں تیل و گیس بڑی مقدار میں موجود ہے، اسی طرح پنجاب کے بارے میں بھی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس صوبے میں تیل اور سونے کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔پاکستان بننے سے پہلے اٹک میں تیل نکلا تھا اور راولپنڈی میں اٹک ریفائنری بھی موجود ہے یہ واحد فیکٹری تھی جو پاکستان کے حصے میں آئی۔

سندھ اور پنجاب کے علاوہ بلوچستان میں بھی معدنیات کے بڑے بڑے ذخیرے موجود ہونے کا عندیہ دیا گیا، جنہیں نہ نکالنے کی کئی وجوہات ہیں، صرف ریکوڈک میں تانبے اور سونے کے ذخائر پر بات کی جائے تو آج تک ان کی مالیت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکا، یہ ذخائر تقریبا 100 مربع کلومیٹر کے ایریا میں موجود ہیں۔ جو کمپنیاں معدنی دولت نکالتی ہیں ان کو تقریبا 70 سے سے 75 فیصد حصہ دینا پڑتا ہے جبکہ کہ اس معدنیات کے اصل مالک کو صرف 25 سے 30 فیصد حصہ ملتا ہے، لیکن ریکوڈیک میں پاکستان اور غیر ملکی کمپنی کے درمیان ان جب تنازعہ ہوا تو عالمی عدالت سے رجوع کیا گیا جہاں سے وہ کمپنی اپنے حقوق میں فیصلہ لینے میں کامیاب ہوئی، مگر معلوم نہیں کہ ریکوڈک پر کس کا زور چل رہا ہے آیا وہاں سونا نکالا جارہا ہے یا ابھی وہاں موجود سونے کی کانیں بند پڑی ہیں۔

معدنیات تلاش کرنے والی ایک آسٹریلوی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں بڑی مقدار میں سونا موجود ہے، اور یہ بات واقعی میں درست ہوسکتی ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے لوگ اکثر دریاؤں اور ندی نالوں سے ریت کو چھان کر سونے کے ذرات حاصل کرتے رہتے ہیں، یہ ندی نالے پہاڑوں کے درمیان سے بہتے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے سمندری حدود کے بارے میں ایکسن کمپنی کا یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان کے سمندر میں اتنا تیل موجود ہے جتنا کویت کے پاس موجود ہے، اسی کمپنی نے پاکستان کے سمندری حدود سے یہ تیل نکالنے میں دلچسپی ظاہر کر رکھی ہے، ایسی بڑی کمپنیاں بہت سوچ سمجھ کر اقدام اٹھاتی ہیں، یوں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خدا نے ہمارے سمندروں میں بھی ہمارے لئے بہت کچھ رکھا ہے۔ تھر کا کوئلہ اور کھیوڑا میں موجود گلابی نمک بھی پاکستان نکالتا ہے مگر اس کا فائدہ اس طرح سے نہیں اٹھایا جا رہا جس طرح اٹھایا جانا چاہیے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا کچھ پاکستان کے پاس موجود ہے پھر بھی پاکستان ان معدنیات کو کیوں نہیں نکالتا اور اپنے قرضے ختم کرتا، اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو نہ صرف پاکستان کے قرضے ختم ہوجائیں گے بلکہ تقریباً سو سال تک پاکستانی ٹیکس فری زندگی گزار سکیں گے۔

لیکن فلوقت ایسا اس لیے نہیں ہو سکتا تا کہ ہم پر موجود قرضہ ہمیں بری طرح پھنسا چکا ہے، ہم اس کی وجہ سے غیروں کے شکنجے میں ہیں، ان سب معدنی وسائل کو نکالنے کے لئے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کے پاس بجٹ کے لئے بھی قرضہ لینا پڑتا ہے۔ ایسا وقت ضرور آئے گا جب یہ معدنیات ہمارے کام آئیں گی مگر یہ کام فوری طور پر نہیں کیے جا سکتے، یہاں فسادی بھی بیٹھے ہوئے ہیں جو کہ ناکامی کی صورت میں قوم کو حکومت کے خلاف بھڑکاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومتیں معدنیات کو نکالنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں کیونکہ ناکامی کی صورت میں اگلا الیکشن ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ہم پر عالمی دباؤ بھی موجود ہے، حال ہی میں پاکستان کے سمندر میں تیل کے لیے ڈرلنگ کی گئی، حکومت اس معاملے پر بہت سنجیدہ تھی، اور بڑی بڑی کمپنیوں نے یہ دعویٰ کر رکھا تھا کہ یہاں بڑی مقدار میں تیل موجود ہے، جب ڈرلنگ ختم ہوئی اور تیل کے ذخیرے کا اندازہ لگانے کے لیے جانچ پڑتال شروع ہوئی تو امریکی نیوی وی نے ایران کو نشانہ بنانے کی خاطر بحرے عرب میں پیش قدمی شروع کردی۔ اور جیسے ہی پاکستان نے یہ اعلان کیا کہ تیل نکالنے میں ہم ناکام ہو چکے ہیں تو آپ سب اندازہ لگا لیں کہ جس زوروشور سے امریکی نیوی ہماری طرف بڑھ رہی تھی اچانک سے ٹھنڈی پڑ گئی۔اس کے بعد پاکستان نے ڈرلنگ والا علاقہ پاکستان نیوی کے حوالے کردیا، اب اللہ جانے کہ واقعی وہاں سے تیل نہیں نکلا یا پھر پاکستان صحیح وقت کی تلاش میں ہے۔ ایک بات طے ہے کہ امریکی رویہ دیکھتے ہوئے پاکستان نے جو کیا وہی ہمارے لیے بہتر تھا۔ پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے میں بھی ایسی مشکلات پیش آئیں تھیں لیکن پھر صحیح وقت کا انتظار کیا گیا۔

پاکستان کو دشمن نے بڑی محنت کے بعد اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے کہ ہم معاشی طور پر بدحالی کا شکار ہیں، ایسے میں ہمارے دشمن کیسے یہ سب ہوتا دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان بڑی آسانی سے تیل نکالے اور چند مہینوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے۔ کیا ہمارا دشمن اپنی ساری محنت پر پانی پھرتا دیکھ سکتا ہے؟.

بہترین حل:
ہمیں جس رفتار سے کمزور کیا گیا، قوم کو چاہیے کہ چاہے وہ کوئی بھی حکمران ہو جو معدنی وسائل کو نکالنے کی کوشش کرے اس کا ساتھ دیں، یہاں میں کسی کا نام نہیں لے رہا لہذا سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں، میں نے صرف اس فرد کا کہا جو ظاہر ہے پاکستان کی بہتری چاہتا ہوگا جو معدنی وسائل کو نکالنے پر پیسہ خرچ کرے گا۔ اس کے علاوہ قوم کو چاہیے کہ کہ میڈیا پر بیٹھے اینکروں کی باتوں پر کم سے کم یقین کرے، عالمی طاقتیں ایک طرف طاقت کا استعمال کرنے کی دھمکی دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف میڈیا میں پیسہ خرچ کرکے اسی ملک کی قوم کو اپنے ہی محسنوں کے خلاف بڑھکاتے جاتے ہیں۔


عراق کی مثال آپ کے سامنے ہیں کہ کیسے اس ملک کی عوام کو حکمرانوں کے خلاف کر دیا گیا اور وہاں کی عوام میں سے کچھ لوگ دشمن کا ہتھیار بن گئے، پاکستان کو ان معدنی وسائل کو نکالنے کی ضرورت تو ہے ہی ہیں مگر اس سے پہلے پاکستان کو ان اقدامات کی ضرورت ہے جن کا زکر میں آگے کرنے جا رہا ہوں تاکہ ہم عالمی طاقتوں کے دباؤ سے نکل سکیں۔

ان عالمی طاقتوں کی نظر پوری طرح سے پاکستان کے معدنی وسائل پر ہے، ایک جگہ بھی سے پاکستان کو اگر کامیابی ملتی ہے تو پاکستان کو اتنا کچھ حاصل ہو جائے گا کہ پاکستان بآسانی بھائی اپنا قرضہ ختم کرنے لگ جائے گا، لہذا عالمی طاقتوں کو یہ بات قطعاً قبول نہیں۔

ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پاکستان درآمدات پر توجہ دے۔ پاکستان کے سمندر سے مچھلی اور جھینگا بڑی مقدار میں پکڑا جاتا ہے مگر ناقص انتظامات کی وجہ سے ہم فائدہ نہیں اٹھا سکتے، پاکستان کو اسے ایک انڈسٹری کی صورت دینا ہوگی، تاکہ عالمی معیار کی پیکنگ کی جائے، اس صنعت میں پاکستان کو انتہائی کم سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اس کا فائدہ دیرپا ہوگا۔

اس کے علاوہ سیاحت کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے، جسکے بعد کئی ملکوں کی کرنسی پاکستان آسکتی ہے، آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے صرف دو ہزار اٹھارہ میں تقریبا سولا لاکھ کروڑ روپیہ صرف سیاحت سے کمایا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں سیاحت کو فروغ دینا شامل ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی کاوشیں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ سیحت بحال ہونے کے بعد پاکستان کو یہ فائدہ بھی ہوگا کہ عالمی برادری کو یہ یقین ہوجائے گا کہ پاکستان میں دہشتگردی ختم ہو چکی ہے ہے اور پاکستان کی افواج نے دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے بہتر کارکردگی دکھائی۔ اسکے علاوہ کھیلوں کو فروغ بھی ملے گا۔

آج کل پاکستان کے گلابی نمک پر بھی سوشل میڈیا پر بہت باتیں ہو رہی ہیں، اور یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ قوم کو اس بات کا احساس ہورہا ہے کہ ہمارے اثاثے ہمارے لئے کتنے اہم ہیں، گلابی نمک بھارت کو انتہائی سستے داموں دے دیا جاتا ہے اور بھارت اس کی پیکنگ عالمی معیار کے مطابق کرتا ہے اور مغربی ممالک کو انتہائی مہنگے داموں فروخت کرتا ہے۔ امید ہے کہ کہ سوشل میڈیا پر برپا زور شور حکومت کو اس طرف توجہ دینے پر مجبور کردے گا کہ پاکستان اپنے گلابی نمک کے حوالے سے کچھ نہ کچھ اقدامات کرے گا۔

پاکستان کا صوبہ سندھ کئی کی قسم کی کھجور پیدا کرتا ہے مگر آدھی سے زیادہ کھجور خراب ہو جاتی ہے، باقی اسی طرح اٹھا کر دوسرے ممالک کو انتہائی سسے داموں فروخت کر دی جاتی ہے۔ پھر یہی کھجور دوسرے ممالک بہترین پیکنگ کرنے کے بعد واپس پاکستان کو مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ اگر یہاں ایسے کارخانے لگائے جائیں کہ کہ ان چیزوں کی پیکنگ عالمی معیار کے مطابق ہو سکے تو یہ اقدام آنے والی نسلوں پر یہ احسان ہوگا۔ان اقدامات سے حاصل کردہ منافع کسی بھی طرح سونے چاندی یا تیل جیسی نعمت سے کم نہیں۔ بس فرق اتنا ہت کہ ان اقدامات میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔

About yasir

Check Also

جنگ ستمبر لاہور محاذ کے آخری مناظر کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کی زبانی

بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی ہفت روزہ ٹائمز کے نمائندے لوئس کرار نے 23 ستمبر …