Home / International / بھارت اور فرانس کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خطرہ

بھارت اور فرانس کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خطرہ

فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ سابق صدر فرانسوا اولاند کے بیان کے بعد پیدا ہونے والے تنازعے کی وجہ سے بھارت اور فرانس کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق فرانس کے جونیئر وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں سابق صدر کا بیرون ملک دیا جانے والا یہ بیان فرانس اور بھارت کے باہمی تعلقات کے لیے خطرناک ہے اور اس سے کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں اپنے دورہ بھارت کے موقع پرفرانسوا اولاند نے کہا تھا کہ 2016ء میں لڑاکا طیاروں کے ایک معاہدے میں فرانس کو ایک بھارتی پارٹنر کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ بھارتی حکومت نے فرانس کے ساتھ 36 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، تاہم ملکی دفاعی ادارے ایچ اے ایل کی بجائے یہ پروجیکٹ ارب پتی شخصیت انیل امبانی کے ساتھ شراکت میں آگے بڑھانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

فرانسوا اولاند کے اس بیان کے بعد اپوزیشن جماعتیں مودی پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنی افواج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کا عہد کر لیا تھا، جس کی وجہ سے انھوں نے بھارت میں کافی مقبولیت حاصل کرلی، اصل میں بھارتی عوام یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ ان کے وزیراعظم واقعی میں بھارت کا دفاع مضبوط کرنے جا رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے بھاری کک بیکس حاصل کرنے کے لیے ہتھیاروں کے معاہدے کیے نا کہ اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے۔

اس وقت پورے بھارت میں میرا وزیراعظم چور ہے کے نعرے لگ رہے ہیں، بھارتی عوام کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے ساتھ امن چاہتا ہے مگر نریندرمودی نفرت کا ووٹ لے کر وزیر اعظم بنے تھے، لہذا جب یہ بات منظر عام پر آگئی ہے کہ بھارتی وزیراعظم پاکستان سے نفرت کی آڑ میں اپنی جیب گرم کرنے لگے، تو  مودی کو سپورٹ کرنے والے بھی پیچھے ہٹ چکے ہیں۔

یاد رہے بھارت نے ایسے کئی ہتھیار خریدے جن میں بے پناہ کرپشن کی گئی، اس کرپشن میں بھارتی حکومتی اہلکاروں سمیت فوجی آفیسرز بھی شامل ہیں ، بھارت نے اٹلی سے 2013 میں “Agusta Westland Aw101” کیلئے 500 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا، اس معاہدے میں اچھی خاصی کرپشن کی گئی۔

اس کے علاوہ بھارت کو اپنی بنائی ہوئی توپوں کے لیے مغربی ممالک سے پرزے منگوانے تھے مگر اعلیٰ عہدیداروں نے یہ پرزے اپنے دشمن ملک چین کی ہی کسی لوکل کمپنی سے خرید لئے۔ جبکہ بھارتی خزانے سے ان پرزوں کی بھاری قیمت وصول کی گئی۔ بھارت کی تینوں افواج بھی کرپشن میں پیچھے نہیں، اور آئے روز کوئی نہ کوئی سکینڈل منظر عام پر آتا رہتا ہے۔

بھارت کے جدید ہتھیار زنگ آلود ہو رہے ہیں اور ان کی دیکھ بھال اس لئے نہیں کی جارہی کہ نئے ہتھیار خریدنے کا موقع ملے، کیونکہ نئے ہتھیاروں کی خریداری میں حکومت اور فوج کے آفیسرز خوب کرپشن کرتے ہیں اور اپنی جیبیں گرم کرتے ہیں۔

Share This

About yasir

Check Also

چین کا بنایا ہوا “جے ایچ سیون” طیارہ کن خصوصیات کا حامل ہے

چینی فضائیہ اور نیوی کے پاس موجود JH-7 لڑاکا بمبار طیارہ پہلی بار 1990 میں …