Home / International / امریکہ نے چین پر روسی ہتھیار خریدنے پر پابندی عائد کیوں کی

امریکہ نے چین پر روسی ہتھیار خریدنے پر پابندی عائد کیوں کی

امریکہ نے چین پر روس سے جدید ہتھیار خاص طور پر “SU-35” لڑاکا طیارے اور ائیر ڈیفنس سسٹم “S400” خریدنے پر پابندی لگا دی ہے۔

یہ پابندی امریکہ نے چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت کو دیکھتے ہوئے لگائی ہے، خیال کیا جارہا ہے کہ یہ پابندی امریکہ میں موجود بھارتی لابی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، ٹرمپ انتظامیہ دھڑا دھڑ دوسرے ممالک پر پابندیاں لگائے جا رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکہ کو ہی اٹھانا پڑے گا،۔

اصل میں امریکا بھارت کو اس خطے کا مضبوط ترین ملک بنانا چاہتا ہے تاکہ چین کو زیر کیا جا سکے، جبکہ دوسری طرف چین نہ صرف ہتھیاروں کو ملکی سطح پر تیزی سے تیار کر رہا ہے بلکہ روس سے بھی جدید ہتھیار خریدنے میں لگا ہوا ہے، خاص طور پر روس کے دو ہتھیار جن کے خریدنے پر چین پر امریکہ نے پابندی لگا دی ہے چین کے دفاع کا اہم ترین حصہ ہو چکے ہیں، اور چین کے پاس ان ہتھیاروں کی موجودگی بھارت اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

پابندی لگانے کا دوسرہ مقصد روسی معیشت کو بہتر ہونے سے روکنا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ ملک امریکہ سے ہتھیار خریدیں کیوں کہ امریکی معیشت دفاعی سازوسامان کی برآمد پر کھڑی ہے، آپ سب نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ زیادہ تر ممالک امریکی ہتھیاروں کو خریدنا چھوڑ کر روس کا رخ کر رہے ہیں، کیونکہ ایک طرف امریکی ہتھیار انتہائی مہنگے ہیں اور دوسرا فروخت کے بعد  امریکہ بہتر سروس فراہم نہیں کرتا۔ باقی بدمعاشی اس سے الگ ہے۔

پاکستان کی مثال آپ کے سامنے ہے، پاک فضائیہ نے جب جب ایف سولہ طیارے خریدنے کی بات کی تو امریکہ نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے زور دیا، امریکہ کو یوں لگتا تھا کہ ایف سولہ طیارہ پاکستان کی ضرورت بن چکا ہے لہذا خوب بلیک میل کیا جائے، مگر پاکستان نے اپنا رخ چین کی طرف موڑ لیا، اور اب پاکستان کا اپنا لڑاکا طیارہ جے ایف سترہ ایف سولہ کے ہم پلہ ہے۔

اور آنے والے وقتوں میں پاکستان مزید جدید لڑاکا طیارے بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، لہذا اب پاکستان امریکا کا محتاج نہیں رہا، یہی وجہ ہے کہ امریکہ کا رویہ ترکی کے ساتھ بھی بگڑتا جارہا تھا، اور ترکی کے پاس زیادہ تر ہتھیار امریکی ساختہ ہیں، مگر اب ترکی بھی امریکہ کو خوب سمجھ چکا ہے، لہذا ترکی نے روس سے جدید ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم ” S-400″ کا معاہدہ کرلیا۔

اس معاہدے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ترکی کو بے حد نقصان پہنچایا، جن پانچویں نسل کے “F-35” لڑاکا طیاروں کی پروڈکشن میں ترکی کی حصہ داری تھی وہی طیارہ امریکہ نے ترکی کو دینے سے انکار کردیا، اب خیال کیا جارہا ہے کہ ترکی پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے بھی روس کے ساتھ مل کر بنا سکتا ہے،

امریکہ کی مکاری کا اندازہ آپ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ ترکی اور روس کے تعلقات خراب کرنے کے لئے امریکہ نے ایک بھیانک چال چلی تھی، اور ترکی کے ذریعے روسی طیارہ مار گرایا تھا، جس کے بعد روسی صدر نے ترکی کے ساتھ تمام معاہدے ختم کر دیے تھے، مگر بعد میں ترکی کو اس بات کا احساس ہوگیا کہ یہ امریکہ کی چال ہے جو کہ ترکی اور روس کے معاہدے توڑنے کے لیے چلی گئی، لہذا ترکی نے روس سے معافی مانگیں اور دونوں ممالک نے پھر سے تعلقات بہتر کر لیے۔

جب امریکہ نے دیکھا کہ ترکی اور روس نے ایک بار پھر تعلقات استوار کر لیے تو امریکہ نے اب ترکی کو معاشی جنگ میں دھکیل دیا ہے، امریکہ نے حال ہی میں ترکی کی برآمدات پر بے جا ٹیکس لگا کر ترکی کی معیشت کو زبردست جھٹکا دیا، اس کے علاوہ امریکہ چینی مصنوعات پربھی بےحد ٹیکس لگا چکا ہے، یہ معاشی جنگ امریکہ نے چین کے ساتھ بھی چھیڑ دی ہے، مگر چین نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے امریکی مصنوعات پر بھی بھاری ٹیکس لگا دیا ہے، جس کے بعد امریکہ کا یہ موقف ہے کہ چین بدلہ لے رہا ہے۔

چین کی معیشت کو تیزی سے بڑھتے دیکھتا ہوا امریکا سخت بے چینی کا شکار ہے، مگر چینی معیشت ہے کہ جو دن بدن بہتر ہوئے جا رہی ہے، اگر امریکہ معاشی طور پر چین کو نقصان دینے کی کوشش کرتا ہے تو چین بھی جوابی کاروائی کرے گا اور ہچکولے کھاتی امریکی معیشت چند ہفتوں میں ڈوب سکتی ہے۔ یاد رہے امریکہ چین سے بھاری قرضے لے چکا ہے، جو کہ امریکا واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

چینی معیشت کے بہتر ہونے کی وجہ سے امریکہ چین کو معاشی طور پر زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا، لہذا اب امریکہ نے چین کی بڑھتی دفاعی طاقت کو روکنے کی خاطر ہتھیاروں کی خریداری پر پابندی لگائی ہے، یاد رہے روسی صدر ولادمیر پوٹن یہ کہہ چکے ہیں کہ تمام ممالک مل کر امریکہ کے ہاتھ کاٹیں۔

روسی صدر کے اس بیان کی تشریح کی جاۓ تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ تمام ممالک ڈالر میں لین دین کرنا چھوڑ دیں، روس اور چین نے آپس میں لین دین اپنی کرنسی میں کرنا شروع کردیا ہے، جب کہ پاکستان اور چین نے بھی آپس کے لین دینے میں اپنی کرنسی استعمال کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ سی پیک مکمل ہونے کے بعد بہت سے ممالک چین سے کاروبار کریں گے، اس کاروبار میں کونسی کرنسی استعمال کی جائے گی اس کا فیصلہ بھی چین کرسکے گا۔

اس وقت زیادہ تر ممالک امریکی رویے سے تنگ ہیں، اور اس میں شدت اس وقت آئی جب ٹرمپ جیسے آدمی نے صدارتی عہدہ سنبھالا، حال ہی میں امریکہ نے ایران پر مزید پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا تھا مگر ایسا ہوا تو امریکہ کو یہ بھی خدشہ ہے کہ بھارت امریکہ کے اس فیصلے پر احتجاج کرے گا، اور اس وقت اس خطے میں موجود ایک ہی ملک ہے جس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بہتر ہیں اور وہ ہے بھارت۔

بھارت سے امریکہ فلحال تعلقات خراب نہیں کر سکتا، کیونکہ امریکہ بھارت کو چین کے خلاف تیار کر رہا ہے، اس کے علاوہ اس وقت بھارت امریکی ہتھیاروں کو خریدنے کے خیالات پال رہا ہے، جو کہ امریکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔ جبکہ بھارت ایران کی طرفداری اس لئے کرے گا کہ اسے چاہ بہار سے ہاتھ نا دھونا پڑیں۔ جو کہ بھارت اور ایران نے گوادر کے مقابلے میں تیار کر رکھی ہے۔

یوں امریکا کا مستقبل کیا ہے وہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں، مستقبل قریب میں امریکہ اس قابل ہی نہیں رہے گا کہ وہ کسی ملک پر کسی قسم کی پابندی لگا سکے، اور ایسا صرف اور صرف ٹرمپ کے رویے کی وجہ سے ہو گا۔

تحریر : یاسر حسین

Share This

About yasir

Check Also

چین کا بنایا ہوا “جے ایچ سیون” طیارہ کن خصوصیات کا حامل ہے

چینی فضائیہ اور نیوی کے پاس موجود JH-7 لڑاکا بمبار طیارہ پہلی بار 1990 میں …