Home / International / چین کا بنایا ہوا “جے ایچ سیون” طیارہ کن خصوصیات کا حامل ہے

چین کا بنایا ہوا “جے ایچ سیون” طیارہ کن خصوصیات کا حامل ہے

چینی فضائیہ اور نیوی کے پاس موجود JH-7 لڑاکا بمبار طیارہ پہلی بار 1990 میں سروس میں آیا، جس کے بعد اس کا جدید ویرینٹ “JH-7A” 2004 میں چینی فضائیہ میں شامل کیا گیا۔ یہ طیارہ دو انجنوں پر مشتمل ہے اور اس میں دو پائلٹ سوار ہو سکتے ہیں۔ دشمن پر بمباری کرنے کے لیے اسے بہترین پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے کیوں کہ یہ طیارہ تقریبا نو ہزار کلوگرام کے ہتھیار اٹھا سکتا ہے اور اس کے 9 ہارڈ پوائنٹس ہیں۔

یہ طیارہ ناصرف بمباری کرنے کے لیے کام آتا ہے بلکہ اس سے لڑاکا طیاروں کا کام بھی لیا جا سکتا ہے، اب تک تقریبا دو سو ستر کے قریب یہ طیارے بنائے جا چکے ہیں، یہ طیارہ تین ویرینٹس پر مشتمل ہے، جن میں JH-7 , JH-7A اور JH-7B شامل ہیں۔ JH-7B اب تک کا جدید ترین ویرینٹ ہے، جسے چین اس وقت تیار کر رہا ہے۔

اس ویرینٹ کو چین مزید جدید ایویونکس اور طاقتور انجنوں سے لیس کرنے جارہا ہے، جس کے بعد یہ طیارہ “YJ-12” جیسے جدید ترین میزائلوں کو بھی فائر کر سکے گا.

یاد رہے اسی میزائل کا ایکسپورٹ ورژن “CM-400AKG” پاکستان کا لڑاکا طیارہ جے ایف سترہ فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ ایک انتہائی خطرناک اینٹی میزائل ہے۔ جسے “کیریئر کلر” بھی کہا جاتا ہے.

چین کا یہ یہ طیارہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا بھی حامل ہے اور کسی بھی ریڈار کو دھوکہ دے سکتا ہے، اس طیارے نے کئی بار بھارت کی حدود میں پرواز کی مگر بھارت کے کسی بھی ریڈار نے اسے نہیں دیکھا۔ آخری بار 2016 میں اس طیارے نے بھارت کے اندر جاکر سو منٹ تک پرواز کی۔ جب بھارت کو پتہ چلا تو بہت دیر ہو چکی تھی، جس کے بعد بھارتی میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔

یاد رہے چینی نیوی نے بھی اپنی آبدوز بھارتی پانیوں میں سے گزار کر کراچی لائی تھی، مگر بھارتی نیوی کو کچھ پتہ نہ چلا، بالآخر چینی میڈیا نے ہی یہ بات ظاہر کی جس کے بعد بھارتی میڈیا نے اپنی ہی نیوی پر پر تنقید کے نشتر برسا دیے۔ جس کے بعد بھارتی نیوی نے چینی نیوی کی آبدوزوں کی جاسوسی کرنے کے لئے امریکی نیوی کی مدد حاصل کی۔

چینی ساختہ JH-7A طیارے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ طیارہ دوسرے طیاروں کے ریڈاروں اور زمینی ریڈاروں کو بھی جام کر سکتا ہے، جس کے بعد دشمن کا ریڈار کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

مئی 2017 میں بھارت کا جدید ترین لڑاکا طیارہ “SU-30mki” چینی حدود کے پاس گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس کے بعد کچھ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طیارہ چینی الکٹرانک وارفئیر کی نظر ہوا ہے، جو کہ چینی فضائیہ کے JH-7A یا J-16 لڑاکا طیارے کی مدد سے ہوا۔ مگر کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک حادثہ تھا۔

Share This

About yasir

Check Also

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اغراض و مقاصد

بظاہر تین بڑے مقاصد حاصل کیے جائنگے پہلا : داعش اور اس کی ہم خیال …