Home / International / روس سوویت پروگرام قاتل طیارہ بردار شکن

روس سوویت پروگرام قاتل طیارہ بردار شکن

غیر منصفانہ طور پر بھلا دیے گئے “ایکرانو پلان” یعنی نیم طیارہ، نیم بحری جہاز میں، گذشتہ عرصے میں پھر سے بہت زیادہ دلچسپی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

یہ ایکرانو پلان یا “جی ای وی” پانی اور زمین پر ایروڈائنامکس یعنی بادی حرکیات کے استعمال سے، تھوڑا سا اوپر اٹھ کر ایک ہی رفتار سے چل سکتا ہے.

سوویت دور میں زمین سے چند میٹر بلند ہوکر متحرک رہنے والے اس “ایکرانو پلان” سے امریکی جاسوس بہت خائف ہوئے تھے۔

اسے بنائے جانے کے سوویت پروگرام سے متعلق اخبار “روسکی گزیتا” کو علی علی ایو نے بتایا ہے جو الیکسی ایو سے منسوب سنٹرل کنسٹرکشن بیورو میں انجنیر کنسٹرکٹر تھے۔

” اگر سادہ زبان میں بیان کیا جائے تو ایکرانو پلان ( جسے انگریزی دان ایکرانوپلین کہیں گے) طیاروں کے قوی انجن والا بحری جہاز ہوتا ہے جو پانی یا زمین کی سطح سے مس ہوئے بغیر تھوڑی سی بلندی پر چلتا ہے” اس منفرد مشین کے ایک خالق نے واضح کیا۔

ایکرانو پلان طیاروں اور بحری جہازوں سے بہت زیادہ معاملات کے حوالے سے مختلف تھا، تا حتٰی عسکری حوالوں سے بھی۔ یہ مشین طیاروں سے کہیں زیادہ وزن اٹھانے کی متحمل تھی، انتہائی با اعتبار تھی، اس کی رفتار بہت زیادہ تھی۔ اس کے لیے نہ تو ہوائی اڈہ درکار تھا اور نہ زمینی انفراسٹرکچر۔ بس اتنا ہی کافی تھا کہ اس کے پروں تلے جگہ خاصی مسطح ہو، چاہے وہ پانی ہو، برف یا زمین۔ اس کی ایک اور فوقیت اس کا مبنی بر کفایت شعاری ہونا تھا۔ تھوڑی سی بلندی پر پرواز کرنا بھی کچھ کم اہم معاملہ نہیں۔ یوں نہ صرف پانی اور زمین دونوں پر ہی اترنے میں سہولت رہتی ہے بلکہ یہ دشمن کے راڈار میں دکھائی دیے بغیر اپنے ہدف تک جا پہنچتا ہے اور زمین یا پانی پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی زد میں بھی نہیں آتا۔

ایکرانو پلان کا سب سے بڑا نقص اس کی صلاحیت کا محدود ہونا ہے۔ غیر مسطح مقامات پر یہ متحرک ہونے سے قاصر ہے اور اسی طرح اگر پانی کی سطح پر زور دار لہریں اٹھ رہی ہوں تب بھی۔ اس کا ایک اور نقص اس کے تحرک کی خصوصیت تھی۔ بلاشبہ وہ سریع رفتار ہے لیکن سیدھا چل سکتا ہے۔ اس کی دوسری چالوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن انتہائی احتیاط کے ساتھ۔

تاہم سوویت ادوار میں ایکرنو پلان کو پر از امکانات خیال کیا گیا تھا۔ 1960 کی دہائی میں ایسی تیار کردہ ایک مشین یعنی ایک بڑے ایکرانوپلان ” کے ایم” کی بحیرہ کیسپین میں آزمائش کی گئی تھی۔ آزمائش کے مقام پر اسے انتہائی رازداری کے حالات میں پہنچایا گیا تھا، صرف رات کے وقت ہی اس کو آگے لے جایا جاتا تھا۔

اس مشین کی طوالت ایک سو میٹر تھی اور پروں کی چوڑائی چالیس میٹر، یہ ساڑھے پانچ سو ٹن وزن زمین سے اوپر اٹھا سکتی تھی۔ یہ صرف اس کا شہری ماڈل تھا۔ جنگی ماڈل اس سے بھی زیادہ مہیب تھا۔ جاسوسی کے امریکی ماہرین اس سے متعلق اس قدر ششدر ہوئے تھے کہ انہوں نے اسے “ایم کے” جس کا سادہ مطلب “ماڈل بحری جہاز” تھا، کی بجائے “کیسپین کی سمندری بلا” کا نام دے دیا تھا۔

اس کے بعد کے سالوں میں اس کے مختلف طرح کے ماڈل بنائے جاتے رہے تھے۔ ان میں سے ایک جنگی میزائیل بردار ایکرونو پلان ” لون” تھا جس کی آزمائش 1980 کی دہائی میں کی گئی تھی۔

میں آج بھی مسحور ہو کر ایکرانوپلان 903 “لون” کی آزمائش کو یاد کرتا ہوں” علی علی ایو اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ اسے ہمارے ہاں یونہی “قاتل طیارہ بردار شکن” نہیں کہا گیا تھا۔ اس پر چھ عدد کم بلندی پر اڑنے والے، آواز کی رفتار سے تیز بحری جہاز شکن میزائل “موسکیت” ہوتے تھے، جن میں سے ہر ایک طیارہ بردار بحری جہاز کو غرق کر سکتا تھا۔

ایندھن کی عام مقدار کے ساتھ یہ دو ہزار کلومیٹر تک جا سکتا تھا اور اگر اضافی ایندھن ڈالا جاتا تو دو گنا فاصلہ طے کر سکتا تھا۔ ایکرانوپلان پانی کی سطح سے تب بھی چڑھ اتر سکتا تھا اگر پانچ درجے کا طوفان ہوتا اور لہروں کی بلندی ڈھائی میٹر تک ہوتی۔ یہ آزمائش اس قدر اہم تھی کہ خاص مصنوعی سیارچے کے ذریعے اس کی نگرانی تاحتٰی خلاء سے بھی کی گئی تھی”۔

سوویت حکام نے اسے بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے کی اجازت دے دی تھی اور اس کے خالقوں کے سامنے امکانات کا در کھل گیا تھا۔ ” ایکرانو پلان کی تیاری میں ہم دنیا بھر سے آگے تھے۔ سوویت یونین کا کئی جنگی ایکرونوپلان تیار کرنے کا منصوبہ تھا۔ یہ صرف شروعات ہوتیں” ان سالوں کو علی علی ایو تاسف کے ساتھ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔

سوویت وزارت دفاع چاہتی تھی کہ اس کے بیڑے میں ایک سو تک جنگی ایکرانوپلان ہوں۔ ممکن تھا کہ اس فیصلے پر مسلح افواج نظر ثانی کرتیں اور اس کے حوالے سے بحری اور ساحلی کارروائیوں کی حکمت عملی اور لائحہ عمل میں تبدیلی لائی جاتی۔

” سچ تو یہ ہے کہ ایکرانوپلان ہمارے ملک کے لیے ہیلی کاپٹر پردار فرانسیسی ساختہ جہاز “مسترال” سے کہیں بہتر ہوتا۔ اور ہاں کہیں زیادہ سستا بھی پڑتا۔ ایک مسترال کی قیمت سے کم سے کم چھ ” قاتل طیارہ بردار شکن” ایکرانوپلان تیار کیے جا سکتے تھے” علی علی ایو سمجھتے ہیں۔

کنسٹرکٹر کی رائے کے مطابق، روس کے چھاتہ برداروں کو کسی ملک میں پہنچ کر وہاں قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے روس کی بحریہ کو مسترال جیسے جہازوں کی ضرورت نہیں۔ اپنے ساحل کی حفاظت ایسے طیارہ بردار شکن ایکرانو پلانوں کے ذریعے کیا جانا کہیں حقیقی ہے۔

مگر 1980 کی دہائی میں وزیر دفاع اوستینوو انتقال کر گئے جو ایکرونو پلان کی تیاری کے منصوبتے کے زوردار حمایتی تھے، چنانچہ اس بارے میں طویل عرصے کے لیے بھلا دیا گیا۔ مگر جیسے کہا جاتا ہے نیا نو دن ، پرانا سو دن۔ نئے روس میں ایکرانو پلان میں پھر سے دلچسپی پیدا ہو رہی ہے۔ اس کو شہری مال اور مسافر برداری کے لیے استعمال کیے جانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

کرچنسک کھاڑی میں اسے استعمال کیے جانے کی باتیں تو ابھی سے ہونے لگی ہیًں۔ ممکن ہے کہ وزارت دفاع بھی نئے “قاتل طیارہ بردار شکن” تیار کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہو لیکن فی الحال ہمیں اس بارے میں معلوم نہیں۔

Share This

About yasir

Check Also

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اغراض و مقاصد

بظاہر تین بڑے مقاصد حاصل کیے جائنگے پہلا : داعش اور اس کی ہم خیال …