Home / Pakistan / چند ایسے کام جو بطور وزیر اعظم اگر عمران خان کردیں تو قیامت تک پاکستان ان کا احسان مند رہے گا۔

چند ایسے کام جو بطور وزیر اعظم اگر عمران خان کردیں تو قیامت تک پاکستان ان کا احسان مند رہے گا۔

جب کسی جسم کی سرجری کرنی ہو تو مرض کو دیکھ کر سرجری کی جاتی ہے، اور مرض جتنا زیادہ مہلک یا پھر پھیلا ہوا ہو سرجری میں چیرپھاڑ بھی اتنی زیادہ ہوتی ہے، پاکستان کے موجودہ فرسودہ نظام جو صرف اور صرف طاقتوروں کے مفاد کے لیے ہے کو ختم کرنا بہت ضروری ہے، اس کے لیے ملک کے اندر  اسلامی نظام لانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔

ہمارے ملک کا کوئی بھی ادارہ اس طرح سے ترقی نہیں کر رہا جس طرح سے کرنی چاہیے، کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ ہمارے ملک سے برکت اٹھا لی گئی، کیونکہ جہاں ظلم کا نظام ہو وہاں برکت نہیں رہتی، ہم نے اپنے ملک کے ہر ادارے میں سیاسی بھرتیاں کرکے ان اداروں اور خاص طور پر اپنے ملک کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں۔ اور رہتی کسر منافع بخش اداروں کو پرائیویٹ کر کے پوری کر دی گئی۔

اس وقت دل کو تسکین ملی جب وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے کمزور طبقے کو اوپر لانے کے لئے زیادہ سے زیادہ کام کیا جائے گا۔ ہم نچلے طبقے کو اوپر کس طرح لا سکتے ہیں آئیے جانتے ہیں۔

سب سے پہلے ایک ادارہ ایسا بنایا جائے جو ملک کے اندر جتنے بھی فحاشی کے اڈے ہیں کو بند کروائے، اور نہ صرف بند کروائیں بلکہ وہاں کام کرنے والی خواتین کو بہتر روزگار مہیا کروائے، ایسی خواتین کو سزا دینے کے بجائے ہنر سکھایا جائے تاکہ وہ کسی مجبوری کے تحت جسم فروشی جیسے غلیظ کاموں سے نجات حاصل کر سکیں۔ ہنر سکھانے کے بعد انہیں پاکستان کی ثقافت کے مطابق ہاتھوں سے تیار کردہ اشیاء تیار کروا کر ملکی زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ایسی اشیا کی تیاری سے نہ صرف ان خواتین کا گھر چلے گا بلکہ پاکستان ان اشیاء کو دوسرے ممالک کو فروخت کرکے نہ صرف اپنی معیشت کو بہتر کر سکتا ہے بلکہ اپنی ثقافت کو پوری دنیا میں دکھا سکتا ہے۔ وزیراعظم ملک کی ترقی کے لیے انتہائی پرجوش ہیں اور جہاں جہاں ضرورت ہے وہاں ٹاسک فورس بنائی جا رہی ہے، وزیراعظم عمران خان کو اس کام کے لیے بھی ایک ٹاسک فورس بنا دینی چاہیے جو نئے قائم کردہ ادارے کے لیے کام کرے۔

یقین کیجئے ایسا کرنے سے ایک طرف فحاشی کی حوصلہ شکنی ہو گی اور دوسری طرف لڑکیوں کا اغوا اور ان کی سمگلنگ بند ہو جائے گی۔ اس مقصد کے لیے قائم کیے گئے ادارے کو اگر مزید بڑا کیا جائے تو خواجہ سراؤں کو ملکی مفاد میں کام کرنے کے لئے مختلف شعبوں میں لیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ سڑکوں پر پیشہ ور گداگر پھرتے ہیں جو مختلف وارداتوں میں بھی اکثر ملوث نکلتے ہیں، ایسے گروہوں کو بڑے بڑے معافیاز چلاتے ہیں، ہمیں ان مافیاز  تک پہنچنا ہوگا، اور اس غلیظ دھندے کو ختم کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ ملک میں ایک ایسا ادارہ بھی قائم کیا جانا چاہیے جو بزرگوں کے حقوق کے لئے کام کر سکے، بزرگوں کے ساتھ ناروا سلوک بڑھتا جارہا ہے، اور اکثر تو دیکھا جاتا ہے کہ اپنی ہی اولاد والدین کو گھر سے باہر دھکیل دیتی ہے، ہمیں چین کی طرح اس اہم مسئلے پر بھی کام کرنا ہوگا۔

ملک میں کو ایجوکیشن کے نظام کو ختم کر کے خواتین اور مردوں کے الگ الگ تعلیمی ادارے بنانے ہوں گے۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں تعلیم بلکل مفت کرنا ہوگی، کیونکہ ہمارے ملک میں ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، تعلیم کو مفت کرنے کے بعد بھی جو والدین اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجیں ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک کا ایک اہم ترین مسئلہ یہ بھی ہے کہ جگہ جگہ ناقص اور ملاوٹ شدہ اشیاء تیار کی جارہی ہیں، ملاوٹ شدہ اشیاء تیار کرنے پر سخت ترین سزا رکھنے کی ضرورت ہے، اور یقیناً وزیراعظم عمران خان اس اہم مسئلے پر بھی غور کریں گے، کیونکہ ان کے اہم نکات میں بچوں کی دماغی گروتھ پر کام کرنا بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ ہمارے ملک میں ایک اور طبقہ بھی ہے جس کی مدد کرنا ضروری ہے، اور وہ طبقہ ہے معذور افراد کا، جو لوگ ذہنی معذور ہیں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انھیں وظیفہ دیا جائے جبکہ جو لوگ کسی ایک ٹانگ یا پھر دونوں ٹانگوں سے معذور ہوں۔ انہیں تعلیم کے بعد یا پھر ساتھ ان کی معزوری کے مطابق کام سکھایا جائے، تاکہ انتہائی مختصر وقت میں وہ زیادہ پیسا    کما کر اپنے بہتر مستقبل کے لئے دیکھے گئے خوابوں کو پورا کر سکیں۔

ملک کےکمزور طبقے کو مضبوط کر کے ملک کی طاقت بنایا جا سکتا ہے۔یہ لوگ پاکستان پر بوجھ نہیں بلکہ اس کا سہارا بن سکتے ہیں، تاہم اس کا دارومدار نیک نیت پر ہے، یہ تمام کام کرنے سے خدا ہم سے راضی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ باد۔

Share This

About yasir

Check Also

کن کن محاذوں پر ملک کا دفاع ضروری ہو چکا ہے

جہاں پاکستان کے دفاع کی بات آتی ہے تو یہ دفاع صرف اور صرف میدان …