Home / International / گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اغراض و مقاصد

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اغراض و مقاصد

بظاہر تین بڑے مقاصد حاصل کیے جائنگے

پہلا : داعش اور اس کی ہم خیال جماعتیں مختلف ملکوں میں مقامی افواج کے ہاتھوں اور افغانستان میں افغان طالبان کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہیں۔ نظریاتی طور پر بھی یہ گروہ بیک فٹ پر ہیں۔ اس لیے دنیا بھر میں ان کو بھرتیاں ملنا بہت کم ہوگئی ہیں۔ افرادی قوت کی کمی ہی کی وجہ سے ان کو افغان طالبان سے بھی مار پڑ رہی ہے۔ داعش کی شکست کا مطلب امریکہ کی شکست ہے۔

توہین رسالت کمزور سے کمزور ایمان والے مسلمان کو بھی پاگل کر سکتی ہے۔ اس کو جواز بنا کر بہت سے سرفروش مسلمانوں کو یہ تنظمیں بدلے کا جھانسا دے کر بھرتی کر لیتی ہیں جس کے بعد وہ مسلمان نادانستگی میں انہی کے مفادات کے لیے جانیں دے دیتے ہیں جنہوں نے دراصل یہ سارا کھیل رچایا تھا۔ آپ دیکھیں گے آنے والے دنوں میں امریکی سرپرستی میں لڑنے والی داعش جیسی جماعتوں کو نئی افرادی قوت میسر آئیگی۔

دوسرا : دنیا بھر میں اسلام کو ایک دہشت گرد مذہب کے طور پر پیش کرنے کا عمل جاری و ساری ہے۔ یورپ و امریکہ میں رہنے والے عام عیسائی اور یہودی کبھی نہیں سمجھ سکتے کہ مسلمان اپنے رسولﷺ سے کیسی محبت کرتے ہیں اور اس قسم کی چیزیں ان کے لیے کس قدر تکلیف دہ ہیں۔

( یہ ہمارا کام تھا کہ ہم ان کو سمجھاتے لیکن ہم یہ نہیں کر پائے )

چنانچہ جب مسلمان ردعمل دیتے ہیں تو یہ سارا کھیل رچانے والے دنیا کو پیغام دیتے ہیں کہ درحقیقت اسلام عدم برداشت کا مذہب ہے اور مسلمان محض ایک ” معمولی” بات پر خون خرابے پر تل گئے ہیں۔ یوں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف عام عیسائیوں اور غیر مسلموں میں نفرت پیدا کی جاتی ہے۔ عمران خان نے بھی اپنی تقریر میں اسی طرف اشارہ کیا تھا۔ عین ممکن ہے کہ اب یورپ یا کسی مغربی ملک میں کوئی دہشت گردانہ کاروائی بھی کر لی جائے جس کا سہرا مسلمانوں کے سر ڈالا جائے۔

تیسرا : اسرائیل اپنے فیصلہ کن خروج اور بیت المقدس میں ہیکل بنانے کے بہت قریب ہے۔ یہ بہت بڑا اقدام ہے جس پر مسلمانوں کے ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے لیے اس کو تمام یورپ اور امریکہ اور ان کی عوام کی مدد و حمایت درکار ہوگی۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب پورے مغرب اور اسلام کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا جائے۔

چوتھا : مجموعی طور پر مسلمان حکمرانوں پر بے حسی طاری ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ عمران خان کے علاوہ اس معاملے پر امت مسلمہ کے کسی حکمران نے کوئی آواز اٹھائی ہے۔ مسلم حکمرانوں کی اس بے حسی کو جواز بنا کر کوشش کی جائیگی کہ مسلمان ممالک میں مقامی حکومتوں کے خلاف شورش، بغاؤت اور دنگے فسادات کروائے جائیں۔

میں نے کچھ عرصہ پہلے ملعون گیرٹ ویلڈر کے اسرائیل کے ساتھ روابط پر لکھا تھا۔ ان روابط کے بعد ہی اسلام کے خلاف اس نے اپنی مہم شروع کی تھی۔ یہودی اس طرح کے بڑے کام بلا سوچے سمجھے نہیں کرتے بلکہ بہت احتیاط سے ناپ تول کر منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اپنے مقاصد کا واضح تعئن کرتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ گیرٹ ویلڈر محض کٹھ پتلی ہے اور اس کے پشت پر موجود قوت محض مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لیے یہ حرکت نہیں کررہی بلکہ وہ کچھ اہم مقاصد کا حصول چاہتی ہے۔ بطور مسلمان اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم نہ صرف اس قسم کی گھناؤنی حرکتوں کو روکنے کی کوشش کریں بلکہ ان مقاصد کو بھی پورا نہ ہونے دیں جس کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔

عمران خان نے اس پر بہترین لائحہ عمل پیش کیا ہے کہ پہلے اسلامی ملکوں کو اس پر اکھٹا کیا جائے گا پھر اس کے خلاف اقوام عالم میں بھرپور آواز اٹھائی جائے، مسلمان ممالک کے یکجا ہونے سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت جیسے کاموں کو ہمیشہ کے لئے روکا جا سکتا ہے۔ اور عمران خان یہی چاہتے ہیں کہ اس پر پوری دنیا میں قانون سازی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کبھی بھی کوئی توہین آمیز خاکے نہ بنائے۔ اور قانون سازی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ تمام مسلمان ممالک مل کر دباؤ ڈالیں۔

انہوں نے ھولوکاسٹ کی بھی مثال دی کہ عام عیسائیوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ ھولوکاسٹ کے خلاف بات کرنے پر یہودیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ ہمیں بھی عام غیر مسلموں کو بتانا ہے کہ توہین رسالت کرنے پر مسلمانوں کو اذیت ملتی ہے اور یہ سچ ہے کہ عام غیر مسلم واقعی مسلمانوں کے ان احساسات سے ناواقف ہیں۔

گستاخوں سے نمٹنے کے دو طریقے رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں۔ ایک ان کا قتل اور دوسرا وہ جب حضرت علی (ر) کے ذریعے ایک گستاخ شاعر کو درہم دے کر رخصت کیا گیا جو فوراً واپس آکر مسلمان ہوگیا اور نعتیں لکھنے لگا۔

اسلام ہمیں بہت سے معاملات میں بیک وقت بہت سے آپشنز دیتا ہے حالات اور حکمت کے مطابق جو بہترین ہو وہ اختیار کرنا چاہئے۔

تحریر: شاہد خان

Share This

About yasir

Check Also

نریندر مودی’ ٹرمپ اور مسلمان

ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کی آمد کو بند اور …