Home / Pakistan / نیشنل ایکشن پلان اور عمران خان کا جارحانہ انداز

نیشنل ایکشن پلان اور عمران خان کا جارحانہ انداز

عمران خان 17 اگست کو وزیراعظم منتخب ہوئے، منتخب ہونے کے فوراً بعد نہایت جارحانہ انداز میں ملک دشمنوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ ملک کو لوٹنے والے کسی بھی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا۔ قوم جس تبدیلی کے لیے ستر سال سے انتظار میں تھی وہ وقت آن پہنچا ہے۔

اس تقریب کے بعد دوسرے دن یعنی 18اگست کو عمران خان نے وزیراعظم کا حلف لے لیا، اور پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم بن گئے۔ انہوں نے 19 اگست رات ساڑھے نو بجے بطور وزیراعظم قوم سے خطاب کیا، یہ خطاب غیر معمولی تھا، کیوں کہ آج تک پاکستان کے کسی بھی وزیراعظم نے ایسا خطاب نہیں کیا، ملک کے اہم مسائل بتائے اور پھر انکا حل بھی بتایا۔

کئی پاکستانی اس بات سے حیران ہیں کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ان کے جارحانہ انداز میں اضافہ کیوں ہوا؟ وزیراعظم کے خطاب سے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ پاکستان کے ہر مسلئے کو حل کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام شروع ہونے جا رہا ہے؟

مجھے ذاتی طور پر ایسا لگتا ہے کہ فوج اور وزیراعظم عمران خان کی خوب جمے گی، اور فوج جس نیشنل ایکشن پلان پر پچھلی حکومت سے کام لینے میں ناکام رہی تھی اب عمران خان اس نیشنل ایکشن پلان کو پورا کرنے جا رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان اسی نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان کے بڑے مافیا پر ہاتھ ڈالنے جارہے ہیں، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پوری قوم تیار رہے یہ مافیا سڑکوں پر بھی نکلے گا حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا مگر آپ نے بطور قوم پیچھے نہیں ہٹنا، اب یا تو صرف ملک رہے گا یا پھر یہ مافیا۔

یہ باتیں آج سے پہلے کبھی نہیں سنی گئیں، عمران خان اس معافیا پر ہاتھ ڈالنے جارہا ہے جس پر ہاتھ ڈالنے کے لیے فوج نے پچھلی حکومت کو کہا تھا، مگر یہ کام کرنا نواز شریف یا زرداری کے بس کی بات نہیں کیونکہ یہ دونوں خود ایک مافیا ہیں، اور ان کے تعلقات پیٹرول مافیا، گیس مافیا، لینڈ مافیا، ٹمبر مافیا، شوگر مل مافیا سے ہیں، اور نہ صرف تعلقات ہیں بلکہ رشتے داریاں بھی ہیں۔

یہ مافیا بھارت افغانستان اور ایران کے زیر اثر ہیں، اور ایک انتہائی ترتیب شدہ پروگرام کے تحت پاکستان کو بے حد نقصان پہنچا رہے ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آرمی خود اس مافیا کو چند دنوں میں ختم کر سکتی ہے تو پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا، دراصل نیشنل ایکشن پلان کا مقصد صرف انہیں ختم کرنا نہیں بلکہ آئندہ بھی ایسے مافیاز کو جنم لینے سے روکنا ہے، جس کے لیے قانون سازی کرنی پڑتی ہے اور پولیس کا نظام بھی بہتر کرنا پڑتا ہے۔

فوج جنگی بنیادوں پر کام کرسکتی ہے مگر دیرپا بہتر نتائج کے لئے وزیر اعظم کا جی ایچ کیو سے بہتر رابطہ ضروری ہے، اور یہ کام ایک ایسا وزیراعظم ہی کر سکتا ہے جو خود مافیا نہ ہو، یا پھر کسی بیرونی ایجنسی کے زیر اثر نہ ہو۔ اسی لیے وزیراعظم عمران خان نے یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ ملک کے حالات یہ تمام دشمن مل کر خراب کر سکتے ہیں مگر ہم اس حالت میں نہیں ہیں کہ انہیں کسی صورت معاف کیا جا سکے اس لیے اب جو بھی ملکی مفاد میں ہو گا وہ کر گزریں گے۔

کچھ ہمارے پاکستانی یہ بھی کہتے پائے گئے کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کشمیر کا ذکر تک نہ کیا، میرے پاکستانی بھائیو کشمیر کا مسئلہ اسی وقت حل ہوگا جب پاکستان داخلی اور خارجی طور پر مستحکم ہوگا۔ ہمارے اوپر بیرونی قرضوں کا جو بوجھ لاد دیا گیا، اس کے ہوتے ہوئے ہم کشمیر کی فوجی، سیاسی یا مالی مدد تو دور، اخلاقی مدد بھی نہیں کرسکیں گے۔

ادھر ہم بھارت کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کہیں گے تو جواب میں ہمیں ملک کے اندر حالات خراب ہوتے نظر آنا شروع ہو جائیں گے، بھارت اپنے کارندوں کو پاکستان کے اندر کارروائیاں کرنے کا اشارہ دے دے گا، کیا آپ نے بھارت کے سابقہ آرمی چیف بکرم سنگھ کی وہ ویڈیو نہی دیکھی جس میں وہ کہتے پائے گئے کی پاکستان کو اندرونی مسائل میں اتنا مصروف کر دینا چاہیے کہ پاکستان اصل مسائل پر بات کرنا ہی بھول جائے۔

اس لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے ملک کے اندر سے دشمنوں کا خاتمہ کیا جائے پھر سرحدوں پر موجود دشمنوں سے نپٹا جائے ، اور پاکستان کے تقریبا ہر شہری کے یہی جذبات ہیں جن کی عکاسی وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کی ہے، عمران خان کے دور میں ہی آپ دیکھیں گے کہ انشا اللہ مسئلہ کشمیر پر بریک تھرو ملے گا۔ پہلے دو سال پاکستان کو درست راستے پر ڈالنے کے بعد وزیراعظم کشمیر، افغانستان اور ہمسایہ ممالک کی طرف متوجہ ہوں گے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دو سال کے دوران کشمیر نظرانداز رہے گا، ہر گز نہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ اگلے چند دنوں کے اندر اندر کشمیر کے اہم لیڈروں سے وزیراعظم کا ایک اعلی سطحی وفد ملاقات کرے گا جس کی بھارت کو بہت مرچیں لگیں گی۔

اس کے علاوہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے زبردست اعلان کیا ہے، دوسرے ممالک میں موجود پاکستانیوں کے ساتھ ہونے والا برا سلوک اب زیادہ دیر نہیں چلے گا، بے گناہ پاکستانیوں کو دوسرے ممالک کی جیلوں سے نکالا جائے گا، اور جس طرح بھارت اور امریکہ اپنے شہریوں کو پوری دنیا میں تحفظ دیتے ہیں اسی طرح پاکستان بھی اپنے شہریوں کو تحفظ دے گا۔

ملک میں دہشت گردی ختم کرنے کے لیے فوج کے ساتھ ساتھ بہتر نظام سے لیس پولیس کی بھی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ پولیس کی رسائی ہر شہر ہر گاؤں تک ہوتی ہے، اور ملک میں چھپے خطرناک دشمنوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف کاروائی پولیس کیا کرتی ہے، اس حوالے سے بھی وزیراعظم نے انتہائی زبردست اقدام اٹھانے کا ارادہ کر لیا ہے، خیبر پختونخوا میں موجود آئی جی ناصر دورانی کو پنجاب پولیس کو ٹھیک کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے۔

یہ وہ کام ہیں جو ہر محب وطن پاکستانی چاہتا ہے کہ اب ہو جانے چاہییں، کوئی بھی محب وطن پاکستانی وزیراعظم پاکستان کے ان زبردست فیصلوں کو غلط قرار نہیں دے سکتا، ہم سب نے مل کر دعا کرنی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو اللہ تعالیٰ ان تمام فیصلوں پر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، یہاں یہ بات کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں وزیر اعظم عمران خان کو فلحال اپنی سکیورٹی کم نہیں کرنی چاہیے تھی جب تک کہ پاکستان کو پوری طرح سے محفوظ ملک نہیں بنایا جاتا۔

ایسے جارحانہ فیصلے کرنے والے صاف نیت لوگ اس منصب تک بہت کم ہی پہنچتے ہیں، اوراگر کوئی پہنچ بھی جائے تو اسے دوسرے ملک کی ایجنسیاں مروا دیتی ہیں، اور یہی ہماری تاریخ رہی ہے، جو بھی لیڈر پاکستان کے حق میں ہوا اسے قتل کروا دیا جاتا رہا۔ فلحال پاکستان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ اس جیسے انسان کو کھو دے۔

Share This

About yasir

Check Also

کن کن محاذوں پر ملک کا دفاع ضروری ہو چکا ہے

جہاں پاکستان کے دفاع کی بات آتی ہے تو یہ دفاع صرف اور صرف میدان …