Home / Pakistan Army / دنیا کا سخت ترین پٹرول ٹیسٹ اور پاک فوج

دنیا کا سخت ترین پٹرول ٹیسٹ اور پاک فوج

برطانیہ میں ہر سال “ایکسرسائر کیمبرین پٹرول” کے نام سے فوجی مقابلے ہوتے ہیں جن میں امریکہ، انڈیا اور اسرائیل سمیت دنیا کے تقریباً 140 ممالک کے فوجی دستے حصہ لیتے ہیں۔

یہ مشقیں 7 مختلف مراحل پر مشتمل ہوتی ہیں۔ جن میں فوجیوں کو تمام فوجی آلات سے لیس ہوکر 50 میل یا 80 کلومیٹر کا ایک مشکل ترین سفر دم لیے بغیر اور سوئے بغیر 48 گھنٹوں میں طے کرنا ہوتا ہے۔ ان فوجی آلات کا وزن تقریباً 60 پونڈ ہوتا ہے یعنی تقریباً 28 کلو۔ اور ایک دستے میں کل 8 فوجی ہوتے ہیں۔

یہ راستہ جنگلات، 249 پہاڑیوں اور صحراؤوں پر مشتمل انتہائی پرپیچ اور مشکل راستہ ہے۔ اسی میں دفاعی فائرنگ کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ سخت جان کے علاوہ ذہانت کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ اور ایک بہت مشکل دریا کو بھی عبور کرنا اسی میں شامل ہے۔ اس کو دنیا کا سخت ترین پٹرول ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔

ان مقابلوں کا آغاز 40 سال قبل کیا گیا۔ لیکن 2006ء میں برطانیہ نے ان مقابلوں میں دیگر ممالک کی افواج کو بھی شامل کیا۔ جس کے بعد یہ عالمی نوعیت کے مقابلوں میں تبدیل ہوگیا۔ ان مقابلوں کے لیے دنیا بھر کے ممالک اپنے بہترین کمانڈوز بھیجتے ہیں لیکن اس کے باؤجود 30 فیصد سپاہی یہ فاصلہ مکمل ہی نہیں کر پاتے۔

تاہم جب سے پاک فوج نے دنیا کی اس سب سے بڑی ملٹری ایکسرسائز میں حصہ لینا شروع کیا ہے دنیا کو تمام افواج کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پچھلے 12 سال کے دوران پاک فوج ان مقابلوں کو میں سب سے زیادہ بار گولڈ میڈل لینے والی فوج بن چکی ہے اور پچھلے چند سال سے تو مسلسل جیت رہی ہے۔

ان مقابلوں میں سب سے سخت مقابلہ 2017ء کا تھا جس میں موسم بہت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے حالات بدترین ہوگئے اور مقابلے میں حصہ لینے والے 47 فیصد سپاہی اس سفر کو پورا ہی نہیں کر سکے تھے۔ لیکن اللہ کے فضل سے پاک فوج نے یہ مقابلہ بھی جیت لیا اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔

پاک فوج عالمی مقابلے جیتتی رہی ہے لیکن اس وقت میڈیا پر کوریج نہیں ہوتی تھی۔ تاہم جب سے میڈیا نے کور کرنا شروع کیا ہے لوگوں کو پاک فوج کی صلاحیتوں کا علم ہوا ہے۔

عالمی فوجی مقابلوں کے حوالے سے پاک فوج دنیا بھر میں الگ شناخت رکھتی ہے اور زیادہ تر مقابلے جیت جاتی ہے۔ مثلاً برطانیہ میں دنیا کا سب سے بڑا فوجی مقابلہ ” ایکسرسائز کیمرین پٹرول” پچھلے تین چار سال سے مسلسل جیت رہی ہے۔ 9 اگست 2013 کو پاکستانی کیڈٹ اسد مشتاق نے برطانیہ میں سورڈ آف آنر جیتا۔

23 نومبر 2014 کو پاک فوج کے پہلوان اظہر حسین نے دہلی میں منعقد کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لیا اور سب کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیت لیا۔ اسی سال پاک آرمی کی ٹیم میں آسٹریلیا میں ایک فوجی مقابلہ جیتا جس ایک علاقے کا نقشہ بنانا تھا اور اس سے نکلنا تھا۔

جولائی 2016ء میں پاکستان ائر فورس کے سی ون تھرٹی ہرکولیس جہاز نے برطانیہ میں ” کانکر ڈی ایلی گنس” ٹرافی جیت لی۔ اس مقابلے میں دنیا کے پچاس ممالک کے 200 طیاروں نے حصہ لیا تھا جس میں پاکستان ائر فورس نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 25 اگست 2016 کو پاکستان نے بیجنگ میں منعقد انٹرنیشنل سنائپر کمپیٹیشن جیت لیا۔ یہ نشانہ بازی کا مقابلہ تھا۔ اس میں 14 ممالک کے 21 سنائپرز نے حصہ لیا تھا۔ لیکن پاکستانی سنائر ” نائک ارشد” ان سب پر بازی لے گیا۔

ابھی چند دن پہلے 19 جون 2018ء کو پاک فوج نے برطانیہ میں ہونے والا انٹرنیشنل ملٹری ڈرل کا مقابلہ جیت لیا۔ اس مقابلے میں پاک فوج نے پہلی بار حصہ لیا تھا۔ اس میں تعلیم، تربیت اور جسمانی فٹنس کے مقابلے شامل تھے۔ پاک فوج اپنی انہی صلاحتیوں کا مظاہرہ میدان جنگ میں بھی کرتی ہے اس لیے دنیا کی واحد فوج ہے جس نے فاٹا جیسی پرپیج اور مشکل پہاڑی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی اور جیتی۔

وہ بھی تب جب فوج کو پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا کے علاوہ عوام کے ایک بڑے حصے کی حمایت حاصل نہیں تھی ڈس انفارمیشن وار کی وجہ سے۔ پاک فوج کی یہ فتح شائد انسانی تاریخ میں لڑی جانی والی جنگوں میں مشکل ترین فتوحات میں سے ایک تھی۔

پاک فوج زندہ باد

تحریر: شاہد خان

Share This

About yasir

Check Also

روس سے جدید اسلحے کا حصول

2005ء میں بھارت اور امریکہ کے درمیان سول جوہری معاہدہ اور 2008ء میں امریکی کانگریس …