Home / Pakistan / راولپنڈی میں فوجی اسلحہ ڈپو تباہ کروانے کے پیچھے کون تھا

راولپنڈی میں فوجی اسلحہ ڈپو تباہ کروانے کے پیچھے کون تھا

آج سے 30 سال قبل 10 اپریل 1988ء کو اچانک پنڈی اور اسلام آباد کی فضا دھماکوں سے گونچ اٹھی۔ جڑواں شہروں پر راکٹوں کی بارش ہوگئی۔
لوگوں کو لگا کہ بھارت نے حملہ کر دیا ہے۔ راکٹ جگہ جگہ کر رہے تھے۔ کم از کم 100 لوگ ان راکٹوں کی زد میں آکرجانبحق ہوگئے جبکہ 1300 کے قریب زخمی ہوئے۔ کئی گھنٹوں بعد پتہ چلا کہ مری روڈ پر اوجڑی کیمپ کے نام سے مشہور پاک فوج کے ہتھیاروں کے گودام میں آگ لگنے سے یہ حادثہ ہوا ہے۔

اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے نہایت عجلت میں پانچ ارکان پر مشتمل ایک پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی اور اس کے لیے صدر ضیاء الحق سے مشورہ تک کرنا گوارہ نہ کیا جس کویت کے دورے پر تھے اور وہاں سے ایران کا ایک تاریخ ساز دورہ کرنے والے تھے اور ایران میں پہلی بار ضیاء الحق کے شاندار استقبال کی تیاریاں جاری تھیں۔

اس حادثے کی وجہ سے ضیاء سارا مشن ادھورا چھوڑ کر پاکستان واپس آگئے اور تہران مشن موخر کر دیا جس کی نوبت دوبارہ کبھی نہیں آسکی۔

اس حادثے کے ذریعے پاک فوج کے بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔

اور اس حادثے میں وہ سارا قیمتی اسلحہ بھی ضائع ہوگیا جو روس کے واپس چلے جانے کے بعد مجاہدین کو ملنا تھا تاکہ وہ روسی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف فیصلہ کن فتح حاصل کر کے اپنی حکومت بنا سکیں۔ ایسا نہ ہوسکا اور افغانستان ایک لمبی خانہ جنگی کا شکار ہوگیا اور پاکستان ہجرت کرنے والی افغانی یہیں رہ گئے۔

جونیجو کی قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی کے چیرمین اسلم خٹک تھے جو اس وقت وزیر داخلہ تھے لیکن اس کمیٹی کا سب سے خطرناک کردار پیپلز پارٹی سے وابستہ رانا نعیم نامی شخص تھا۔ وہ اس معاملے کو ایک خطرناک رخ دینے کی کوشش کر رہا تھا جس پر اس میں اور اسلم خٹک میں اختلافات کی خبریں بھی آئیں۔

اس پارلیمانی کمیٹی سے وابستہ سازشی عناصر اوجڑی کیمپ کے حادثے کی پارلیمانی تحقیقاتی رپورٹ کو جس انداز میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے تھے وہ اتنا خوفناک تھا کہ پاکستان کے امور خارجہ، دفاع اور بالخصوص ایران اور دیگر کئی مسلم ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور بھارت کے ساتھ انتہائی حساس نوعیت کے معاملات پر کاری ضرب لگتی۔

پاکستان کے لیئے بچھائی گئی اس بارودی سرنگ کا کنٹرول روم ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت تھی یعنی جونیجو حکومت۔ اس لیے وہاں سے اس کا رابطہ ختم کرنا ضروری تھا۔

اس پارلیمانی کمیٹی کنوئر نعیم احمد نے اپنی رپورٹ میں ایسے واؤ چرز کا تذکرہ کیا جن پر سٹنگرز کی تعداد تو لکھی ہوتی تھی لیکن یہ درج نہیں تھا کہ کہاں بھیجے گئے ہیں۔

پاک فوج کے افسران سے باربار اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے شروع میں اس سوال کا جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا جس پر رانا نعیم نے پاک فوج پر الزام لگانا شروع کیا کہ انہوں نے اوجڑی کیمپ کا اسلحہ بیچا ہے اور ریکارڈ ضائع کرنے کے لیے اوجڑی کمیپ کو اڑ دیا ہے۔
( کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ اگر ریکارڈ ہی ضائع کرنا تھا تو سارے واؤچر اور دیگر متعلقہ کاغذات کیوں چھوڑ دئیے گئے تھے؟ )

بہرحال جب اوجڑی کیمپ کو بہانہ بنا کر پاک فوج کے ادارے کی ساکھ کو نشانہ بنایا جانے لگا تو فوج نے پارلیمانی کمیٹی کا اس معاملے پر اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔

کہا جاتا ہے کہ پاک فوج نے تین ملکوں کے نام دئیے تھے جہاں افغانستان کے علاوہ بھی امریکہ سے چھپا کر یہ سٹنگرز بھیجے گئے تھے۔

ان میں پہلا ملک ایران تھا۔ جس کو جنرل ضیاء نے صدام حسین کی جارحیت روکنے کے لیے سٹنگرز فراہم کیے تھے۔ ان سٹنگرز کی وجہ سےایران نے عراق کا حملہ روک دیا تھا جو امریکہ فرمائش پر جاری تھا۔
دونوں ممالک میں جنگ بندی پر امریکہ سمیت کئی ملکوں کو شدید تکلیف ہوئی تھی لیکن زیادہ تکلیف دہ خبر یہ تھی کہ اس جنگ بندی کے پیچھے پاک فوج کا کردار ہے جس نے غالباً عراقی فضائی برتری ختم کرنے کے لیے ایران کو سٹنگرز فراہم کیے تھے۔

وہ سٹنگرز جو امریکہ کے بعد صرف پاکستان کے پاس ہونے چاہئیں تھے ان کی ایران کے پاس موجودگی نے پوری دنیا میں تہلکہ مچایا تھا۔ ایران کا موقف تھا کہ اس کو یہ سٹنگرز افغان مجاہدین سے ملے ہیں لیکن امریکہ کو جنرل ضیاء پر دو وجوہات سے شبہ تھا۔
پہلی اس کی ایران کے ساتھ بڑھتی قربت اور اسلامی بلاک بنانے کی کوشش۔
اور دوسری عراق ایران میں ضیاء کی صدام حسین سے جنگ بندی کی اپیل جس پر اس نے کان نہیں دھرے اور خمیازہ بھگتا۔

دوسرا ملک جہاں یہ سٹنگرز بھیجے گئے تھے سری لنکا تھا۔ سری لنکا میں ممکنہ طور پر یہ سٹنگرز دو وجوہات کی بنا پر جارہے تھے۔ پہلی لبریشن ٹائیگرز اور تامل ایلام کے خلاف جو اپنی ائر فورس بنانے والے تھے۔
اور دوسری خود انڈیا کے خلاف۔

اور تیسرا ملک خود انڈیا تھا جہاں یہ سٹنگرز کشمیری مجاہدین اور سکھوں کو مل رہے تھے۔ جنرل ضیاء کو یقین تھا کہ جب خالصتان تحریک زور پکڑے گی تو سکھوں کی گوریلا کاروائیوں کے خلاف انڈین زمینی افواج بہت جلد شکست سے دوچارہ ہوجائنگی جس کے بعد انڈیا اپنی ائیر فورس استعمال کرے گا جس کا سٹنگرز کی مدد سے عبرتناک حشر کیا جا سکے گا۔

قومی سلامی اور پاکستان اور امت مسلمہ کے مفادت کے پیش نظر پارلیمانی کمیٹی کو یہ معاملہ خفیہ رکھنا چاہئے تھا۔

لیکن رانا نعیم جن کو غالباً اسی مقصد کے لیے اس کمیٹی کا حصہ بنایا گیا تھا اس نے پوری رپورٹ ہی اسی بنیاد پر ڈرافٹ کی اور آخر میں دوبارہ وہی نتیجہ اخذ کیا کہ چونکہ پاک فوج ان تین ممالک کو سٹنگرز فراہم کر رہی تھی اس لیے ریکارڈ اڑانے کے لیے اوجڑی کیمپ میں خود دھماکہ کروایا۔
( یہ بات دوبارہ دہرا رہا ہوں کہ پاک فوج کو اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ پہلی بات یہ کہ جعلی ریکارڈ تیار کیا جا سکتا تھا، اگر ریکارڈ اڑانا تھا تو باقی ریکارڈ بچ کیسے گیا؟ اور پاک فوج نے سٹنگرز کی تباہی فوجیوں اور سولینز کی شہادتوں کی شکل میں اپنا جو نقصان کیا اس کا ازالہ کیسے ہوتا؟ )

کمیٹی کے چیرمین اسلم خٹک رپورٹ کے یہ مندرجات دیکھ کر سناٹے میں آگیا اور فوری طور پر رپورٹ لے کر غائب ہوگیا۔
چند دن بعد واپس آیا تو رپورٹ میں ایسی تبدلیاں کر لی گئیں تھیں جس کے بعد اس کا زہر ختم ہوگیا تھا۔ نیز یہ سارا معاملہ جنرل ضیاء کے بھی گوش گزار کر دیا گیا تھا۔

لیکن جوں ہی رپورٹ واپس آئی اسی رانا نعیم نامی شخص نے اس میں دوبارہ وہی تبدیلیاں کیں اور پہلے جیسا کر دیا۔ رانا نعیم اور جونیجو کے ارد گرد موجود سازشی اور فوج مخالف عناصر کا تقاضا تھا کہ رپورٹ جوں کی توں پارلیمنٹ میں پیش کی جائے چاہے عالمی سطح پر پاکستان کو اس کا جو بھی خمیازہ بھگتنا پڑے۔

اس رپورٹ کے ممکنہ مضمرات کیا کیا تھے؟

1۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں پیش کردہ رپورٹ انڈیا کے لیے ایک ثبوت ہوتی کہ پاکستان سکھوں اور کشمیری مجاہدین کی مدد کر رہا تھا اور راجیو گاندھی جو حملے کی تاک میں تھا اور آپریشن براس ٹیکس کی شکل میں اپنی افواج پاکستان کی سرحد پر جمع کر چکا تھا کو پاکستان پر حملہ کرنے کا جواز مل جاتا۔

2۔ تمام خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب جو جنرل ضیاء کو ایران عراق جنگ میں غیر جانبدار سمجھ رہے تھے ان کے سامنے پاکستان کی جانبداری ثابت ہوجاتی اور ان تمام ایران مخالف ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو شدید دھچکا لگتا۔

3۔ صدر ضیاء سی آئی اے اور امریکی دباؤ کا مسلسل مقابلہ کرتے ہوئے ان ہو افغان جہاد سے عملی طور پر دور رکھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ” اسلحہ کی تقسیم پاکستان خود کرے گا” اس رپورٹ کے بعد اسلحہ کی تقسیم کے حوالے سے امریکہ کے مقابلے میں پاکستان کی پوزیشن بہت خراب ہوجاتی۔

4۔ نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے جنرل ضیاء نے امریکہ اور یورپ سے جو بات چیت بھی کرنی تھی وہ خود بخود سبوتاژ ہوجاتی۔

اسی رپورٹ کی مدد سے افغان امور کے دو ماہر ترین جرنیلوں جنرل اختر عبدالرحمن اور حمید گل کو بھی ہٹایا جانا تھا۔ تاکہ افغانستان سے متعلقہ معاملات پر پاکستان پیچھے چلا جائے اور ضیاء کی طاقت کو توڑا جا سکے۔

5۔ اندرونی طور پر صدر ضیاء کی پوزیشن بہت کمزور ہوجاتی اور افغان جہاد کے فیصلہ کن مرحلے پر جبکہ مجاہدین کی تمام قیادت کے ساتھ ملکر افغانستان میں ایک متفقہ حکومت کی قیام کا وقت تھا ضیاء اس پوزیشن میں نہ رہتا۔

ان خطرناک مضمرات کے پیش نظر ہی نہ صرف جونیجو کی وفاقی حکومت بلکہ تمام صوبائی حکومتوں کا بھی خاتمہ کر دیا گیا اور لوگ اعتراض کرتے رہ گئے کہ ” ضیاء نے ایسا کیوں کیا؟” لیکن ضیاء خاموش رہا۔

اس ” کیوں ” کا جواب ضیاء نے کبھی نہیں دیا۔ اگر دینا ہوتا تو ان منتخب جمہوری بالشتویوں کی اسمبلیاں کیوں توڑتے جنہوں ہمیشہ پاکستان کو برباد ہی کیا ہے۔

( جونیجو جیسے خود پسند اور احمق وزیراعظم کی حکومت ہٹائے جانے کی وجوہات پر کبھی تفصیلاً الگ سے پوسٹ کرونگا تاہم یہ سب سے بڑی وجہ تھی )

جونیجو حکومت ختم ہونے کے بعد ایک بڑی سازش ناکام ہوگئی لیکن ضیاء کو روکنا ضروری تھا۔ اس لیے چند ماہ بعد پیپلز پارٹی ہی کچھ عناصر کے ساتھ ملکر سی آئی اے راء اور موساد نے ضیاء حکومت کا خاتمہ کر دیا۔

رانا نعیم نے ضیاء کی شہادت کے فوراً بعد پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا لیکن بری طرح ہار گیا۔ اگر جیت جاتا تو یقیناً پیپلز پارٹی میں بہت اونچا مقام پاتا۔

اب آخری سوال کی طرف کہ اگر اوجڑی کیمپ میں پاک فوج خود ملوث نہیں تھی اور واقعی یہ کوئی تخریب کاری تھی تو اس کے پیچھے کون تھا۔

اس سوال کا جواب کچھ عرصہ پہلے امریکہ کے مشہور اور مایہ ناز صحافی بروس ریڈل نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔

امریکی صحافی بروس ریڈل نے اپنی کتاب میں اس واقعے سے متعلق کئی اہم اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ بروس ریڈل کوئی عام صحافی نہیں، بلکہ کئی برس تک امریکی قومی سلامتی کے اداروں کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں اور چار امریکی صدور کے ساتھ مشرق وسطیٰ اور جنونی ایشیاء کے معاملات پر معاون خصوصی بھی رہے۔

وہ اپنی کتاب Avoiding Armageddon میں لکھتے ہیں۔ “2012 میں مجھے ہندوستان کے دو سابقہ فوجی افسروں نے بتایا کہ ان کے جاسوس ادارے نے اوجڑی کیمپ کو تخریب کاری سے تباہ کیا تھا تاکہ پاکستان کو کشمیری اور سکھ باغیوں کی مدد کرنے کی سزا دی جاسکے۔”

بلاشہ یہ انڈیا ہی کا ایک مہلک وار تھا جس کو بعد میں پاک فوج کی جانب موڑنے کی کوشش کی گئی۔

انڈیا آج بھی اسی انداز میں وار کرتا ہے۔

اگر غور کریں تو۔ آج بھی پاکستان میں دہشت گردی کرواتا ہے اور پھر اپنے حمایت یافتہ مہروں کی مدد سے تمام دہشت گردی کی ذمہ داری پاک فوج پر ہی لگا دیتا ہے۔

تحریر شاہدخان

Share This

About yasir

Check Also

کن کن محاذوں پر ملک کا دفاع ضروری ہو چکا ہے

جہاں پاکستان کے دفاع کی بات آتی ہے تو یہ دفاع صرف اور صرف میدان …