Home / Pakistan / امریکہ نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون ختم کردیا

امریکہ نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون ختم کردیا

امریکہ نے پاکستان کا ملڑی ٹریننگ پروگرام معطل کر دیا, امریکہ نے پاکستان کو یو ایس نیول وار کالج اور سائبر سیکورٹیز کے پروگرام سے بھی فارغ کر دیا, امریکہ نے پاکستانی آرمی کے افسروں کی ٹریننگ اور ایجوکیشن پروگرامز بھی ختم کر دیئے۔

کچھ عرصہ پہلے ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان سے دفاعی تعاون ختم کرنے کی دھمکی دی تھی، پروگرام ختم کرنے سے پاک امریکہ تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان حرکتوں پر امریکی وزیر دفاع نے ٹرمپ کے اقدامات کی مخالفت بھی کی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکہ ایسے اقدامات اٹھانے پر کیوں مجبور ہوا؟ کیونکہ پاکستان نے خاموشی سے بہت بڑے کام کیے۔ اور باجوہ ڈاکٹرائن کامیاب ہو کر چھا گئی۔ امریکہ کو زور سے لات مار کر باجوہ ڈاکٹرائن نے بھگا دیا، اب پاکستان اس خطے سے امریکہ کو نکال کر اس کا برا حشر کرنے والا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے ہر حربے اختیار کیے مگر پاکستان نے کسی قسم کا دباؤ قبول نہ کیا اور الیکشن کی سیلیکشن میں امریکہ کو آنکھیں دکھا دیں۔اور پاکستان میں موجود اس کے چیلوں کے ساتھ جو حشر ہو رہا پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

اور اب پاکستان کو جو حاصل کرنا تھا وہ اسے مل چکا ہے۔ پوری دنیا کی فوجیں پاکستان کے ساتھ جنگی مشقوں میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔ کیونکہ اسی پاکستان نے دنیا کے سب سے طاقتور اتحاد نیٹو کو شکست دی ۔اس اتحاد میں شامل 52 ملکوں نے پاکستان کو توڑنے کے لئے اپنے خفیہ ایجنسیوں سمیت افغانستان میں فوجیں اتار دی تھیں۔

مگر پھر آئی ایس آئی نے اس اتحاد خاص طور پر امریکہ کا جو حشر کیا اسے پوری دنیا نے دیکھا ۔ پاکستان کی فوج پچھلے 20 سال سے حالت جنگ میں ہونے کی وجہ سے دنیا کی زبردست ترین فوج بن چکی ہے۔ اس کے بھپرے شیر اپنے سپہ سالار کے ایک حکم کے منتظر رہتے ہیں۔

اور یہ وہ دنیا کی واحد فوج ہے جو گوریلا جنگ کی فاتح بنی اس گوریلہ وار کے نتیجے میں امریکہ چین کے اربوں ڈالر کا مقروض ہو گیا اور اس کی کھربوں ڈالروں کے ٹیکنالوجی افغانستان میں اسکے کام نا آئی، بلآخر امریکہ کو اپنے ہتھیار افغانستان میں ہی سستے داموں بیچنے پڑے، یہاں سے بھی پاک فوج نے فائدہ اٹھایا اور یہ سستے اور انتہائی جدید ہتھیار امریکی افواج سے خرید لئے۔

فوجی معاملات کو سمجھنے والے اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ مشرف نے امریکہ کے ساتھ کیوں ڈبل گیم کھیلی، پاکستان ایک غریب ملک تھا، پاکستان کو غریب رکھنا امریکہ اور بھارت کا مشترکہ مشن رہا ہے، پاکستان پر مختلف پابندیاں لگا کر پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچایا گیا، دونوں ممالک نے اپنے اس مشترکہ مشن میں مسلسل کامیاب رہنے کے لیے ہمارے ملک میں دہشتگردی کروائی، جس کی وجہ سے ہماری معیشت تقریبا ڈوب گئی۔

ایسی صورتحال میں پاکستان کا دفاع مضبوط رکھنا مشکل ہو رہا تھا، اسی لیے مشرف کو امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کھیلنا پڑی، جس کے نتیجے میں پاکستان کو بے شک نقصان بہت ہوا مگر بظاہر امریکہ کا ساتھ دے کر اس سے اربوں ڈالر لئے اور خاموشی سے میزائل ٹیکنالوجی میں لگا دئیے، جس کے نتیجے میں دنیا کا جدید ترین ایم آر آئی وی سسٹم بنا ڈالا جو صرف دنیا کی 3 سپر پاورز کے پاس ہے۔

اسی طرح کی گیم ضیا الحق نے بھی امریکہ کے ساتھ کھیلی تھی، جنرل ضیاءالحق نے امریکہ کو افغانستان میں لگا کر ایٹم بم تیار کروالیا، اور جب امریکہ کو اس کی خبر ہوئی وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا، امریکیوں کے پاس سوائے اپنا سر پکڑ کر بیٹھنے کے کوئی چارہ نہ رہا۔اس وقت بھی امریکہ سے بھاری فوجی امداد حاصل کرکے ملکی دفاع میں خرچ کی گئی۔

اگر پاکستان اپنا دفاع اپنی معیشت کے ہی بل بوتے پر رکھتا تو آج پاکستان کے پاس نہ تو ایٹم بم ہوتا نہ ہی یہ میزائل ہوتے۔ پاکستان کی فوجی طاقت بھی افغانستان کی فوجی طاقت جتنی ہوتی۔ اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہہ رکھا ہے کہ پاکستان نے ہمیں دھوکا دیا ہے،

آج سپر پاور امریکہ کو 16 سال بعد پتہ چلا کہ بظاہر معمولی سا نظر آنے والا ملک پاکستان میرے ساتھ ہاتھ کر چکا ہے۔

اس وقت پاکستان امریکا کی ٹیکنالوجی خاص طور پر ریڈار سسٹم کو خیر آباد کہہ چکا ہے، پاکستان امریکی ہتھیاروں کی جگہ چینی ہتھیاروں کو دے چکا ہے، یہاں تک کہ پاکستان نے اپنے ہتھیاروں میں جی پی ایس سسٹم کی جگہ چینی بی ڈو سسٹم انسٹال کر لیا ہے، اب امریکہ چاہے تو پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون ختم کر دے، پاکستان کے دفاع پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔

Share This

About yasir

Check Also

بھارت محتاط رہے جنرل قمر جاوید باجوہ بہت قابل آفیسر ہیں ۔ بکرم سنگھ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجو نے جب آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تو سابقہ …