Home / Pakistan / ڈالر کے اچانک گرنے کی بھیانک وجہ

ڈالر کے اچانک گرنے کی بھیانک وجہ

ڈالر کیوں اچانک اتنی تیزی سے نیچے کی جانب گرا؟ الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی کا اس میں ضرور دخل ہے، مگر ایک بہت بڑی وجہ جو نظرانداز کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ 31 جولائی کو کالا دھن سفید کرنے کی آخری تاریخ بھی تھی۔

جب پچھلی حکومت نے چوروں کی حرام کی کمائی کو حلال کرنے کیلئے یہ اسکیم شروع کی تو اسکے مطابق یہ چور صرف ڈھائی فیصد تک ٹیکس ادا کرکے ملک سے باہر چھپائی گئی آمدنی کو ملک میں لا سکتے تھے۔ اسی لیے ڈالرکو مصنوعی طورپر 130 روپے تک لے جایا گیا تاکہ ٹیکس ادا کرنے کے باوجود بھی بھاری منافع کمایا جاسکے۔

جب مافیا ملک سے لوٹ کر ڈالر باہر لے جانا چاہتا ہے تو مصنوعی طور پر اس کی قیمت کو انتہائی درجے تک گرا دیا جاتا ہے۔ جب باہر سے ڈالر لانے ہوتے ہیں تو ڈالر کو انتہائی مہنگا کردیا جاتا ہے تاکہ باہر سے پیسا لانے والا یہاں بھی کروڑوں اربوں کماسکے۔ 31 جولائی کو اس سکیم کے ختم ہوتے ہی ڈالر واپس نیچے کی جانب آنے لگا۔

یعنی ان چوروں اور ڈاکوﺅں نے کالا دھن سفید کرنے کے دوران بھی اربوں کمائے۔ اس مافیا میں سیاسی ڈکیت بھی شامل ہیں اور منی ایکسچینجرز بھی۔ ڈالر کے اوپر یا نیچے جانے کا نہ تو حکومت نے ریٹ طے کیا تھا، نہ سٹیٹ بینک نے، بلکہ قومی اور بین الاقوامی مافیا اپنی مرضی سے معیشت کے بخیے ادھیڑ رہی تھی۔

پاکستان کو اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے کہ جو ملک میں موجود ان معاشی دہشت گردوں کا سفاک ترین احتساب کرکے لوٹے گئے 200 ارب ڈالر برآمد کرے۔ اس میں سے کثیر رقم تو غیر ملکی بینکوں میں ہے، مگر ایک بہت بڑی رقم ان حرام خوروں کے گھروں کے تہہ خانوں میں دفن ہے، جیسا کہ کوئٹہ میں فنانس سیکرٹری کے گھر سے برآمد ہوئے تھے۔

مہاتیر محمد نے حکومت میں آنے کے 15 دن کے اندر اندر تمام بڑے بڑے وزراءاور سرکاری افسروں کو نہ صرف اندر کیا بلکہ ان کے گھروں پر بھی چھاپے مارے اور اربوں ڈالر کے کرنسی نوٹ اور سونا برآمد کیا۔ پاکستان میں اب یہی کرنا پڑے گا۔
غیر ملکی قرضے لینے پر اب مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ اب ہمارا ذریعہ آمدنی لوٹی ہوئی دولت برآمد کرنا ہے۔

ان سارے حرام خوروں کی ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ یہ دو تھپڑ بھی برداشت نہیں کرسکتے، دو دن بھی جیل کی تاریک کوٹھریوں میں نہیں گزار سکتے۔
جہاں ملک کی بقاءاور سلامتی کا معاملہ ہو اور واسطہ ان معاشی دہشت گردوں سے تو رحم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر زرداری کے ناخن کتر کر بیس ارب ڈالر ملتے ہیں، تو سستا سودا ہے۔

دوسری جانب نواز شریف تو پہلے ہی ڈیل کرنے کیلئے منتیں ترلے کررہا ہے۔ یہ جیل میں رہے یا جیل سے باہر، ہمارے پچاس ارب ڈالر واپس کرے، اقرار جرم کرے، اپنے ساتھ شامل دوسرے چوروں کے نام بتائے، بھارت کے ساتھ ملکر کی گئی پاکستان کے خلاف سازشوں کے راز کھولے، کلبھوشن کو گالی بکے، پھر بے شک جائے جہنم میں۔۔۔

مسلم لیگ ن کے ڈاکوﺅں کیلئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کہ پنجاب حکومت ان کے ہاتھ سے نہ جائے۔ اگر پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت آگئی تو پچھلے تیس سال کے سارے فراڈ اور ڈاکے اس طرح کھل کر سامنے آئیں گے کہ جیسے بند گٹر ابلتا ہے، اور پھر پوری ن لیگ پھانسی چڑھائی جائے گی۔

ہم انتخابات کے مخالف تھے، کہ پہلے احتساب کرکے کمینوں کو انتخاب سے باہر کردیں اور لوٹی ہوئی دولت وصول کرلیں۔
اب جبکہ انتخاب ہوچکے ہیں تو ہم ہر حال میں کوشش کریں گے کہ مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت بنے تاکہ احتساب کے عمل کو انجام تک پہنچایا جاسکے۔

جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ کمینوں اور ڈاکوﺅں کو انتخابات سے باہر نہ رکھنے کے نتیجے میں اب ہمارا کام انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔ دھائیوں کی جہالت، غربت اور غفلت کی وجہ سے اسی عوام نے پنجاب میں بڑی تعداد میں انہی حرام خوروں کو پھر ووٹ دیئے ہیں۔ حکومت سازی اب ایک مشکل امر ہے۔

ملکی تاریخ کے اس نازک موقع پر سپریم کورٹ اور پاک فوج کو اب کھل کر معاشی دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کردینا چاہیے۔ انتخابات کا نتیجہ قوم کی امیدوں کا عکاس ہے۔۔۔ ہم کو چوروں اور ڈاکوﺅں سے پاک پاکستان چاہیے۔
اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ پی ٹی آئی تنہا یہ کام ہرگز نہیں کرسکتی۔

صرف زرداری اور نواز شریف اور ان کے چند قریبی ساتھی ملکر صرف ایک ہفتے کے بعد نقد پچاس ارب ڈالر دے سکتے ہیں۔ یہ رقم ہمیں ہر حال میں نکلوانی ہے، فوری نکلوانی ہے، چاہے اس کیلئے ان سب کو الٹا ہی کیوں نہ لٹکانا پڑے۔ نہ ہم دیر کرسکتے ہیں، نہ ان ظالموں پر رحم کیا جاسکتا ہے۔ ان پر رحم کیا تو قوم کے یتیموں پر ظلم ہوگا۔

جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا ”ہنوز دلی دور است“۔۔۔
ہمارے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج مرکز میں مضبوط حکومت کا قیام ہے کہ جو فوری طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔ ان چوروں اور ڈاکوﺅں کی بہت بڑی تعداد اسمبلی میں پہنچ چکی ہے کہ جو اربوں روپے لگا کر پاکستان کی تخریب کاری میں مصروف ہیں۔ پہلے ان سانپوں کو کچلنا ہوگا۔

پاکستانی قوم کو ہم کہتے ہیں کہ یہ وقت آزمائش اور امتحان کا ہے۔ ابھی تو صرف انتخابات ہوئے ہیں، نہ حکومت بنی ہے، نہ وزیراعظم ملا ہے۔ ابھی تو میچ شروع ہوا ہے۔ آخری سیٹیں بجنے سے پہلے آگ و خون کا دریا عبور کرنا ہے۔ یہ ناچنے گانے اور پٹاخے پھوڑنے کا وقت نہیں ہے۔

ظاہر ہے کہ جب دشمن کو اندازہ ہوجائے گا کہ پاکستانی سیاست میں موجود اس کے تمام اثاثے پارلیمنٹ سے بھی باہر ہوگئے ہیں اور پھر حکومت سے بھی تو اس کا اگلا قدم یہی ہوگا کہ انتقاماً ملک میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر بھڑکا دے۔ اسی لیے ہم قوم سے کہہ رہے ہیں کہ اللہ سے استغفار کرتے ہوئے آنے والی آزمائشوں کیلئے تیار رہو ۔

ان حالات میں عمران اور پی ٹی آئی کو جو چیز سب سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے وہ خود ان کے اندر کی داخلی ٹوٹ پھوٹ اور اختلاف ہے۔ جب لوٹوں اور اقتدار کے بھوکوں کی ایک بڑی تعداد صرف مال کمانے آئی ہو تو اس سے یہ توقع بے کار ہے کہ وہ نئے پاکستان کے نظریے کیلئے اپنے کروڑوں کی سرمایہ کاری ضائع ہونے دے۔

انشاءاللہ، اس پاک سرزمین کی خیر ہے۔ یہ سیدی رسول اللہﷺ کی امانت، مدینہءثانی براہ راست سایہءخدائے ذوالجلال میں بھی ہے اور اس پر سیدی رسول اللہﷺ کی نگاہ کریم بھی۔ ہاں مگر یہ پاکستانی قوم اپنی غفلتوں، جہالتوں اور حماقتوں کی وجہ سے آزمائش میں رہے گی۔
جانثارو! سرفروشو! یہی وقت ہے وفا کا۔۔۔۔!

Share This

About yasir

Check Also

بھارت محتاط رہے جنرل قمر جاوید باجوہ بہت قابل آفیسر ہیں ۔ بکرم سنگھ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجو نے جب آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تو سابقہ …