Home / Pakistan / وہ سازش جو ایٹمی دھماکوں سے ایک دن قبل رونما ہوتے ہوتے رہ گئی

وہ سازش جو ایٹمی دھماکوں سے ایک دن قبل رونما ہوتے ہوتے رہ گئی

1998ء میں بھارت نے پوکھران (راجھستان) کے صحرا میں ایٹمی دھاکہ کیا تو اس کے چند روز بعد پاکستان نے چاغی (بلوچستان) کے بلند و بالا پہاڑوں میں اس سے کئی گنا زیادہ طاقتور دھماکے کر کے اپنا جواب دے دیا۔ اس پر بھارت کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ اس کو پاکستان کے ایٹمی صلاحیت کے اس درجے پر پہنچ جانے کی توقع نہ تھی اور اس کی اس صلاحیت کو وہ “ہنوز دلی دور است” سمجھتے ہوئے اسے مرعوب کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

پاکستان کو یوں اچانک اتنی بڑی ایٹمی قوت کے طور پر خود کو منوانے پر مغربی دنیا میں بھی بھونچال آگیا۔ بھارت کے چند روز قبل کے ایٹمی دھماکے (جن کی اصل تاریخ 1947ء سے شروع ہوتی ہے) پر گنگ رہنے والے مغربی ممالک نے پاکستانی “جواب” پر بے حد شوروغوغا بلند کیا مگر اس شور میں ایک مہین سی آواز اسرائیل کی بھی تھی۔ مہین اس لیے تھی کہ اسرائیل اس کے علاوہ کچھ ” عمل ” بھی کر رہا تھا یا کر چکا تھا جو چاغی کے بلند پہاڑوں میں ایٹمی دھماکہ ہونے سے ایک روز قبل رونما ہوتے ہوتے رہ گیا۔

ہوا یوں کہ سعودی عرب کے اواکس طیاروں نے اسرائیلی جہازوں کے 6 سکویڈرنوں کو بھارت کی طرف پرواز کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ اس وقت کی کشیدگی اور حالات کے سیاق و سباق میں سعودی فضائیہ کو یہ صورت حال بڑی معنی خیز معلوم ہوئی چنانچہ انہوں نے حکومت پاکستان کو فوری طور پر اس سے مطلع کر دیا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے چند لمحوں میں معاملے کو بھانپ لیا اور مواصلاتی سیٹلائیٹ کے ذریعے اسرائیلی طیاروں کی نقل و حرکت کی مانیٹرنگ شروع کر دی۔

رات بارہ بجے بھارتی سفیر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ کہیں گئے ہوئے ہیں۔ دوسری دفعہ فون کیا گیا تو بتایا گیا کہ وہ “سو” رہے ہیں۔ اصرار کر کے جب جگایا گیا اور بھارتی طیاروں کی مصروفیت کا سبب پوچھا گیا اس نے بتایا کہ کل سویرے اپنی حکومت سے صورت حال معلوم کر کے جواب دینگے۔

پاکستانی حکام نے اس گول مول جواب کو غیر تسلی بخش پا کر فوراً سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا اور اسے پاکستان کے بے حد قریب ایک ائر بیس پر ان کی موجودگی کی فلم دکھائی۔ اس نے کہا یہ بھارتی طیارے ہیں، وزارت خارجہ نے اس کے تجاہل عارفانہ کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارے بھارت کے خرید کردہ نہیں بلکہ اسرائیل ہی کے ہیں جو کل یہاں پہنچے ہیں۔ اپنی حکومت کو ہمارا انتباہ پہنچا دو کہ اس نے اس موقع پر کوئی مہم جوئی کی تو ان طیاروں کے پاکستان کی طرف بڑھنے سے قبل بھارت کو عبرتناک سبق سکھا دیا جائیگا۔

چنانچہ اس نے اسی وقت اپنی حکومت کو پاکستان کی تشویش سے مطلع کر دیا اور اسرائیل کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔

اگر پاکستان کے شاہینوں نے اپنے گردوپیش پر کڑی نظر نہیں رکھی ہوئی ہوتی تو خاکم بدہن یہ کاروائی ایٹمی دھماکے سے قبل ہوجاتی جہاں تمام پاکستانی سائنسدان اپنے ساز و سامان سمیت اپنا تاریخی کارنامہ انجام دینے کے لیے مسلسل مصروف تھے۔ پاکستان نے اگلے روز نہایت کامیابی سے یکے بعد دیگرے سات ایٹمی دھماکے کر کے یہود و ہنود کے چھکے چھڑا دئیے اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں پر بھی بہت کچھ واضح کر دیا۔

تحریر: شاہد خان

Share This

About yasir

Check Also

کن کن محاذوں پر ملک کا دفاع ضروری ہو چکا ہے

جہاں پاکستان کے دفاع کی بات آتی ہے تو یہ دفاع صرف اور صرف میدان …