Home / Pakistan / عمران خان کی حکومت کو کن کن چیلنجز کا سامنا ہوگا

عمران خان کی حکومت کو کن کن چیلنجز کا سامنا ہوگا

عمران خان کی حکومت کو بے پناہ چینلنجز درپیش ہونگے۔ یہ کانٹوں بھرا تاج ہے جو عمران خان کے سر پر رکھا جانا ہے۔

آئیے ان چینلجز کا مختصر مختصر جائرہ لیتے ہیں۔

معاشی چینلنجز:

قومی خزانے تقریباً خالی ہے جس میں محض 45 دن کا خرچہ پڑا ہے۔ فوری طور پر قرضوں کا صرف سود 11 ارب ڈالر کے قریب ادا کرنا ہے۔ گردشی قرضہ 1100 ارب روپے کے قریب ہے جس کو ادا نہ کیا گیا تو آئی پی پیز سے بجلی بننی بند ہوجائیگی۔ تجاری خسارہ 30 ارب ڈالر یا 3000 ہزار ارب روپے کے قریب ہے جس کو فوری طور پر کم نہ کیا گیا تو پاکستان دیوالیہ ہوجائیگا۔

تینوں قومی ادارے تباہ حال ہوچکے ہیں۔ پی آئی اے کا یہ حال ہے کہ 400 ارب روپے سے اوپر اس نے قرضہ دینا ہے جبکہ اس کے کل اثاثے 100 ارب روپے سے کچھ اوپر ہیں۔ آدھی کی قریب ٹرینیں بند کی جا چکی ہیں اور سٹیل مل کو مفت دینے کا اعلان کیا تھا سابقہ حکومت نے۔

پانی و بجلی:

بجلی کا کوئی قابل ذکر منصوبہ بچھلے دس سالوں کے دوران لانچ نہیں کیا گیا جس کے بعد 70 فیصد بجلی کا دارومدار تیل و گیس پر ہے۔ جس کے واجبات ادا نہ کیے گئے تو پاکستان میں خطرناک لوڈ شیڈنگ آئیگی۔ اسی طرح ڈیم نہ بنانے اور انڈین ڈیموں پر خاموشی کی وجہ سے پانی کا شدید بحران ہے اور انڈیا پاکستان کا 60 فیصد پانی روکنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔

جہاں تک پینے کے پانی کا مسئلہ ہے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق پاکستان میں دو تہائی گھروں میں آلودہ پانی پیا جاتا ہے جس کے باعث سالانہ 53 ہزار بچے ڈائریا کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور پاکستانی حکام کے مطابق ملک میں بیماریوں سے ہونے والی 30 سے 40 فیصد اموات ، آلودہ پانی کے باعث پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

دہشت گردی:

ن لیگ اور پی پی پی نے ملکر پاک فوج کی دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کاروائی کو تقریباً غیر موثر کر دیا تھا اور اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب میں آپریشن نہیں ہونے دیا۔ کمزور کیسز بنائے گئے جس کی وجہ سے عدالتوں سے دہشت گردوں کو بھی ریلیف ملی۔

اسی طرح پاک افغان سرحد پر باڑ اور افغانیوں کو واپس بھیجنے کے حوالے سے سولین حکومتوں نے قطعاً پاک فوج سے کوئی تعاؤن نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ دونوں کام ادھورے پڑے ہیں۔ انڈیا کی پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی پر پاکستان کی سولین حکومت نےکہیں بھی کوئی آواز نہیں اٹھائی بلکہ الٹا کل بھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں جانے دیا جہاں سے کل بھوشن کی سزا روک دی گئی, اسی طرح مدارس کی سکروٹنی بھی نہیں کی گئی, یہ سارے معاملات عمران خان کو ازسرنو دیکھنے ہونگے۔

خارجہ محاذ:

امریکہ پاکستان کی امداد بند کر چکا ہے اور پاکستان پر افغانستان میں ڈبل گیم کا الزام لگا رہا ہے۔ انڈیا کا کشمیر میں ظلم آخری حدوں کو چھو رہا ہے اور ایل او سی پر انڈیا کی جنگ بندی کی خلاف ورزی عروج پر ہے۔ انڈیا پاکستان سے پانیوں پر کئی کسیز جیت چکا ہے۔ ایران اور انڈیا گٹھ جوڑ جو نہ صرف سی پیک کو روکنے کی کوشش کررہا ہے بلکہ ایران کے راستے افغانستان جا کر پاکستان میں دہشت گردی بھی کروا رہا ہے اور پاکستان کی تجارت کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہا ہے سالانہ۔

افغانستان باقاعدہ پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہا ہے اور اعلانیہ پاکستان میں شورشوں کو سپورٹ کر رہا ہے۔ چین کے ساتھ سی پیک کے حوالے سے ن لیگ کی حکومت نے کس قسم کے معاہدے کیے ہیں یہ سامنے آنا باقی ہیں لیکن اس حوالے سے بھی خطرناک شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ان کو درست کرنے کی کوشش کرنا ہوگی چین کو ناراض کیے بغیر۔ خلیجی ممالک میں انڈیا اتنا گھس چکا ہے کہ راحیل شریف سعودی عرب نہ جاتا تو پاکستان کا اثرورسوخ ختم ہوچکا تھا۔ وہ معاملات دوبارہ درست کرنے ہیں۔

تعلیم اور صحت:

پاکستان میں تعلیم اور صحت کو تقریباً پرائیویٹائز کر دیا گیا ہے۔ سرکاری سکولوں کا تصور تقریباً ختم کر دیا گیا ہے اور پرائیوٹ تعلیم میں جو کچھ بچوں کو پڑھایا جا رہا ہے وہ بچوں کو لبرل ازم کی طرف دھکیل رہا ہے۔
کچھ ایسا ہی حال مدارس کا ہے جہاں پڑھنے والے بچے نظریہ پاکستان پر یقین نہیں رکھتے۔

صحت کا حال یہ ہے کہ میٹرو کا بجٹ 70 ارب روپے لیکن پورے پاکستان میں صحت کا بجٹ 15 تا 20 ارب روپے رکھا جاتا ہے۔ اس کے نتائج یہ ہیں کہ اس وقت پاکستان میں دو کروڑ ہیپاٹائٹس کے مریض ہیں۔ ستر لاکھ شوگر کے مریض ہیں۔ دو لاکھ سے زائد ایڈز کے مریض ہیں۔ کینسر کے مریضوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح پاکستان ملیریا اور ڈینگی کا شکار ایک بڑا ملک ہے۔

بے لگام میڈیا اور سوشل میڈیا:

میڈیا پر بے حیائی اپنے عروج پر ہے۔ تقریباً تمام میڈیا چینلز نفرت انگیز اور اخلاق باختہ ڈرامے پیش کر رہے ہیں۔ میڈیا پر ان لوگوں کو نمایاں حیثیت دی گئی ہے جو اسلام اور شعائر اسلام کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر کھل کر اسلام پاکستان اور افواج پاکستان کو گالیاں دی جاتیں ہیں اور آئین سازی کے باؤجود ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی۔ اس نفرت انگیز مہم کو بھی روکنا ضروری ہے۔ اسی سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں اس وقت کم از کم تین قوم پرستانہ باغی تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔

سیاسی مخالفت اور احتساب:

یہ سب سے بڑا چینلج ہوگا عمران خان کے لیے۔ عمران خان کے ہاتھوں اس نظام کو خطرہ ہے جس میں پاکستان کی کرپٹ سیاسی اشرافیہ سروائیو کر رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کو تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا رہے گا۔ تقریباً پورا پاکستان کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے اور عمران خان کو سول بیوروکریسی اور سیاسی بدمعاشیہ کی طرف سے مشکلات رہینگی۔ ان سب کا احتساب کرنا آسان نہیں ہوگا۔

یہ سارے وہ چینلجز ہیں جو عمران خان کو فوری طور پر درپیشں ہونگے اور جن سے نمٹنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔

تحریر: شاہدخان

Share This

About yasir

Check Also

کن کن محاذوں پر ملک کا دفاع ضروری ہو چکا ہے

جہاں پاکستان کے دفاع کی بات آتی ہے تو یہ دفاع صرف اور صرف میدان …