Home / Pakistan / زرداری و نواز شریف نے کیسے نیشنل ایکشن پلان کو دفن کیا

زرداری و نواز شریف نے کیسے نیشنل ایکشن پلان کو دفن کیا

نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی کے خلاف 20 نقاطی منصوبہ تھا جس کو آصف زرداری اور نواز شریف نے ملکر دفن کر دیا۔ ان 20 نقاط میں سے 3 نقاط پر عمل درآمد کرنا پاک فوج کے ذمے تھا جبکہ 17 سول حکومت کی ذمہ داری تھے۔

ملاحظہ کیجیے ان پر پر کتنا عمل کیا گیا۔

1: دہشت گردوں کو عدالتوں سے ملنے والی سزاؤوں پر عمل درآمد کیا جائے۔ اس شق پر انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کی اپیلوں کے بعد عدالت نے حکم امتناع جاری کر دیا۔ یوں اس شق پر خود عدلیہ نے ہی عمل درآمد رکوایا دیا۔

2: فوجی عدالتوں کا قیام

اس شق میں یہ پخ لگائی گئی کہ فوجی عدالتیں بذات خود ایکشن نہیں لے سکیں گی بلکہ سول حکومت ان کو کسیز منتقل کرے گی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دہشت گردی کے 11000 سے زائد کیسز میں سے صرف چند سو ہی فوجی عدالتوں کو منتقل کیے گئے۔ جن پر وہاں سے فوری فیصلے آئے تو ان فیصلوں پر عمل درآمد رکوا دیا گیا یوں دہشت گردوں کو سزائیں دینے کا عمل روک دیا گیا۔

3: ملک سے مسلح ملیشیاز کا خاتمہ

یہ سب سے مشکل کام تھا جو پاک فوج نے کرنا تھا۔ پاک فوج نے اپنے ہزاروں جوانوں کی جانیں دے کر کراچی، فاٹا اور قبائیلی پٹی سے دہشت گرد لشکروں کا خاتمہ کر دیا۔

4: نیکٹا کا قیام

دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بنائے جانے والے اس ادارے کے لیے مسلم لیگ ن کی حکومت پانچ سالوں دوران فنڈز ہی جاری نہیں کر سکی۔ میٹرو اور اورینج ٹرین جیسے نمائشی منصوبوں میں سینکڑوں ارب روپے جھونکنے والوں کے پاس نیکٹا کے لیے 21 ارب روپے نہیں تھے۔ حالت یہ ہے کہ نیکٹا کے پاس اپنی بلڈنگ تک نہیں ہے۔ اس کے بورڈ اور گورنرز کا اجلاس ہی طلب نہیں کیا جا سکا کیونکہ اس اجلاس کی صدارت وزیراعظم نے کرنی ہے جس کے پاس اجلاس کی صدارات کا ٹائم ہی نہیں تھا۔ وزیراعظم کن کاموں میں مصروف رہے اسکا مشاہدہ قوم بخوبی کر چکی ہے۔

5: انتہا پسندانہ مواد اور تقاریر کا خاتمہ

اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کروایا گیا گو کہ ن لیگی حکومت نے اعلانات بھی کیے۔ آج بھی مساجد میں نفرت انگیز تقاریر کی جاتی ہیں اور وہ اہم ترین سیاسی ملا حکومت کے اتحادی ہیں جنکا ان مساجد پر اثرورسوخ ہے۔ نتیجے میں کچے ذہنوں میں انتہاپسندی پھیل رہی ہے۔

6: دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنا

اس کےلیے پاک فوج نے کراچی میں زبردست آپریشن کیا جس کے نتیجے پیپلز پارٹی دہشت گردوں کی سب سے بڑی فنڈنگ کرنے والی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور اسی جماعت کی سندھ میں حکومت بھی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نواز شریف حکومت کی غیراعلانیہ اتحادی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کا معاملہ لٹکا دیا گیا اور ٹپی، شرجیل میمن اور آصف زرداری وغیرہ پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا جبکہ نواز شریف نے اسکا وعدہ کیا تھا۔ تب فنڈنگ کیسے روکتے؟

7: کلعدم تنظیموں کو دوسرے ناموں سے فعال ہونے سے روکنا

اس پر بھی کوئی عمل نہیں ہو رہا بلکہ کچھ کلعدم تنظمیں رانا ثناءاللہ کے ذریعے حکومت کی اتحادی بنی ہوئی ہیں اور ان کے چند سرکردہ اراکین پارلیمنٹ میں بھی بیٹھے ہیں۔

8: انسداد دہشت گردی کے لیے خصوصی فورس کا قیام

یہ فورس شائد قیامت والے دن بنے گی۔ سول حکومت کی پانچ سالہ مدت ختم ہوگئی لیکن یہ فورس نہیں بن سکی۔

9: مذہبی بنیادوں پر استحصال اور امتیاز کے عمل کو روکنا

اس پر بھی کوئی عمل نہیں ہو رہا۔ حتی کہ میڈیا تک پر فرقہ واریت پر مبنی مباحثے پیش کیے جا رہے ہیں۔ سول حکومت اور پیمرا دونوں اس پر خاموش رہے۔

10: مدارس کی رجسٹریشن اور ریگولیشن کو یقینی بنانا

اس پر عمل درآمد تو دور کی بات سول حکومت ابھی تک یہ فیصلہ بھی نہیں کر سکی کہ یہ کام مذہبی وزارت کے امور نے کرنا ہے، تعلیم کی وزارت نے یا وزات داخلہ نے۔ جبکہ مدارس کے سب سے بڑے نیٹ ورکس چلانے والے فضل الرحمن جیسے لوگ حکومت کے اہم ترین اتحادی رہے۔

11: میڈیا وغیرہ سے دہشت گردوں کو پرکشش بنانے کا عمل روکنا

میڈیا میں تو پاک فوج کے خوف سے یہ عمل کم ہو گیا ہے لیکن جب بات دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی آتی ہے تو آج بھی نہ صرف میڈیا بھرپور انداز میں انکا موقف پیش کرتا ہے بلکہ میڈیا پر آکر وہ دھڑلے سے آپریشن کرنے والی رینجرز اور پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔ بلوچستان کے بعد اب کے پی کے اور فاٹا میں بھی مسنگ پرسنسز کے نام سے دہشت گردوں کے لیے ہمدردیاں جمع کی جا رہی ہیں حکومت اور اسکے ماتحت کام کرنے والی پیمرا اس پر کوئی ایکشن نہیں لے رہی۔اسی طرح سوشل میڈیا اور مساجد کے منبروں پر بھی یہ کام بدستور جاری ہے۔ ہاں دہشت گردوں کو بے نقاب کرنے والے احسان اللہ احسان کا انٹرویو فوراً بند کر دیا گیا۔

12: فاٹا میں ریفارمز

یہ پاک فوج کا ایک اہم مطالبہ تھا جسکا حکومت نے وعدہ کیا تھا۔ اس کے تحت فاٹا کو صوبہ کے پی کے میں شامل کیا جانا تھا۔ ایف سی آر کا خاتمہ اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں تباہ ہونے والے املاک کی ازسر نو تعمیر تھی۔ جب تک نواز شریف موجود رہا اس نے یہ کام نہیں ہونے دیا۔ یہ اس پر کسی حد تک عمل درآمد اس کے جانے کے بعد کیا گیا۔ گو کہ بلکہ فضل الرحمن اور اچکزئی نے یہ معاملہ بلکل متنازع بنا دیا تھا۔

دہشت گردی سے متاثرہ وزیرستان کے لوگوں کے لیے فنڈز تک منظور نہیں کیے جا سکے۔ ان لاکھوں متاثرین کی دیکھ بھال اور وزیرستان میں ممکن حد تک انفرسٹرکچر کی تعمیر پاک فوج محض اپنے بل بوتے پر کر رہی ہے جس کا اعتراف سلیم صافی جیسے فوج مخالف صحافی نے بھی کیا۔

13: دہشت گردوں کے کمیونیکشن نیٹ ورکس ختم کرنا

پاک فوج اور ہماری اینٹلی جنس ایجنسیوں نے اس پر کام کرتے ہوئے حیرت ناک کامیابی حاصل کی اور نہ صرف پورے پورے نیٹ ورکس پکڑے گئے بلکہ تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کل بھوشن کی صورت میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک چلانے والے انڈین اینٹلی جنس کے اعلی ترین آفیسرز بھی پکڑے گئے۔
احسان اللہ احسان اور لطف اللہ محسود جیسے دہشت گردوں کے کمانڈرز پکڑے گئے۔
سول حکومت سے توقع کی جارہی تھی کہ اب وہ یہ معاملہ بھرپور انداز میں انڈیا اور ایران کے سامنےاٹھائی گی بلکہ عالمی برادری کے سامنے بھارت کا چہرہ بے نقاب کرے گی۔ لیکن وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی زبان سے کل بھوشن کا نام تک نہیں نکلا۔

14: انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنا

اس پرآج بھی کھل کر دہشت گرد اور پاکستان دشمن اپنے نظریات کی پرچار کر رہے ہیں۔ جسکا تاحال کچھ نہیں ہوا۔ تاہم حکومت پر تنقید کے خلاف کچھ عرصہ پہلے نہایت تیزی سے سائبر کرام بل منظور کر لیا گیا۔

15: پنجاب کے اندر سے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا

پنجاب کے کئی علاقوں اور اندروں سندھ میں پاک فوج اور رینجرز کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت آپریشن کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اب شائد کچھ مشروط سی اجازت ملی ہے کچھ مخصوص علاقوں میں۔ لیفٹننٹ جنرل طارق کے مطابق زیادہ تر ” دہشتگردوں کا مائنڈ سیٹ جنوبی پنجاب میں بنایا جاتا ہے اور وہیں سے سب سے زیادہ بھرتیاں کی جاتی ہیں جبکہ سندھ سے فنڈز آتے ہیں۔

16: کراچی میں آپریشن

اس پر رینجرز اور پاک فوج پوری تندہی سے عمل کر رہی ہیں اور اس کے تحت جتنی بھی گرفتاریاں ہوئیں سب کی پشت پر سیاسی و جمہوری قوتیں برآمد ہوئیں۔ جنہوں نے اب اس آپریشن کو ہی متنازعہ بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم اور عزیر بلوچ کا معاملہ لٹکا دیا گیا ہے۔ نائن زیرو پر چھاپے میں دو درجن دہشت گرد پکڑے گئے تھے ان کا ابھی تک کچھ نہیں ہوسکا ہے۔ بہت سوں کی عدلیہ نے قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کر لیں۔ عدالت میں گرینیڈ پھٹ جاتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ ” ثابت ” نہیں ہورہا۔ حکومت نے پاک فوج کی مدد کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت ختم ہوگئی لیکن اس کمیٹی کا کوئی پتہ نہیں چلا۔

17: بلوچستان میں مفاہمت

اس پرجنرل ناصر جنجوعہ صاحب نے بے پناہ کام کیا اور بے شمار بلوچوں کو قومی دھارے میں واپس لایا گیا۔ لیکن جہاں تک ان بلوچوں کی محرومیاں دور کرنے کی بات ہے تو حالت یہ ہے کہ صوبائی وزیر خزانہ کے سیکٹری کے گھر سے 70 کروڑ روپے نقد برآمد ہو رہے ہیں۔ بلوچوں کے حقوق خود وہیں کے منتخب لوگ کھا گئے۔ اگر یہی حال رہا تو آگے کیا ہوگا؟

18: فرقہ ورانہ تنظیموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عہد

کیا اس پر آپ نے کسی پیش رفت کے بارے میں سنا ہے؟ ابھی تک صفر ہے۔ فرقہ پرستی پر بنی کچھ جماعتوں کے سیاسی ونگ بھی ہیں جو ن لیگ کے کافی قریب ہیں اور الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔

19: افغان مہاجرین کا مسئلہ حل کرنا

اس معاملے میں صرف پاک فوج اور کے پی کے میں قائم پی ٹی آئی کی حکومت ہی کام کرتی رہی ہے اور افغان مہاجرین کی باعزت اور جلد واپسی پر کام ہو رہا ہے۔ جبکہ سابقہ حکومتی جماعت کے تینوں اہم ترین اتحادی مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی اور اسفند یار والی افغان مہاجرین کی واپسی کی مخالفت کر چکے ہیں۔ بلکہ محمود اچکزئی تو صوبہ کے پی کے کو افغانستان کا صوبہ قرار دے دیا تھا۔

20: عدلیہ یا جسٹس سسٹم کی تشکیل نو

اس پر کوئی کام نہیں ہوا ہے اور عدلیہ ہی پاکستان میں تمام مسائل کی جڑ ہے۔ صرف عدالتیں ٹھیک ہوجائیں تو ہر قسم کی کرپشن، بد انتظامی اور جرم کو روکا جا سکتا ہے۔ لیکن 5 سال پورے ہوگئے ابھی تک اس معاملے میں حکومت کی طرف سے پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا جا سکا۔

نیشنل ایکشن پلان کے صرف ان ہی حصوں پر کام ہو سکا ہے جو پاک فوج نے کرنے تھے۔ جمہوری حکومت کے حصے کا کام چار سال بعد بھی صفر کا صفر ہے۔ منتخب جمہوری حکومت نے  کمیٹیاں بنانے، اجلاس کرنے، دعوے کرنے، بیان بازیاں کرنے اور بھاری بھرکم تنخواہوں پر نئے نئے وزیر اور مشیر بھرتی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

پاک افغان سرحد پر باڑ:

پاکستان میں تمام تر دہشت گردی افغانستان سے ہورہی ہے۔ پاک افغان طویل اور پیچیدہ سرحد کی نگرانی ممکن نہیں اس لیے پاک فوج نے اس پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔
باڑ لگانے کے اس عمل کے لیے پاک فوج کو پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی طرف سے کسی قسم کا تعاؤن حاصل نہیں۔ بلکہ یہ کام فوج محض اپنے بل بوتے پر کر رہی ہے۔ اگر اس معاملے میں پاک فوج کو سویلین حکومت کا تعاؤن حاصل ہوتا تو اب تک یہ باڑ مکمل ہو چکی ہوتی اور پاکستان میں نسبتاً سکون ہوتا۔

البتہ ان دونوں کے قوم پرست اتحادی اور کانگریسی ملا اس باڑ کی مخالفت ضرور کر رہے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے اصل زمہ دار ہماری پارلیمنٹ  میں بار بار آنے والے اور ان کے سرخیل آصف علی زرداری اور نواز شریف ہیں تو غلط نہ ہوگا, دہشت گردی کی وجہ سے شہید ہونے والے ہزاروں پاکستانیوں کا خون ان دونوں کی منحوس گردنوں پر ہے۔

تحریر: شاہدخان

Share This

About yasir

Check Also

بھارت محتاط رہے جنرل قمر جاوید باجوہ بہت قابل آفیسر ہیں ۔ بکرم سنگھ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجو نے جب آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تو سابقہ …