Home / Pakistan / شوکت عزیز صدیقی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ

شوکت عزیز صدیقی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ

واقعہ میرے دوست اعجاز صدیقی کے ساتھ پیش آیا۔ انہی کی زبانی سنیے ۔۔۔

“22 جون 2015 کو میں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی کہ حکومت سیڈ ایکٹ میں ترمیم کر رہی ھے. جو طریقہ اختیار کیا گیا ھے وہ نہ صرف آئین کے خلاف بلکہ صوبائی خود مختاری کےبھی خلاف ھے. حکومت کو اس سے روکا جائے۔

بل اس وقت سینٹ میں تھا۔ ھم نے قومی اسمبلی کی اسٹنڈنگ کمیٹی میں اپنا موقف پیش کیا تھا جس کو رد کر دیا گیا تھا۔

پھر سینٹ میں بل آیا تو وہاں کے چیرمین جمہوریت کے عالمی چمپین رضا ربانی تھے۔ ھم نے سینٹ میں پبلک پٹیشن دائر کی لیکن ہمیں سینٹ سنا ھی نہیں گیا۔

ہماری رٹ 24 جون کو لگی. ھم نے وزیراعظیم، چیئرمین سینٹ اور سیکریٹری لا کو پارٹی بنایا تھا۔ ھائی کورٹ میں ہمارا کیس اس جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے پاس لگا۔

اس نے میرے وکیل کو کہا کہ یہ ہائی پروفائل کیس ھے اس کو مکمل پڑھ کر شام کو بتاؤں گا۔ مگر فائل کئی دن تک چیمبر سے باہر نہیں آئی.

26 تاریخ کو اعلان ہوگیا کہ سینٹ کا اجلاس 6 جولائی کو طلب کر لیا گیا ھے. جب کہ چند دن پہلے اجلاس ختم ہوا تھا اور شیڈول کے مطابق 30 جولائی کو اجلاس دوبارہ ھونا تھا۔

7 جولائی کو اجلاس میں ترمیمی سیڈ بل منظور کر کے ختم هو گیا اور 12 جولائی کو ممنون حسین نامی صدر پاکستان نےاس پر دستخط کر دیے مگر ہماری فائل اس منحوس جج کے چیمبر سے باہر نہیں آئی.

وہ فائل 30 جولائی کو باہر آئی اور ہماری رٹ ناقابل سماعت قرار دے دی گئی. آپ کو حیرت هو گی جو دلائل حکومت کے وکیل نے دینے تھے سب کے سب شوکت عزیزی صدیقی نامی اس شخص نے اپنے فیصلے میں لکھے.”

یوں پاکستان سے دیسی بیج ختم کر کے جی ایم بیج (ہائی بریڈ بیج) کو عام کرنے کی امریکی سازش میں اس جج نے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔

مذہب کا لبادہ اوڑھے یہ شخص عالمی اسٹیبلشمنٹ کا ہرکارہ ہے۔ اس کی منافقت تب واضح ہوئی جب اس نے ممتاز قادری کی اپیل کے خلاف اس کی موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ لیکن بعد میں اس کی لاش پر رویا۔
( وجہ یہی تھی کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر نواز شریف نے ممتاز قادری کو پھانسی دینے کا فیصلہ کر لیا تھا )

اسی بدبخت نے گستاخان رسول والے معاملے کو جس طرح اپنے حق میں استعمال کیا اس کا مشاہدہ پورے پاکستان نے دیکھا۔ نہ صرف اپنے خلاف ریفرنسز کو ٹھنڈا کیا بلکہ گستاخان رسول کو بھی کوئی گزند نہیں پہنچنے دی۔ نہ ان کی گرفتاری کا حکم جاری ہوا نہ سزا کا نہ ہی کسی مجرم کا تعئن کیا گیا!

بلاگرز سے یاد آیا کہ بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھنے والا یہ شخص خود بھی بلاگر ہے اور ڈان اخبار میں لکھتا رہا ہے۔ وہی ڈان اخبار جس کو پاکستان میں لبرلز کا نمائندہ اخبار سمجھا جاتا ہے۔

سچ ہے کہ اللہ ہر شخص کی اصلیت اس کے مرنے سے پہلے کھول دیتا ہے۔

Share This

About yasir

Check Also

بھارت محتاط رہے جنرل قمر جاوید باجوہ بہت قابل آفیسر ہیں ۔ بکرم سنگھ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجو نے جب آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تو سابقہ …