Home / International / مفاد کے حصول کیلئے امریکہ ویڈیو گیمز کے ذریعے کیا کر رہا ہے

مفاد کے حصول کیلئے امریکہ ویڈیو گیمز کے ذریعے کیا کر رہا ہے

ہمارے ہاں جہادی لٹریچر پر پابندی لگوا کر امریکہ خود یہی کام جدید انداز میں کر رہا ہے، یاد رہے جہاد قتل و غارت کا نام نہیں بلکہ ظلم و زیادتی کا مقابلہ کرنے کا نام ہے، مگر امریکا اسکا ایک دوسرا مطلب دنیا کو دکھا رہا ہے۔

نئی نسل کو امریکا مختلف طریقوں سے برین واش کر رہا ہے، جن میں سب سے زیادہ مقبول ترین طریقہ کمپیوٹر ویڈیو گیمز ہیں، گیمنگ 12سے 24 سال کے بچوں کا مرغوب مشغلہ ہوتا ہے، اس وقت ان نوجوانوں کی سوچ اور شعور تخلیق ہو رہے ہوتے ہیں، وہ گیمز کی آڑ میں بڑی صفائی کے ساتھ نئی نسل کی برین واشنگ کر دیتے ہیں، ان کے ذہنوں میں یہ بات انڈیل دی جاتی ہے کہ طالبان نام ہی ناقابل برداشت ہے۔ اور نعوز باللہ داڑھی رکھنے والا دہشتگردی کی علامت ہے۔

بات یہیں تک نہیں رکتی مسلمان عورتوں کے حجاب کرنے پر بھی دنیا میں اب نئے نئے اعتراضات جنم لے رہے ہیں، جہاں داڑھی کو مشکوک قرار دے دیا گیا ہے وہیں سعودی عرب جیسے ملک میں حجاب کو غیر ضروری قرار دے کر یہ ثابت کر دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے دین کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے، سعودی عرب جیسے ملک نے بھی یہ سب امریکہ کے کہنے پر کیا۔

خیر بات ہو رہی ہے بچوں کو برین واش کرنے کے نت نئے طریقوں کی ، جہاں امریکہ اپنی فلموں اور ویڈیو گیمز کے ذریعے اپنی فوج کو ہیرو جبکہ مسلمانوں کو دہشت گرد دکھاتا ہے، تاکہ نئی جنریشن یہ سمجھنے لگے کہ دنیا میں امن صرف امریکہ لا سکتا ہے اور امریکہ حق پر ہے، وہ جس کو مارے وہ ٹھیک، وہ جس کو چھوڑے وہ ٹھیک، وہیں اسرائیل یہی برین واشنگ والا کام اپنے تعلیمی اداروں کے ذریعے کرتا ہے، اسرائیلی بچوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ روئے زمین پر ان کی واحد پناہ گاہ اسرائیلی ہے اور باہر کی ساری دنیا ان کی دشمن ہے۔

اور خاص طور پر مسلمان ان کے صف اول کے دشمن ہیں، یاد رہے جہاں پاکستان ایک نظریے پر بنا ایک اسلامی نظریے پر، وہیں اسرائیل کو بھی ایک نظریے پر بنایا گیا ہے اور وہ نظریہ ہر کوئی جانتا ہے، جیسے کہ اسرائیل اپنے بچوں کو یہ سب کچھ بتاتا ہے وہاں ٹی ٹی پی اپنے مدارس میں یہی کام کرتے ہیں اور بچوں کو برین واش کیا جاتا ہے، ٹی ٹی پی نابالغ بچوں کے دماغ میں یہ بات نقش کر دیتے تھے کہ ہمارے علاوہ سب گمراہ کافر ہیں ، جن کو قتل کرنے پر اللہ حوریں انعام میں عطا کرے گا۔

یہ لوگ بچوں کو برین واش کرنے میں اتنے تجربہ کار تھے کہ 2007 میں پندرہ سولہ سال کا ایک خودکش بمبار پکڑا گیا، اصل میں اس کی جیکٹ عین وقت پر جواب دے گئی تھی، اور اسے گرفتار کر لیا گیا تھا، گرفتاری کے بعد اس نے اپنے بیان میں یہ بات کہی تھی کہ مجھے حوریں واضح طور پر نظر آ رہی تھی اور مجھے افسوس ہے میں ان تک نہیں پہنچ پایا۔

بہرحال دنیا میں ہر جگہ جہاں امریکہ کا اپنا مفاد ہو وہ غلط بھی درست ہوجاتا ہے وہاں بچوں کی برین واشنگ کا بھی مسئلہ نہیں ہوتا، وہاں بلیک واٹر کے برین واشڈ انتہا پسند بھی امریکہ سمیت دنیا کے ہر قانون سے آزاد قرار دیئے جاتے ہیں، اور جہاں امریکی مفاد نہ ہو وہاں کشمیر اور فلسطین کی فریڈم موومنٹس بھی دہشت گردی قرار دی جاتی ہیں۔

About yasir

Check Also

ترکی کا امریکہ کو بھرپور جواب – ترک معاشی جنگ اور آئی فون

ترکی میں لاکھوں لوگ آئی فون استعمال کرتے ہیں. آئی فون بڑی تعداد میں امریکہ …