Home / Pakistan / قمر جاوید باجوہ اور امریکہ کی چالیں

قمر جاوید باجوہ اور امریکہ کی چالیں

ٹرمپ انتظامیہ نے ہر حربہ استعمال کر کے دیکھ لیا کے شاید پاکستان ڈر جائے, اس دوران پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور پاکستان کے شہروں کو ڈرون حملوں سے تباہ کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، لیکن ادھر باجوہ انتظامیہ نے ہر سوال کا جواب اسی زبان میں دیا جیسا ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ رہا۔

روسی میڈیا نے بھی کچھ حقائق سامنے رکھے اور امریکہ کو باور کروایا کہ امریکہ پاکستان کو شمالی کوریا کی طرح دھمکانہ بند کرے،پاکستان اس خطے کی اصل طاقت ہے پاکستان کی سٹریٹیجک لوکیشن بہت اہمیت رکھتی ہے، اس کے علاوہ پاکستان ایک نیوکلیئر سٹیٹ بھی ہے، اور شمالی کوریا سے کہیں زیادہ طاقتور اور خطرناک ہے۔

اب ٹرمپ انتظامیہ مکمل طور پر ہر چیز دیکھ کر, پاکستان کی روس کے ساتھ بڑھتی قربتیں، یورپی ممالک کے چین کے ساتھ بڑھتے تعلقات، ترکی جیسے اتحادی کا ہاتھ سے نکل جانا، وغیرہ امریکہ کیلئے پریشان کن ہے۔ یاد رہے اسی حدشے کے پیش نظر ترکی کے ہاتھوں شام میں روسی لڑاکا طیارہ تباہ کروایا گیا تھا۔

مگر روس نے سمجھداری سے کام لیا اور امریکہ کے اس پلان کو سمجھ گیا، پھر امریکہ نے روسی سفیر کو ترکی میں مروا کر دوبارہ روس اور ترکی کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی مگر اس بار بھی امریکہ کو منہ کی کھانا پڑی، امریکہ کو پاکستان کے اندرونی حالات خراب کرنے پر پاک فوج کا صبروتحمل اور 22 کروڑ عوام کا ردعمل دیکھ کر اب ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے ساتھ آہستہ آہستہ اپنے روئیے میں نرمی لارہی ہے۔

پوری دنیا جانتی ہے کہ افغانستان میں امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے اور پاکستان کی مدد کے بغیر امریکہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے بھی بے بس ہے، نئے نئے اقتدار کو سنبھالنے والے ٹرمپ نے پاکستان کو ہلکا لے لیا تھا مگر پھر آہستہ آہستہ بات عقل میں آنے لگی کہ اس خطے کی اصل طاقت واقعی میں پاکستان ہے،

شمالی کوریا کی بھی مثال آپ کے سامنے ہے کہ پوری دنیا کو اس بات کا خدشہ تھا کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ جائے گی، کیونکہ ٹرمپ ایک سپر پاور ملک کا صدر ہوتے ہوئے بھی ایک نیوکلیئر سٹیٹ کو دھمکیاں دے رہا تھا اور طاقت کے نشے میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ کسی ملک میں یہ ہمت ہی نہیں کہ وہ امریکہ پر اپنا ہتھیار چلا سکے، لیکن جب امریکی نیوکلیئر کمانڈر جنرل جان ہیٹن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ٹرمپ مجھے کسی ملک پر ایٹمی حملہ کرنے کا کہتے ہیں تو ہم ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کریں گے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس عمل سے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

اس کے بعد ٹرامپ نے اپنے رویے میں نرمی لانا شروع کردی، اور آپ سب نے دیکھا کہ یہی ٹرمپ جو شمالی کوریا کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا تھا کس طرح شمالی کوریا کے صدر سے ملنے گیا، ملاقات کے وقت ٹرمپ کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا، ملاقات کے بعد ٹرامپ نے اپنی قوم سے کہا کہ اب وہ سکون کے ساتھ سوئے کیوں کہ اب شمالی کوریا امریکہ کے لیے خطرہ نہیں رہا، ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کس قدر ڈرا ہوا تھا یہاں تک کہ امریکیوں کی نیندیں اڑی ہوئی تھیں۔

اگر شمالی کوریا جیسا ملک امریکہ کے لئے اس قدر خطرناک تھا جس کے پاس نہ تو اتنی بڑی فوج تھی نہ ہی پاکستان جتنے ایٹمی ہتھیار، پاکستان کی تینوں افواج شمالی کوریا کی تینوں افواج سے کہیں زیادہ جدید اسلحے سے لیس ہیں، اسی لیے روسیوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ امریکہ کا مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان سے اچھا برتاؤ رکھے۔

ٹرمپ کی طرف سے جو گیدڑ بھبکیاں پاکستان کو ماری گئیں وہ کارگر ثابت نا ہوئیں اور پاکستان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نہایت جرآت کے ساتھ ٹرمپ کو اسی کی زبان میں جواب دیا، آپ کو یاد ہوگا کہ قمر جاوید باجوا نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ پاکستان کے دشمن چاہے مشرق میں ہو یا پھر مغرب میں دشمن کی گولیاں تو ختم ہو جاۓ گی مگر ہمارے سینے نہیں، جہاں تک میں جانتا ہوں جنرل قمر جاوید باجوہ وہ واحد آرمی چیف ہیں جنوں نے مغرب میں موجود دشمنوں کو واضح پیغام دیا۔

مسٹر ٹرمپ اب پاکستان سے اپیل کر رہے ہیں کی کسی طریقے سے افغان طالبان سے مزاکرات کروائیں، لیکن پاکستان کی فوج اور خفیہ ایجنسیاں اس امریکی پلان کو سمجھتی ہیں، امریکا افغان طالبان کو مذاکرات کی آڑ میں حملہ کرکے شدید نقصان دینا چاہتا ہے جس کے بعد سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جائے گا، لیکن باجوہ انتظامیہ نے امریکہ کو پھنسا کر نچایا ہوا ہے ملا فضل اللہ کا سر ایک تحفہ دیا ہے۔ یاد رہے اس تحفے سے دو دن پہلے پاک آرمی چیف افغانستان گئے تھے، اور امریکا سے ڈومور کا کہہ کر آئے تھے، یہ وہی امریکا ہے جو پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرکے مسلسل ڈومور کا مطالبہ کرتا آیا ہے، مگر باجوا صاحب کو سلام جنہوں نے ایک نہ سنی۔

امریکہ نے یہ تحفہ پاکستان کو اس لیے دیا کہ پاکستان اس کے بعد امریکہ سے تعلقات بہتر کرلے گا، لیکن یہاں گیم الٹ کر دی گئی ہے، اب دو نمبر طالبان یعنی ٹی ٹی پی جسے بھارت اور امریکہ نے مل کر بنایا تھا بھی امریکہ کے خلاف اترے گی اور اسلامی امارات تو پہلے ہی ان کے لیے بہت تکلیف کا باعث بنی ہوئی ہے، 2018 کے آخر یا 2019 کے شروع میں امریکہ ہر صورت بھاگے گا، اوپر سے سیاسی حالات کچھ ایسے بن رہے ہیں پاکستان میں نواز زرداری الطاف جیسے ساتھی بھی مکمل فلاپ ہو چکے ہیں۔

امریکہ کا حال بد تر ہوتا جارہا ہے، اکانومی میں بڑا ڈینٹ پڑنے والا ہے، کیونکہ زیادہ تر اسلحہ خریدنے والی ممالک روس کی طرف جا رہے ہیں، اور امریکہ اسلحہ ساز کمپنیوں کی سر پر ہی چل رہا ہے۔ امریکا قرضوں میں ڈوب چکا ہے، اس کے پاس اور کوئی چارہ نہی دنبدن اسلامی امارات کے بڑھتے ہوئے حملوں سے شدید نقصان، نیٹو کا اندر سے چار ٹکڑوں میں بٹوارا، امریکا کے اتحادی بھی پیچھے ہٹنا شروع ہوچکے ہیں، جو کہ امریکہ کے بازو سمجھے جاتے تھے۔

یہ سب چیزیں اس بات کی علامت ہیں کہ امریکہ اب زیادہ دیر سپر پاور نہیں رہے گا، تو اب آپ پاکستانی عوام سے گزارش ہے کہ متحد رہیں اور اپنی فوج پر یقین رکھیں دشمنوں کے ساتھ ساتھ غداروں کا بھی صفایا ہوگا، اور پاکستان کی عوام کی امنگوں کے مطابق ہوگا، ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوگا جس کا نقصان پاکستان یا پھر اس کی عوام کا ہو، عوام سے گزارش ہے کہ اس وقت اپنے اداروں کو ہر صورت سپورٹ کرے۔ بےشک مضبوط ادارہ ہی ملک کو مضبوط کرتے ہیں۔

Share This

About yasir

Check Also

کن کن محاذوں پر ملک کا دفاع ضروری ہو چکا ہے

جہاں پاکستان کے دفاع کی بات آتی ہے تو یہ دفاع صرف اور صرف میدان …