Home / Pakistan Army / یوم تکبیر:اللہ کی عنایت و فضل کا دن

یوم تکبیر:اللہ کی عنایت و فضل کا دن

پاکستانی ایک پُرعزم قوم ہے وہ اپنے وجود کو قائم رکھنے اور آگے بڑھنے میں لگی رہتی ہے۔ مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا وہ خواب جو ہندوستان کے مسلمانوں نے دیکھا تھا اُس کے حصول میں کوشاں ہے، خاص ہے قوم رسول ہاشمی، اسی وجہ سے پاکستان کے سابق اسپائی ماسٹر نے برطانیہ میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک خاص قوم ہے۔

اس نے افغانستان کے مسلمانوں کی مدد کی، بوسنیا کے مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کی کوشش کی، متحدہ عرب امارت کو فوجی تربیت دینے میں اہم کردار ادا کیا، امریکہ جیسی سپر طاقت کے مقابلے میں اپنے مفادات کو ترجیح دی اور اُس کے دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے اپنے مفادات کو مقدم رکھا۔

امریکہ اور روس کی سرد جنگ کے دوران امریکہ کا ساتھ دیا اور جدید اسلحہ حاصل کیا اور 1979ء میں روس کے افغانستان پر قبضہ کے بعد امریکہ کا ساتھ دیا مگر اپنا خفیہ ایٹمی پروگرام جاری رکھا، یہاں تک 1984ء میں ایٹم بم بنا ڈالا، امریکہ کے علم میں تھا مگر وہ کچھ نہ کرسکا سوائے اس کے ہمیں چھوٹ دیتا رہا یہاں تک کہ 1989ء میں روس افغانستان میں شکست کھا کر نکل گیا اور امریکہ دُنیا کی واحد سپر طاقت بن گیا۔

اس کے بعد امریکہ نے ہم پر پابندیاں لگا دیں، میرا اور مائیکل کرپین جو اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹریک 2 ڈپلومیسی کے ڈائریکٹر تھے، کے درمیان ایک مکالمہ کراچی میں 27 مارچ 1997ء کو ہوا، میرا کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ہمیں دھوکا دیا، اُن کا بہت بحث کے بعد یہ کہنا تھا کہ اگر آپ کی بات کو صحیح تسلیم بھی کرلیا جائے کہ امریکہ افغانستان سے نکل گیا، اُس کے مضمرات پاکستان کو اٹھانے پڑے ، اگر ہم واحد سپر طاقت بن گئے تو آپ بھی تو ایٹمی طاقت بن گئے، حساب برابر۔

مگر پھر آپ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی کہ پاکستان ایٹم بم نہیں بنائے گا، اس پر میں نے کہا کہ امریکہ کون سے معاہدے کی پابندی کرتا ہے، ہر ایک قوم کو اپنے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھانے کا حق ہے۔ آپ تو اپنا کام نکال کر چلتے بنتے ہیں۔ تاہم 28 مئی 1998ء مسلمانوں کے لئے ایک تاریخ ساز دن تھا جب اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایک ایسے ہتھیار کا تجربہ کیا جو دنیا کا مہلک ترین ہتھیار مانا جاتا ہے، قوموں کے عروج و زوال میں جہاں دوسرے عناصر کارفرما ہوتے ہیں وہاں ٹیکنالوجی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

بہادری کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی ایسے ہتھیار کی ضرورت ہوتی ہے جو مستند، نایاب اور کارآمد ہو، ایک زمانے میں شمشیر زنی، تیراندازی اور اسکے بہتر استعمال پر جنگ میں فتح و شکست کا درومدار ہوتا تھا۔ پھر منجنیق جیسا بڑے بھاری پتھر پھینکنے والا لانچر آگیا جو قلعہ کی دیوار کو اپنی رفتار اور وزن سے توڑ دیتا تھا۔ چین میں منگول ایک خاص طریقہ سے حملہ آور ہوتے تھے، ایک سپاہی تین گھوڑوں کے ساتھ اپنی برق رفتاری برقرار رکھتا تھا، ایک گھوڑے پر سوار ہو کر کچھ فاصلہ طے کرتا تھا اور اگر یہ دیکھتا کہ گھوڑا تھک گیا ہے تو اچک کر دوسرے گھوڑے پر اس طرح تیسرے گھوڑے کو برق رفتاری برقرار رکھنے کے لئے استعمال میں لاتا تھا اورلوٹ مار اور تباہ کرکے چلا جاتا تھا۔ جس کی وجہ سے دیوار چین بنی۔

اسی طرح 1671ء میں امام شامل کے خلاف روسیوں نے جرمن اور سوئیڈن کے انجینئروں کی مدد سے بارود کا پہلی مرتبہ استعمال کیا اور مسلمانوں کو اس میں پسپائی ہوئی، پھر شکست کا سلسلہ چلتا رہا، 1857ء میں مغلوں کی حکومت ہندوستان میں ختم ہوئی، 1864ء میں ازبکستان جہاں سے مغل آئے اس کو روس نے اپنی دسترس میں لے لیا۔ 1921ء میں سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا، یہ ایک بہت گمبھیر صورتِ حال تھی، جب برصغیر کے مسلمانوں نے جدوجہد آزادی شروع کی تھی یہاں تک 23 مارچ 1940ء میں ایک قرارداد نے مسلمانوں کی آرزوئوں کی تکمیل کا اظہار ایک لفظ پاکستان سے کیا۔

پاکستان مسلمانوں کے خوابوں کی سرزمین ٹھہری ، جو آرزوئیں اور امنگیں ایک عظیم ملک کے باسی بننے کے سلسلے میں تھیں، پاکستان کی شکل میں پورا ہوتے دیکھنے کی تمنا نے ہی برصغیر کے مسلمانوں میں اس جدوجہد کی جسارت پیدا کردی جس کی وجہ سے وہ انگریزوں اور ہندوئوں کی مشترکہ طاقت سے ٹکرائے اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان حاصل کرلیا، اپنے آپ کو مضبوط بنانے کے لئے امریکہ سے جڑا، سینٹو اور سیٹو میں شامل ہوا کہ اُس کے دو مفادات تھے، اپنے آپ کو دفاعی طور پر مضبوط کرنا اور بڑے مسلمان دشمن ملک کے خلاف صف آرا ہونا۔

اس کی کوشش میں وہ 28 مئی 1998ء میں ایٹمی طاقت بن گیا، امریکہ نے ہم سے راستے جدا کر لئے۔ امریکہ ڈیوڈہنڈلے کے ذریعے جوکہ ممبئی حملوں کا خالق ہے، اس کی تصدیق جرمن مصنف ایلیس ڈیوڈ سن نے اپنی کتاب “The Betrayal of India” میں کی ہے اور ساتھ ساتھ ایک بھارتی صحافی امریش مسرا نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ممبئی حملہ سی آئی اے، موساد، بھارتی آئی بی اور ہندو انتہاپسند جماعت آر ایس ایس کا مشترکہ منصوبہ تھا.

یہ مضمون پاکستان کے ایک رسالےمیں مئی 2010ء میں چھپا، اس کے علاوہ بھارتی صحافی عزیز برنی ، روزنامہ راشٹریہ سہارا کے ایڈیٹر نے سو تحقیقی مضامین لکھے ہیں کہ ممبئی حملوں میں پاکستان ملوث نہیں، پھر انکی کتاب ممبئی حملہ آ ر ایس ایس کی سازش کے عنوان سے شائع ہوئی بہرحال پاکستانی قوم اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہے، اب امریکہ نے ہم سے کنارہ کشی کرلی ہے اور بھارت سے اسٹرٹیجک اتحاد کرلیا تو ہم چین سے جڑ گئے تاکہ معاشی طور پر مضبوط اور اسلحہ کے میدان میں خودمختار ہو کر ایک آزاد قوم اور ایک ایسا ملک بن جائیں جو دنیا میں اپنا کردار امن کے حوالے سے ادا کرسکے، وہ موثر ہو اور وزن رکھتا ہو۔

پاکستان اسلحہ سازی میں کافی حد تک خودمختار ہوگیا ہے کہ اس نے پائلٹوں کی تربیت کے لیئے مشاق طیارے بنا لئے، لڑائی کے لیئے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ بھی تیار کرلیا، ایف 16 طیارے کی اوور ہالنگ اپنے ہی ملک میں کر رہا ہے، اس کے علاوہ بحری جہازوں کی تیاری میں پاکستان نے نمایاں ترقی کی ہے۔ وہ ذوالفقار اور اصلت جیسے فریگیٹس بنا چکا ہے جس میں اورین طیارے جیسی صلاحیتیں موجود ہیں، آبدوز بنانے میں مہارت حاصل کرچکا ہے۔

اس نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ اس کے ہدف پر پھینکنے کے سلسلے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ شاہین III میزائل بھارت کے ہر حصہ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ جوہری حملہ کرنے کی دوہری صلاحیت بھی پاکستان حاصل کرچکا ہے، بابر III میزائل 450 کلومیٹر تک آبدوز سے زمین پر مار کرتا ہے ۔ اس میزائل کے مزید ویرینٹس ابھی آنے باقی ہیں جو کہ مختلف یا پھر زیادہ رینج تک مار کرنے کے لئے بنائے جا رہے ہیں۔

پاکستان نے اپنی بقا کیلئے جو تیاری شروع کی تھیں وہ زوروشور سے جاری ہیں، اس میں جہاں ہم اپنے ہیروز ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر کو خراج تحسین ادا کرتے ہیں وہاں بہت سے ایسے سائنسدانوں اور انجینئروں کو بھی خراج تحسین ادا کرتے ہیں، جن کا نام تک کسی کو نہیں معلوم، اس وقت پاکستان کا دفاع اللہ کے فضل سے ناقابل تسخیر ہے۔

28 مئی کا دن برصغیر اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے انتہائی مبارک دن ہے اور وہ پہاڑ جہاں یہ دھماکے ہوئے وہ پاکستان کی عظمت کے گواہ ہیں اور اللہ کی ثنا اور تکبیر کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔

Share This

About yasir

Check Also

پاک فوج کے آفیسرز کو تربیت نہ دینے پر امریکہ کو کیا نقصانات اٹھانا پڑینگے

امریکا کی طرف سے پاکستانی فوج کی ملٹری ٹریننگ پروگرام کی فنڈنگ کم کرنے پر …