Home / Pakistan Army / آئی ایس آئی ، فوج اور کمانڈو مشرف

آئی ایس آئی ، فوج اور کمانڈو مشرف

پرویز مشرف ایک کال پر ڈھیر ہوجاتا ہے، پورا ملک اس پر لعن طعن کرتا ہے، فوج کو امریکی پٹھو ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے، ایک طوفان بدتمیزی اٹھ کھڑا ہوتا ہے، عوام جزبات میں نفرت کے الاؤ لئے بیٹھ جاتے ہیں.

مگر پھر کچھ سال گزرتے ہیں تو معاملات کلئیر ہونے لگتے ہیں , وہ پرویز مشرف جسے بزدلی کے طعنے ملا کرتے تھے وہی شخص تاریخ کا شاطر ترین جرنیل ثابت ہوتا ہے، جب وقت کی سپر پاور کے پاؤں افغانستان کی اس دلدل میں دھنسنے لگتے ہیں , اسکے خزانے خالی ہونے لگتے ہیں۔

امریکہ اپنی تاریخ کے بدترین اقتصادی بحرانوں کا شکار ہوجاتا ہے , ہزاروں اپاہج اور ہزاروں لاشوں کی صورت میں تابوت واپس پہنچنے پر امریکی عوام اپنے پالیسی سازوں پر نکتہ چینی کرنا شروع ہوجاتے ہیں اور تاریخ میں ہی پہلی دفعہ افغان جنگ کے خلاف امریکہ کے خلاف امریکہ میں ہی مظاہرے شدید ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

عسکری نصابوں میں بار بار کہا جاتا ہے کہ فتح شکست کا دارومدار نقصانات پہ نہیں ہوتا فتح شکست کا دارومدار اس بات پہ ہوتا ہے کہ جنگ کا جو مقصد تھا کیا وہ پورا ہوا ؟ حملہ آور اپنا ٹارگٹ اچیو کر سکا ؟ حریفوں کی ڈسٹرکشنز کے تناسب کا تعلق ہر گز بھی فتح یا شکست طے نہیں کرتا۔

امریکہ افغانستان میں تیزی سے ایٹمی ٹیکنالوجی میں ترقی کرتے پاکستان کو نکیل ڈالنے، پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی جاسوسی کرنے، انہیں ہتھیانے اور چائینہ کی اقتصادی وار کا مقابلہ کرنے آیا تھا , اسے مضبوط پناہ گاہ چاہئے تھی, ایسے بیس چاہئیں تھے جہاں وہ پاکستان پر حملے کے لئے قوت جمع کرسکے مگر وقت نے ثابت کیا کہ پاکستان نے اسکے منصوبے کو کبھی پورا ہونے ہی نہیں دیا۔

وہی پرویز مشرف جسے بزدل کمانڈو کہا جاتا تھا آج اسی کو دنیا ایک چالاک جرنیل کے نام سے یاد رکھتی ہے کہ جس نے امریکہ کی مدد سے امریکہ ہی کے سب منصوبے خاک کردئے، ایک مرتبہ جنرل حمید گل نے تاریخی الفاظ فرمائے تھے، انھوں نے کہا تھا کہ دنیا آئی ایس آئی کے دو کارناموں کو ہمیشہ یاد رکھے گی، اور وہ یہ کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے سوویت یونین کو شکست دی، اور دوسرا آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دی،

پرویزمشرف کی حاضر دماغی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کہ ایک مرتبہ ایک امریکی انٹرنیشنل ڈیبیٹ میں آئی ایس آئی کے بارے میں یہ کہہ رہا تھا ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن چھپا ہوا تھا جبکہ آئی ایس آئی کو پتہ ہی نہ تھا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔

جواب میں پرویز مشرف نے کہا کہ ایسا ممکن ہے مگر خود کو سپر پاور کہنے والے اس بات پر کیا جواب دیں گے کہ چار سے پانچ مختلف جگہوں سے ہوائی جہاز ہائی جیک ہوتے ہیں اور ایک عمارت سے ٹکراتے ہیں مگر سپرپاور کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو پتہ ہی نہیں چلتا۔ کیا سی آئی اے اس وقت سوئی ہوئی تھی؟ یہ جواب سننے کے بعد وہ امریکی ہکا بکا رہ گیا، وہاں موجود ہر شخص لاجواب ہوکر رہ گیا، یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر اس وقت بھی موجود ہے۔

پرویز مشرف دور میں ہی کشمیر کی جہادی تنظیموں پر پابندی لگا دی جاتی ہے مگر ان تنظیموں کے مجاھد گواہ ہوں گے کہ کشمیر کے جہاد میں اتنی آسانیاں کسی نے فراہم نا کیں جو مشرف نے درپردہ پیدا کردیں۔ آسان لفظوں میں کہا جائے تو دنیا کی نظروں میں ہم نے مجاہدین پر پابندی لگا دی تھی مگر جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں ملتی اس وقت تک مجاہدین بھی ختم نہیں ہوں گے، کیونکہ ان مجاہدین کو پاکستان نہیں بلکہ بھارت پیدا کرتا ہے، بھارتی فوج کے ظلم کی وجہ سے مجاہدین بنتے ہیں اور اپنا حق حاصل کرنے کے لئے لڑتے ہیں۔

ریمنڈ ڈیوس معاملے پہ سول حکومت اور عدلیہ ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ دیتی ہے مگر اس دوران انٹیلیجنس کو جو چند دن تفشیش کے لئے ملتے ہیں اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بلیک واٹر کہ جس کی دہشت پورے پاکستان میں ہوتی ہے یکدم اس کا پاکستان سے صفایا ہوجاتا ہے.

سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ ہوتا ہے پھر تنفید شروع ہوجاتی ہے، مگر جواب وہاں دیا جاتا ہے جہاں دینا چاہئے , 2011 اور 2012 کا سال امریکی اور نیٹو فوجیوں پہ قیامت کا سال گزرتا ہے افغان جنگ کے دوران اتحادی فوجیں ضرورت سے زیادہ نشانہ بننا شروع ہوجاتی ہیں.

نواز شریف کی حکومت کے ان پانچ سالوں کا تجزیہ کریں تو ایک بات صاف ہوجاتی ہے کہ نواز شریف نے اپنی گرتی ہوئی مقبولیت سے ڈر کر خود کو سیاسی شہید بنانا چاہا اور بارھا ایسے کام کئے کہ فوج مجبور ہوکر مارشل لاء لگا دے مگر فوج نے ایسا نہیں کیا

بزدلی کے بدلے جنگ جیتنا , ریمنڈ ڈیوس کے بدلے بلیک واٹر کا نیٹ ورک ختم کرنا , سلالہ کا بدلہ افغانستان میں لینا , جہاد کشمیر پر پابندی لگا کر اسے مزید تیز کردینا , نواز شریف کی کوششوں کے باوجود مارشل لاء نا لگانا کہ اس ناسور سے ہمیشہ کے لئے جان چھوٹ جائے ,

یہ پانچ مثالیں ذہن میں بٹھا لیجئے اور ایک بات دل میں طے کر لیجئے کہ آپ کی مسلح افواج کا کوئی قدم پاکستان کی سالمیت کے خلاف نہیں ہوتا , ان کے جو فیصلے آپ کو غلط لگتے ہیں ان فیصلوں کو وقت درست ترین ثابت کرتا ہے , آپ نا تو جی ایچ کیو میں سفید بال لئے بیٹھے جرنیلوں جتنی اہلیت رکھتے ہیں اور نا اتنی سمجھ بوجھ کہ ملکی سالمیت کے فیصلوں کو سہی درست ثابت کرسکیں.

کرنل جوزف کے معاملے کے کئی رُخ ہیں وہ سفارتکار ہے , حادثہ تو معمولی چیز ہے سفارتکار کو جاسوسی جیسے قابل گردن زنی جرائم پہ بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ماسوائے اس کے کہ ناپسندیدہ قرار دیکر نکال دیا جائے. اور یہ قانون ہم نے نہیں بنائے بلکہ دنیا کا ہر ملک ان قوانین کا پابند ہے یہاں تک کہ امریکہ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی پاکستانی سفارتکار امریکا میں جاسوسی کرتا ہے تو امریکہ اسے ملک بدر کر سکتا ہے۔

کرنل جوزف کو چھٹی آپ کی فوج نے نہیں دی , یہ آپ کی سول انتظامیہ اور وزارت داخلہ کے دئے این او سی کا کمال ہے , وہی این او سیز جنہیں آپ کی سول سپرمیسی کے نمونے زرداری اور نواز شریف سی آئی اے کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچتے رہے.

فوج کو ایسا کوئی بھی آئینی اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ کرنل جوزف کو روک سکے , یہ اختیارات اور یہ کیس سول انتظامیہ کی ذمہ داری تھا , فوج ہر گز ہر گز صرف ایک حادثے کی صورت میں اختیارات سے تجاوز کرکے اس نام نہاد سول سپرمیسی کو اپنے اوپر گند اچھالنے کا موقع نہیں دے سکتی تھی.

تھوڑا اعتماد رکھئے, صبر رکھئے, وقت کے فیصلے دیکھ لیجئے, یہ آپ کی ہی فوج ہے, یہ آپ ہی میں سے فوج ہے , کچھ اقدامات پر غلطی ہوسکتی ہے کیونکہ فوج آسمان سے نہیں اتری , فرشتے نہیں ہیں , انسان ہیں, مگر آپ کی سول انتظامیہ ,سول حکومت, سول اداروں سے ہزار گنا بہتر ہیں.

Share This

About yasir

Check Also

پاک فوج کے آفیسرز کو تربیت نہ دینے پر امریکہ کو کیا نقصانات اٹھانا پڑینگے

امریکا کی طرف سے پاکستانی فوج کی ملٹری ٹریننگ پروگرام کی فنڈنگ کم کرنے پر …