Home / Pakistan Army / خفیہ ایجنٹس کہیں بھی ہوسکتے ییں اور کسی بھی شکل میں

خفیہ ایجنٹس کہیں بھی ہوسکتے ییں اور کسی بھی شکل میں

خفیہ ایجنٹس کہیں بھی ہوسکتے ییں ۔کسی بھی شکل میں،

اس کا نام حیدر تھا ،پاکستان نام بتایا تھا مجھے اپنے ملک کا ،وہ 38 سال کی عمر کا شخص تھا، نہایت ہنسی مذاق والا انسان وہ بتا رہا تھا کہ میں پیچلے 12 سال سے بلغاریہ میں رہے رہا ہوں،اسے انگلش ۔ڈچ۔اور بلغارین زبان پر خاصہ عبور حاصل تھا.

وہ پیچلے چھ سال سے میرے ساتھ بلغاریہ کے ایک پیٹرول پمپ پر کام کر رہا تھا۔یہ پیٹرول پمپ اسینیا نامی ایک گاوں کے پاس تھا،یہ گاوں بہت خوبصورت تھا ہمارے پیٹرول پمپ کے سامنے ایک فوجی ٹرینگ سکول تھا ،جسمیں ہر وقت ریٹائرڈ فوجیوں کی گالیوں کی آوازیں ہوتی تھی ، یہ ریٹائرڈ فوجی ہر وقت ان جوان فوجیوں کو گالی دیتے جو ابھی بھرتی ہونے کے لیے اس ٹرینگ سکول میں آئے تھے.

میں اور میرا دوست حیدر سارا دن ان کا یہ ڈرامہ دیکھتے اور زور زور سے قہقے لگاتے، اور کبھی کبھی میں حیدر سے کہتا یار حیدر اگر ہم دونوں میں سے کوئی آرمی میں ہوتا ؟

حیدر کا ہر وقت ایک جواب ہوتا آپ کا مجھے پتہ نہیں ڈین لیکن مجھے آرمی کی نوکری سے موت بہت اچھی لگتی ہے، ہم یونہی باتوں میں مشغول ہوتے کہ ہمارے پیٹرول پمپ کے مالک کی آواز آتی, کام پر دھیان دو حرام خورروں ہمارے مالک کی حیدر سے کچھ خاص نہیں بنتی اس کی ایک وجہ جو مجھے معلوم تھی وہ یہ تھی کہ حیدر ایک مسلمان تھا ،اور پورے گاوں کو معلوم ہے ;سائمن: ہمارے پیٹرول پمپ کے مالک کو مسلمانوں سے بہت زیادہ نفرت ہے اور یہ نفرت 9/11 کے بعد سے سائمن میں نوٹ کی گئی تھی ،خیر حیدر تھا ایک اچھا انسان وہ سائمن کی باتوں کو جلدی بھول جاتا تھا ۔

اور واپس اپنے کام میں مشغول ہو جاتا تھا،میں نے اپنی زندگی میں حیدر جیسے انسان بہت کم دیکھے،میں اکثر اس سے کہتا کہ حیدر اگر آپ اس پیٹرول پمپ پر نہ ہوتے میرے ساتھ تو میں کب کا یہ پیٹرول پمپ چھوڑ گیا ہوتا ، یہ سائمن کا غصہ میں کب کا چھوڑ گیا ہوتا ،اور حیدر روز کی طرح زور کا قہقہہ لگاتا اور کہتا ڈین واقعی تو میرا دوست ہے ،اس دن وہ پیٹرول پمپ سے تھوڑا جلدی گیا کہہ رہا تھا ایک مہمان آنے والا ہے پاکستان سے اسے ائرپورٹ سے لینے جانا ہے ،جاتے جاتے وہ واپس ایک دم رک گیا اور میری طرف دیکھتا رہا کچھ دیر۔

پھر ہاتھ لہراتا ہوا مجھے بائی کہا اور گاڑی میں بیٹھ گیا،اگلے دو دن وہ کام پر نہیں آیا مجھے تھوڑی پریشانی ہوئی اور کام سے فری ہوکر میں گاوں اس کے گھر پہنچا تو گھر پر تالا لگا ہوا تھا۔اس کے ساتھ والے گھر کا دروازہ کٹکٹھایا جو کہ ایک پادری کا گھر تھا اس نے بتایا کہ حیدر تو دو دن سے غائب ہے یہاں نہیں آیا ہے.

میری پریشانی میں اور اضافہ ہوا اس کے پاس میں لوگوں سے پوچھا کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا 2/3 دن سے ،خیر میں اپنے کام پر روز اس امید سے آتا کہ آج حیدر آیا ہوگا کام پر اور ہر روز میں مایوس ہوکر چلا جاتا تھا ایک دن ٹرینگ سکول کی طرف دیکھ رہا تھا آج سامنے والے ٹرینگ سکول میں پھر گالیوں اور زور زور سے جونیئر فوجیوں پر چیلانے کی آوازیں تھی ،اچانک مجھے حیدر کی وہ بات یاد آتی کہ ان فوجیوں کی زندگی کتوں سے بد تر ہے ،میں اسی سوچ میں تھا کہ آواز آئی ڈین ۔ڈین آپ کے لیے ایک خط ہے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ڈاکیہ کھڑا تھا اس نے مجھے خط دیا اور اپنے رستے چل دیا مجھے خط کون بھیج سکتا ہے.

یہ سوال میں اپنے آپ سے کرتا رہا ، خیر خط کھولا.
اگر ڈیوٹی نہیں ہوتی تو آپ جیسے دوست کو میں کبھی نہیں چھوڑتا میری ڈیوٹی سائمن کے پیٹرول پمپ پر نہیں تھی میری ڈیوٹی سامنے والے فوجی ٹرینگ سکول پر تھی میں ایک سیکرٹ ایجنٹ تھا اور یہ ایک سیکرٹ مشن تھا بلغاریہ میں۔

ڈین آپ کی یاد بہت آئے گی ،شاید زندگی کے موڑ پر یا کسی مشن پر پھر ملے اس خڑوس سائمن کو بھی میرا سلام دینا اور اسے کہنا مسلمانوں سے نفرت کرنا چھوڑ دو,

آپ کا دوست حیدر
بحوالا کتاب: سنایپر کی ڈائری

Share This

About yasir

Check Also

پاک فوج کے آفیسرز کو تربیت نہ دینے پر امریکہ کو کیا نقصانات اٹھانا پڑینگے

امریکا کی طرف سے پاکستانی فوج کی ملٹری ٹریننگ پروگرام کی فنڈنگ کم کرنے پر …