Home / International / کیا افغان فوج میں ’بھگوڑوں‘ کی تعداد بڑھ رہی ہے؟

کیا افغان فوج میں ’بھگوڑوں‘ کی تعداد بڑھ رہی ہے؟

افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد 10 فیصد کمی کے بعد اب تین لاکھ تک رہ گئی ہے: رپورٹ

امریکی سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ افغانستان میں گذشتہ 12 ماہ کے دوران ہلاکتوں کی شرح میں اضافے اور فوجیوں کے بھگوڑے ہونے کی وجہ سے افغان سکیورٹی فورسز کی صلاحیت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

ایک نئی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد 10 فیصد کمی کے بعد تین لاکھ تک رہ گئی ہے۔

یہ معلومات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب  افغانستان میں ہونے والے حملوں میں 40 افراد مارے گئے۔

دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے امریکی سرکاری تنظیم کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

افغانستان کی وزارت دفاع کے نائب ترجمان محمد ردمانیش نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فوج کے پاس ملک میں موجود شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی اہلکار موجود ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سے علاقے شدت پسند گروہوں کے زیر قبضہ ہیں۔
یہ رپورٹ سیگر (سپیشل انسپیکٹر جنرل فار افغانستان ریکنسٹرکشن) نامی تنظیم نے شائع کی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ 2015 میں جب اس تنظیم نے اعداد و شمار اکھٹے کرنا شروع کیے اس کے بعد سے اب تک طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کا کنٹرول یا اثر ملک کے دیگر علاقوں تک پھیل گیا ہے۔

بی بی سی کے ایتھیراجن انبراسن کا کہنا ہے کہ طالبان اور دیگر شدت پسند افغان فورسز پر کاری ضرب لگا رہے ہیں اور بظاہر سیکیورٹی ایجنسیاں دارالحکومت کابل جیسے محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی خودکش حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔

تنظیم سگر کے سربراہ جان سوپکو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’افغان فورسز میں اضافہ امریکہ اور ہمارے اتحادیوں کی اولین ترجیح ہے، اس لیے افغان فورس کی صلاحیت میں کمی پریشان کن ہے۔‘

رواں سال کے آغاز میں بی بی سی کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ شدت پسند ملک کے تین چوتھائی حصے میں کھلے عام سرگرم ہیں۔ تاہم افغان حکومت کا دعویٰ ہے کہ زیادہ تر علاقے اس کے کنٹرول میں ہے۔

Share This

About yasir

Check Also

نریندر مودی’ ٹرمپ اور مسلمان

ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کی آمد کو بند اور …