Home / Pakistan Navy / پاک بحریہ خود کفالت کی طرف بڑھ رہی ہے

پاک بحریہ خود کفالت کی طرف بڑھ رہی ہے

بحری قوت بڑھاکر اپنے ساحلوں کی حفاظت کرنے والے ملکوں کو سمندروں پر بھی اجارہ داری حاصل ہوجاتی ہے۔ یہ سمندرکی دفاعی قوت ہی جنگوں میں ملکوں کی فتح و شکست کا فیصلہ کرتی ہے۔

پاکستان کو اپنے سمندری علاقے جو تین لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے، کی حفاظت کے لئے جدید آلات اورچھوٹے بڑے جہازوں کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ستر سالوں سے پاکستان کی ساحلی پٹی کوڈویلپ کرنے پر دھیان نہیں دیا گیا ۔صرف ایک شپ یارڈ پر اکتفا کیا گیا ہے ۔

جبکہ پاکستان کے اردگرد پھیلے ملکوں نے اپنی بحریہ کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے کے لئے متعدد شپ یارڈ بنا رکھے ہیں۔پاک بحریہ کو دشمنوں کے عزائم خاک میں ملانے کے لئے کم از کم دو مزیدشپ یارڈز کی ضرورت ہے جو جتنی جلد بنیں گے،ملک کا بحری دفاع اسی قدر مزید توانا ہوگا ۔ سی پیک کے بعد تو پاکستان میں شپ یارڈزکی تعداد بڑھانے کی زیادہ ضرورت محسوس ہورہی ہے۔

تاہم پاکستان نیوی محدود وسائل کے باوجود اپنے ساحلوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہے اور اسکی بنیادی وجہ پاک بحریہ کی پیشہ وارانہ تربیت ہے ۔سئینر صحافی نصرت مرزا نے گزشتہ دنوں پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی کی دعوت پر 600 ٹن میری ٹائم گشتی کشتی کو سمندر میں اتارنے کی تقریب میں شرکت کی تو اپنی آنکھوں سے پاک بحریہ کی کارکردگی کو جانچا اور تاسف کا بھی اظہار کیا کہ موجودہ حالات میں پاک بحریہ کو خودکفالت میں آگے بڑھانے کے لئے نئے شپ یارڈ بنانا ہوں گے ۔

نصرت مرزا کا کہنا ہے کہ مجھے یاد ہے کہ دو سال پہلے جب میں ایک جہاز کو سمندر میں اتارنے کی تقریب میں گیا تھا تو ریئر ایڈمرل حسن ناصر شاہ نے جہاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہے پاکستان کی خودمختاری کی علامت کہ جب کوئی ملک اپنے دفاعی سازوسامان اور ہتھیار بنانے لگے اور دوسروں پر انحصار نہ رہے تو وہ خودمختار کہلانے والوں کی صف میں شامل ہوجاتا ہے۔ اِس شپ یارڈ میں فریگیٹ جہاز بھی بنے ہیں ،ان میں کئی معروف فریگیٹس بھی شامل ہیں اور پاک بحریہ کے استعمال میں ہیں۔ اس کے علاوہ یہ شپ یارڈ چار جدید آبدوزیں بنانے کی تیاریاں مکمل کر چکا ہے۔

اس دن بحریہ کے چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی کا کہنا تھا ’’ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں صرف ایک شپ یارڈ موجود ہے جبکہ بنگلہ دیش جیسے ملک میں چھبیس شپ یارڈ ہیں اور بھارت میں اس سے کہیں زیادہ، وہ کوشش کررہے ہیں کہ ایک شپ یارڈ بن قاسم میں اور ایک گوادر میں بنایا جائے‘‘

Share This

About yasir

Check Also

پاک بحریہ کی زبردست کامیابیاں

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بعد پاکستان کو بحری قوت بڑھانے کا خیال آیا، اگرچہ …