Home / Pakistan / پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی بھارتی دفاعی حکمتِ سے بہتر

پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی بھارتی دفاعی حکمتِ سے بہتر

یہ آرٹیکل پاکستان اور چین کے مشترکہ دفاع اور دفاعی حکمت عملی پر لکھا گیا ہے۔

جب تقسیمِ ہند ہوئی اور پاکستان اور بھارت وجود میں آئے تو پاکستان کو بہت کم پیسہ اور ہتھیار ملے, جب کہ بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ پیسہ اور زیادہ اچھے ہتھیار ملے۔

وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دفاعی ادارے ترقی کرتے رہے، اور یہاں تک کہ آج پاکستان کے پاس بھارت سے زیادہ اچھے اور خطرناک ایٹمی ہتھیار اور بیلسٹک میزائل موجود ہیں، کروز میزائل ٹیکنالوجی میں بھی پاکستان بھارت سے کہیں آگے ہے۔

بھارتی دفاعی بجٹ سے چھ گناہ کم بجٹ کے ساتھ پاکستان اپنی فوج کی تنظیم نو پر توجہ دیتا رہا جبکہ بھارت طاقت کے نشے میں فوج اور ہتھیار تو بڑھاتا رہا مگر اپنی فوج کی تنظیم نو پر کوئی خاص توجہ نہ دی، اس وقت پاکستان کا ایک فوجی بھارت کے بیس فوجیوں سے بھی بہتر لڑ سکتا ہے، کیوں کہ پاکستان کی فوج ہر وقت فوجی مشقوں کے علاوہ مختلف محاذوں پر جنگ لڑ رہی ہوتی ہے۔

مگر بھارتی فوج لڑنا تو دور کی بات فوجی مشقوں میں بھی اپنے فوجی مار دیتی ہے،  ایسا واقعہ 2016 میں ہوچکا ہے، مگر پھر بھی بھارت کی تینوں افواج کے پاس جدید ہتھیار موجود ہیں۔

بھارت اور پاکستان کبھی بھی مکمل طور پر ایک دوسرے کو ختم نہیں کر سکتے تاہم جنگ کے دوران جس کی جنگی حکمت عملی زیادہ اچھی ہوگی وہ اپنے دشمن کو زیادہ نقصان پہنچائے گا، اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ پاکستان کی نسبت بھارت کے پاس اچھے اور زیادہ ہتھیار ہیں اور بھارت کی تینوں افواج پاکستان کی تینوں افواج سے بڑی ہیں،ایسے حالات میں پاکستان بھارت کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے؟.

یہ بات سچ ہے کہ دفاعی بجٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے بھارت کئی جدید ہتھیار خرید چکا ہے، مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ بھارت کی تینوں افواج نکمی نااہل اور لاپرواہ ہیں، اور تینوں افواج کی آپس میں بنتی بھی نہیں، بھارت کی تینوں افواج ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگی رہتی ہیں۔

مگر اس کے مقابلے میں پاکستان کی تینوں افواج انتہائی پروفیشنل ہیں، اور تینوں افواج میں بہترین روابط ہیں۔عالمی درجہ بندی کے مطابق بھی پاکستان کی تینوں افواج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بھارت کی تینوں افواج اور خفیہ ایجنسی یعنی را سے بہتر بتائی گئی ہیں۔یہ درجہ بندیاں ہر سال کی جاتی ہیں مگر بھارت کی فوج کبھی بھی پاکستان کی فوج سے بہتر نہیں بتائی گئی۔اور یہی بہترین ثبوت ہے کہ پاکستان کی
مسلح افواج بھارتی افواج سے کہیں بہتر ہیں۔

بھارت کے علاوہ پاکستان کا دوسرا دشمن اسرائیل ہے جیسے کہ بھارت کا دوسرا دشمن چین ہے، آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ جب دشمن کا دشمن آپ کا دوست بن جائے تو آپ دشمن کو بہتر طریقے سے شکست دے سکتے ہیں، پاکستان اور بھارت اسی طرح کی حکمت عملی پر یقین رکھتے ہیں۔

پاکستانی پائلٹس نے عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلی جنگی جہازوں کو مار گرایا تھا اس کے بعد اسرائیل کو آج تک مرچین لگی ہوئی ہیں، اور اسرائیل جانتا ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جو پوری دنیا میں اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن ہے،اپنے پائلٹس پاکستانی پائلٹس کے ہاتھوں مروانے کے بعد اسرائیل نے بھی بھارت سے ہاتھ ملا کر پاکستان سے بدلہ لینے کی ٹھانی، اور پاکستان پر فضائی حملے کا پروگرام بنایا۔

پاکستان کے نیوکلیئر ری ایکٹرز کو تباہ کرنے کے تمام انتظامات مکمل کیے جاچکے تھے،اور دونوں ملکوں کے پائلٹس حکم ملنے کے انتظار میں تھے، ایسے حالات میں پاکستان نے واضح طور پر یہ بتایا کہ اگر پاکستان کے نیوکلیئر ری ایکٹر پر حملہ کیا گیا تو جواب میں پاکستانی ایئر فورس اسرائیلی نیوکلیئر ری ایکٹر تباہ کردے گی، جس کے بعد نہ تو بھارت کو جرت ہوئی اور نہ ہی اسرائیل کو۔

اس مشن میں ناکام ہونے کے بعد اسرائیل نے ایک دوسری حکمت عملی پر کام کرنا شروع کر دیا، اور وہ یہ کہ اسرائیل نے بھارت کے دفاع کو مضبوط کرنا شروع کر دیا اور پاکستان کے ہتھیاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کو جدید ہتھیار فراہم کرنے لگا،اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے خلاف جنگ میں براہ راست لڑنے کی بیوقوفی صرف بھارت ہی کر سکتا ہے۔

مگر پاکستان نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں، پاکستان کی بھارت کے دوسرے دشمن یعنی چین سے دوستی اکثر بھارت کو تکلیف سے دوچار رکھتی ہے، آج اگر چین کسی ملک پر بے انتہا بھروسہ کرتا ہے تو وہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں پاکستان نے چین پر بہت احسانات کیئے ہوئے ہیں، پاکستان اور چین نے ‏آپس کے تعلقات اس قدر مضبوط کر دیے ہیں کہ پوری دنیا کی کوششوں کے باوجود ان تعلقات میں کبھی کمی نہیں آئی۔

پاکستان ایک دوسرا بڑا احسان چین پر کرنے جارہا ہے، جس سے دونوں ممالک فائدہ اٹھائیں گے،چین کو گوادر تک رسائی دے کر ایک طرف پاکستان نے چین کو اپنے دفاع میں شریک کرلیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا دفاع کرنا چین پر لازم ہوچکا ہے، چاہے میدان جنگ میں ہو یا پھر عالمی سطح پر، اور دوسری طرف پاکستان نے چین کو بھارت اور امریکا کے آگے مجبور ہونے سے بچالیا ہے۔

اب چین نہ تو امریکہ کا پابند رہا اور نہ ہی بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے چین کی تجارت میں کوئی فرق آئے گا، کیونکہ اب چین دوست ملک سے گزر کر پوری دنیا سے تجارت کر سکے گا، یوں کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ پاکستان چین کی شہ رگ بن چکا ہے، اور اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ چین نے بھارت اور امریکہ کو یہ پیغام دے رکھا ہے کہ پاکستان پر کیا گیا حملہ چین خود پر تصور کرے گا۔

اب آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ ایک طرف بیوقوف دشمن یعنی بھارت اور دوسری طرف طاقتور اور شاطر دشمن یعنی امریکہ کو چین کس طرح پاکستان کی خاطر للکار رہا ہے، پاکستان کی سلامتی کو خطرہ اصل میں چین کی اپنی سلامتی کو خطرہ ہے، کیونکہ پاکستان کے علاقوں پر اگر کوئی ملک قابض ہوجاتا ہے تو چین بری طرح سے ان ممالک کا پابند ہوجائے گا، اور اس صورت میں بھی چین کو جنگ لڑنی ہی پڑے گی۔

یہی وجہ ہے کہ چین ہر سطح پر پاکستان کا ساتھ دیتا ہے،اس وقت چین اپنے ریڈاروں اور سیٹلائٹس کی مدد سے پاکستان اور بھارت کے بارڈر کی نگرانی کر رہا ہے، اب آپ یہ بات بھی سمجھ سکتے ہیں کہ کیا بھارت پاکستان کے خلاف اسرائیل سے براہ راست مدد لے سکتا ہے یا پھر پاکستان بھارت کے خلاف چین سے؟

اسرائیل اور امریکا پاکستان اور چین کے خلاف بھارت کو ہتھیار تو فراہم کر سکتے ہیں مگر بھارت کی خاطر لڑ کر اپنا نقصان نہیں کروائیں گے، یہ دونوں ممالک ہمیشہ وہی اقدام اٹھاتے ہیں جن سے انہیں صرف اور صرف فائدہ پہنچے، جبکہ چین 1965کی جنگ میں بھی پاکستان کی مدد کرچکا ہے، اور اب حالات کے پیش نظر دونوں ممالک نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ اگر بھارت کی طرف سے کوئی جارحانہ اقدام اٹھایا گیا تو پاکستان اور چین مشترکہ طور پر لڑیں گے اور بھارت یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارتی افواج جب بھی لڑنے کی بات کرتی ہیں تو چین اور پاکستان سے کٹے لڑنے کی بات کرتی ہیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ یہ لڑائی صرف پاکستان یا پھر صرف چین تک محدود نہیں رہے گی۔ یہ آرٹیکل ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی جنگی حکمت عملی ہر طرح سے بھارت کی جنگی حکمت عملی سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

Share This

About yasir

Check Also

جنگ ستمبر لاہور محاذ کے آخری مناظر کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کی زبانی

بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی ہفت روزہ ٹائمز کے نمائندے لوئس کرار نے 23 ستمبر …