Home / Pakistan Air Force / پاکستان کا جے ایف سترہ فائٹر جیٹ پروگرام

پاکستان کا جے ایف سترہ فائٹر جیٹ پروگرام

اس آرٹیکل میں آپ کو پاکستان کے بنائے ہوئے لڑاکا طیارے جے ایف سترہ تھنڈر کی افادیت اور اہمیت کے بارے میں بتایا جائے گا۔

اکثر پاکستانیوں اور بھارتیوں کی طرف سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کی فضائیہ جے ایف سترہ لڑاکا طیارے کو اپنی بیک بون یعنی ریڑھ کی ہڈی کس بنیاد پر مانتی ہے؟، اس طیارے میں ایسی کیا خاص بات ھے کہ یہ طیارہ اتنی بڑی تعداد میں پاک فضائیہ میں شامل کیا جارہا ہے۔؟

اصل میں 1990 کے بعد جب پاکستان کو مغرب کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تو پاکستان نے یہ فیصلہ کیا کہ اسے ملکی سطح پر لڑاکا طیارے بنانے کی ضرورت ہے، لہذا پاکستان نے چین کی مدد سے جی ایف سترہ فائٹر جیٹ پروگرام شروع کیا، اور چینی انجینئرز کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان نے بہت کم عرصے میں دنیا کو اپنا لڑاکا طیارہ بنا کر دکھایا۔

جے ایفسترہ بلاک 1 اور بلاک 2 بنانے کا مقصد پاکستان کے پرانے لڑاکا طیارے جوکہ کم جدید ہیں اور اپنی سروس پوری کرنے کے قریب ہیں، انھیں ریٹائر کرکے ان کی جگہ جے ایفسترہ بلاک 1 اور بلاک 2 کو فضائیہ میں شامل کرنا ہے، جو کہ زیادہ جدید ہیں۔

جے ایف سترہ لڑاکا طیارے کے ائیر فریم کو تقریبا 22 سے 25 سال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پرانے لڑاکا طیاروں میں خاص طور پر ایف سیون کی جگہ اسے شامل کیا جائے گا۔ کیونکہ طیارے کا ائیر فریم ایک مدت تک کارآمد رہتا ہے،اور وقت کے ساتھ ساتھ اور دفاعی ضرورت کو دیکھتے ہوئے پرانے لڑاکا طیاروں کو ریٹائر کرکے ان کی جگہ نے نئے اور زیادہ جدید طیاروں کو شامل کرنا پڑتا ہے۔

اس وقت پاک فضائیہ کے زیر استعمال پرانے لڑاکا طیاروں میں ایف سیون کے علاؤہ میراج-3 اور میراج-5 بھی شامل ہیں، پاک فضائیہ میں میراج-3 کی تعداد تقریبا 75 ہے، اور میراج-5 کی تعداد تقریبا 80 سے کچھ زیادہ ہے۔ مگر پاکستان نے میراج طیاروں کو “روز پروجیکٹ” کے تحت کچھ خاص تبدیلیاں کرکے انھیں جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر دیا ہے، اور انہیں اس قابل بنا دیا ہے کہ یہ دونوں ویرینٹس کم از کم 2025 تک پاک فضائیہ کا حصہ رہیں گے۔

جبکہ پاک فضائیہ میں ایف سیون کی تعداد 107 سے لیکر 125 تک ہے،پاک فضائیہ کے پاس ایف سیون طیاروں کی تعداد تقریبا 200 کے قریب تھی، مگر پاکستان فضائیہ نے ناقابل استعمال طیاروں کو ریٹائر کرکے ان کی جگہ جے ایف سترہ بلاک 1 اور بلاک 2 طیاروں کو شامل کرلیا۔ اور اس وقت پاک فضائیہ 100 سے زائد یہ طیارے استعمال کر رہی ہے۔

پاکستان سالانہ 25 جے ایف سترہ لڑاکا طیارے بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ طیارہ 58 فیصد پاکستان میں تیار ہوتا ہے جبکہ طیارے کا انجن روس سے حاصل کیا جاتا ہے، ان میں سے کچھ طیاروں میں چینی ساختہ انجن بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت لگاتار ایف سیون لڑاکا طیاروں کی جگہ نئے اور ان سے زیادہ جدید جے ایف سترہ طیارے شامل کر رہا ہے۔

مگر اکثر لوگ جو ان طیاروں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ پاک فضائیہ کے جے ایف سترہ مسلسل بنانے کی کیا وجہ ہے، ایسی کیا خوبی ہے اس طیارے میں جو کہ پاکستان اس طیارے پر اعتماد کرکے مسلسل اپنی فضائیہ میں شامل کیے جا رہا ہے۔ تو میرے بھائیو آج میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پاکستان ایسا کیوں کر رہا ہے۔

فلحال ایف سیون کی جگہ بلاک-1 اور بلاک-2 لے رہے ہیں, ایف سیون کے ذریعے پاکستان کی فضائیہ نے ماضی میں بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں، مگر موجودہ دور میں ایسے طیارے کامیاب نہیں ہیں، اور اس وقت ایف سیون کی جگہ بلاک-1 اور بلاک-2 کو شامل کرنا ہی بہتر ہوگا۔ کیونکہ ایف سیون لڑاکا طیارہ زیادہ فاصلے تک فضا سے فضا فضا سے زمین اور فضا سے سمندر میں مار کرنے والے میزائیلوں سے لیس نہیں۔

ایف سیون کے ریڈار کی رینج بھی کم ہے جبکہ جے ایف سترہ لڑاکا طیاروں کا ریڈار سسٹم بہت جدید ہے اور زیادہ فاصلے تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جے ایف سترہ لڑکا طیاروں کو ایف سیون کے مقابلے میں زیادہ فاصلے تک فضا سے فضا، فضا سے زمین اور فضا سے سمندر میں مار کرنے والے میزائیلوں سے لیس کیا جا سکتا ہے۔

ایف سیون لڑاکا طیارے کے حوالے سے مزید کچھ تفصیلات آپ سے شیئر کرنا چاہوں گا، تاکہ آپ کو یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ اس لڑاکا طیارے کی جگہ کس قدر جدید اور معیاری لڑاکا طیارے کو شامل کیا جارہا ہے۔

ایف سیون طیارے کو کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائیلوں سے لیس کیا جا سکتا ہے، یہ میزائل فضا سے فضا میں ہی استعمال ہوتے ہیں، ایف سیون کو جہاں تک میں جانتا ہوں کسی بھی اینٹی شپ یا فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل سے لیس نہیں کیا گیا۔ اس طیارے کو خاص طور پر دشمن کے طیاروں کو انٹرسیپٹ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا جو کہ اپنے دور کا بہترین انٹرسیپٹر رہا ہے۔

اس طیارے کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے جن شارٹ رینج میزائلوں سے لیس کیا جا سکتا ہے ان میں PL-2 جس کی رینج 10 کلومیٹر ہے، PL-5 جس کی رینج 18 کلومیٹر ہے، PL-7 جس کی رینج 14 کلومیٹر ہے، PL-8 جس کی رینج 20 کلومیٹر ہے، PL-9 جس کی رینج 22 کلومیٹر ہے، R550 Magic جس کی رینج 15 کلومیٹر ہے،اور آخر میں AIM-9 Sidewinder ہے جسکی ریج 35 کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہے۔

ان میزائلوں میں چین، فرانس اور امریکہ کے بنائے ہوئے میزائل شامل ہیں، اور یہ پاکستانی انجینئرز کی مہارت ہے کہ اس طیارے کو مختلف ممالک کے تیارکردہ میزائلوں سے لیس کیا گیا، یہ تھی ان میزائلوں کی تفصیلات جنہیں ایف سیون لڑاکا طیاروں سے فائر کیا جا سکتا ہے۔

جے ایف سترہ لڑاکا طیاروں کو نہ صرف چوتھی نسل کے جدید ترین فضا سے فضا میں مار کرنے والے شارٹ رینج میزائیلوں سے لیس کیا جاسکتا ہے بلکہ 110 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک دشمن لڑاکا طیارہ کو مارگرانے والے” SD-10A ” میزائل سے بھی لیس کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ اس جدید طیارے کو فضا سے زمین پر مار کرنے والے تین طرح کے بہترین اینٹی ریڈی ایشن میزائلوں سے بھی لیس کیا جاسکتا ہے، جن میں MAR-1 اوردو چینی ساختہ CM-102 اور LD-10 شامل ہیں۔

مار 1 برازیل کا بنایا ہوا ہے جس کی رینج تقریباً 100 کلو میٹر ہے، چینی ساختہ LD-10 کی رینج 80 کلو میٹر بتائی گئی ہے جبکہ CM-102 کی اصل تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔

یہاں آپ کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہوں گا کہ اینٹی ریڈی ایشن میزائل دشمن کے ریڈار کو تباہ کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں، یہ میزائل ریڈاروں کی ریڈی ایشنز کا ہی پیچھا کرتے ہوئے ریڈارون تک جا پہنچتے ہیں۔

اس کے علاوہ جے ایف سترہ لڑاکا طیاروں کو فضا سے زمین پر مار کرنے والے رعد-1 اور رعد-2 سٹیلتھ میزائلوں سے بھی لیس کیا جا سکتا ہے۔ رعد-1 کی رینج 350 کلومیٹر ہے جبکہ رعد-2 کی رینج 550 کلو میٹر ہے۔یہ دونوں مسائل ایٹمی ہتھیاروں سے بھی لیس کیے جا سکتے ہیں۔

جے ایف سترہ لڑاکا طیاروں کو بہترین اور زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں سے بھی لیس کیا جاسکتا ہے، جن میں سپرسانک میزائل ” CM-400AKG” جس کی رینج چار سو کلومیٹر تک ہوسکتی ہے اور سبسونک ” C-802A ” جس کی رینج 180 کلومیٹر تک ہے شامل ہیں۔

یہ سب معلومات جاننے کے بعد آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاک فضائیہ ایف سیون کی جگہ جے ایف سترہ کو شامل کر کے کس قدر مظبوط ہو جائے گی۔

اس وقت یہ طیارے بھارتی فضائیہ کے ” تیجس ، میراج 2000، مگ 21، مگ 27، جیگور” طیاروں کو بآسانی مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاک فضائیہ اپنے اس لڑاکا طیارے کو وقت کے ساتھ ساتھ اور دفاعی ضرورت کے پیش نظر اس کی اپگریڈیشن کر رہی ہے، جے ایف17 لڑاکا طیارے کو جس طرح چاہیں اپنی ضروریات کے مطابق بناسکتے ہیں۔ یہ چوتھی نسل کا بہترین لڑاکا طیارہ ہے جو ہر طرح کے ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Share This

About yasir

Check Also

وہ وقت جب پاکستانی فضائیہ کے میراج طیاروں کو امریکی نہیں پکڑ سکے

پاکستان ائیر فورس کے جنگجو ہوابازوں کو ہدف دیا گیا کہ انہیں بغیر کوئی سراغ …