Home / International / جنگ عظیم تین کی تیاریاں

جنگ عظیم تین کی تیاریاں

کسی حقیقت کا سامنے آ جانا اور اس کا سمجھ لیا جانا دو مختلف معاملات ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ 1898ء میں پیش آیا جب مصر کی ”وادی االمکوک “سے ایک ایسے فرعون کی نعش دریافت ہوئی جو روایتی انداز میں حنوط نہیں تھا بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اسے جلد بازی میں کسی پہلے سے تیار شدہ اہرام میں رکھ دیا گیا ہوا، اسی برس یعنی 1898ء میں ایک اور واقعہ رونما ہوتا ہے.

 

یعنی اس برس یورپ میں عالمی صہیونیت کی تنظیم کی داغ بیل ڈالی جاتی ہے۔اللہ تعالی قرآن کریم کی سورة اسراء میں فرماتا ہے کہ “وان عدتم عدنا وجعلنا جھنم للکافرین حصیرا” (ترجمہ) اگر تم اپنے (ظلم) کے ساتھ پلٹو گئے تو ہم اپنی (سزا) کے ساتھ پلٹین گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنایا ہے۔ قرآن کریم کی اس ایک آیات میں سمجھنے کے لئے بہت سا مواد تھا مگر افسوس مسلم دنیا کے فکری انحطاط نے ایسی سبیل ہی نہ نکلنے دی جس سے مسلمان آنے والے خطرات کا پہلے سے اندازہ کر سکتے۔

قرآن کریم تو اس قسم کی آنے والی خبروں سے بھرا ہوا ہے لیکن اسے سمجھنے کے لئے مطلوبہ طریقہ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔1898ء میں جب یورپ میں دنیا پر دجالی غلبے کے لئے عالمی صہیونیت کی داغ بیل ڈالی جارہی تھی اسی برس اللہ رب العزت نے فرعون کی نعش کو ظاہر کر کے یہ الٹی میٹم یاد دلا دیا تھا کہ اگر یہودیوں نے ظلم کی تلوار سے دوبارہ غلبے کی کوشش کی تو ہم بھی دوبارہ اپنی اسی سزا کے ساتھ لوٹ آئیں گے جس کا مزا انہیں پہلے تاریخ میں چھکا یا گیا تھا۔

عالمی سطح پر ایک ہی برس میں ان دو اہم واقعات کا رونما ہونا کیا محض اتفاق تھا؟
اس دریافت کے ٹھیک سو برس بعد آج ظلم کی یہ آگ پوری طرح دنیا کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے جس میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ پوری طرح جھلس رہا ہے، افغانستان میں اس آگ نے لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنا ڈالا ہے۔ اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ آگ محض ایک مقصد کی جانب اشارہ کرتی ہے لیکن اب امریکہ کے بعد اسرائیل کی بین الاقوامی قیادت کا قیام عمل میں لانا ہے جس کے لئے خطے کے تمام ممالک کو اسرائیل کے سامنے سرنگوں کیا جائے.

اس کے بعد باقی دنیا کو اس عالمی دجالی حکومت کے احکامات ماننے پر مجبور کیا جا سکے جس میں سب سے بڑی رکاوٹ یقینا سب سے پہلے روس اور پھر چین ہیں۔مشرق وسطی کے ممالک کی کمر توڑنے کے لئے پہلے مرحلے میں یہاں آپس جنگیں کروائی گئی ہیں جس کی تفصیلات سب کے سامنے ہیں اس کے بعد ایران کو ان عرب ممالک کا بڑا حریف بننے کا موقع فراہم کیا گیا ایران 35 برس سے دنیا کے سامنے امریکہ اور اسرائیل کا ایک بڑا حریف بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے.

لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اتنا دلیردشمن موجود ہونے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس پر آج تک ایک گولی بھی فائز ہیں کی گئی ایسا کیوں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایران کو امریکہ اور اسرائیل اپنے ہاتھوں سے اس حشر سے دو چار کر دیتے جو عراق کا ہوا تو پھر عربوں کو کس سے ڈرایا جاتا اور عراق اور شام میں آپس کی جنگیں کیسے کرائی جاتیں، یمن میں مسلک کے نام پر مداخلت کروا کر مسلمانوں کو آپس کی جنگ میں کیسے الجھایا جاتا صرف اس لئے کہ باقی ماندہ عرب ممالک کی شخصی حکومتوں کو باور کرایا جا سکے کہ تمہیں ایران سے کوئی بچا سکتا ہے تو وہ اسرائیل ہے‘ کیا آج دھڑا دھڑ عرب حکومتیں اسرائیل سے قربتیں نہیں بڑھا ر ہیں؟

اسرائیل سے قربتیں بڑھانے کی دوڑ میں ان عرب حکومتوں نے مظلوم فلسطینی ، شامی، مینی اور عراقی مسلمانوں کے بہتے خون سے آنکھیں پھیرلی ہیں ، دوسری جانب خلیجی عرب ریاستوں نے قطر کے خلاف مورچہ لگایا ہوا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں فریقوں کا اتحادی ایک ہی ہے یعنی امریکہ۔۔۔ بالعلجب۔۔۔ہم بہت پہلے سے اس جانب اشارہ کرتے آرہے ہیں کہ عربوں اور ایرانیوں کو مسلک کی جنگ میں الجھا کر پہلے ان دونوں فریقوں کو معاشی انداز میں دیوالیہ کیا جائے گا.

اس کے بعد انہیں اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے گا اور آج کی صورتحال ان دونوں فریقوں کے سر پر آن کھڑی ہوئی ہے۔ جنگیں اور وہ بھی پراکسی جنگیں ایک مہنگا کاروبار ہے بڑے بڑے امیر ملک جس کے متحمل نہیں ہو سکتے لیکن مشرق وسطی میں اس جنگ کی کیفیت پیداکر کے عربوں اور ایرانیوں کا تیل نکال دیا گیا ہے۔ایران میں عوام اب حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اٹھ رہے ہیں.

معاشی بدحالی نے اس تاریخی قوم کی کمر توڑ ڈالی ہے تو دوسری جانب تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک ہیں جن کا محفوظ سرمایہ اسلحے کے انبار لگانے میں خرچ کروا دیا گیا ہے جو شایدکبھی استعمال ہونے کی نوبت ہی نہ آئے اس وجہ سے وہاں بھاری ٹیکس نافذ کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے اب وہاں سے غیرملکی کارکنان نکلنے میں عافیت سمجھ رہے ہیں، یہ وہ حالات ہیں جن کا نائن الیون کے ڈرامے سے پہل تصور بھی محال تھا لیکن درحقیقت نائن الیون کا ڈرامہ اس مقصد کے لئے رچایا گیا تھا کہ مشرق و سطی سمیت مسلم دنیا کے اثاثوں پر قبضہ جما کرانہیں ہمیشہ کے لئے مفلوج کر دیا.

Share This

About yasir

Check Also

نریندر مودی’ ٹرمپ اور مسلمان

ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کی آمد کو بند اور …