Home / Pakistan Army / افغان جنگ کس کی تھی اور کس نے شروع کی؟

افغان جنگ کس کی تھی اور کس نے شروع کی؟

10 فروری 1973ء کو اکبر بگٹی کی اطلاع پر عراقی سفارت خانے پر ایس۔ ایس۔جی کے کمانڈوز اور رینجرز نے چھاپہ مارا۔ بلوچ دہشگردوں کے لئے روس کی طرف سے براستہ افغانستان بھیجا گیا کثیر تعداد میں اسلحہ پکڑا گیا۔۔۔ اس سے پہلے بھی افغانستان ہمیشہ سے روس و بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کام کرنے میں مصروف رھا تھا۔

لیکن اب کی بار تو حدود پار ہو گئیں۔ ذولفقار علی بھٹو نے ہنگامی اجلاس طلب کیا، فیصلہ ہوا کہ اب افغانستان کو اس کے ہی فضلے میں ڈبویا جائے گا۔۔۔۔ موقع جلد ہی مل گیا۔ افغانستان میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں بادشاہت ختم ہوئی تو کمیونسٹ برسرِ اقتدار آ گئے۔ اسلام مخالف الحادی تعلیم و ننگ دھڑنگ کلچر جب یونیورسٹیوں میں شروع کیا گیا تو اسلام پسند طلباء اور اساتذہ مشتعل ہوگئے۔ اور حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو گئے۔

ان مظاہرین میں احمد شاہ مسعود و دیگر اور انکے استاد برہان الدین ربانی کو قائدین کی حیثیت حاصل تھی۔ جبکہ گلبدین حکمتیار بھی قائدین کی صف میں شامل تھے۔ 1974ء میں انٹیلیجنس نے بھٹو کو مندرجہ بالا تفصیلات بتلا کر کہا کہ احمد شاہ مسعود اور برہان الدین ربانی کی جان کو خطرات لاحق ہیں اور وہ چھپتے پھر رھے ہیں۔ بھٹو کے آرڈرز پر آئی ایس آئی نے کابل میں روپوش احمد شاہ مسعود اور برہان الدین ربانی کو نکال کر بحفاظت پاکستان پہنچایا۔

اسکے فوراََ بعد گلبدین حکمتیار و دیگر چند لوگوں کو بھی پاکستان لایا گیا اور بھٹو نے ان لوگوں سے باقاعدہ بات چیت کے بعد انہیں بطور پراکسی کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا۔ بھٹو نے یہ کار خیر نصیر اللہ بابر کے ذمے لگایا اور ان نے مزید طلباء بلوا کر ٹریننگ کیلئے انہیں کرنل امام کے حوالے کیا۔۔۔۔۔ اس طرح پاکستان سے افغانستان میں پاکستان کے تربیت یافتہ افغانوں کی پہلی کھیپ 1975ء میں داخل ہوئی۔

بھٹو کے بعد ضیاء الحق نے بھی اس محاذ کو جاری رکھا۔۔۔۔

اس کھیپ کو تیار کرنے میں نہ تو ڈالر کی مدد حاصل تھی اور نہ ہی ریال کی۔۔۔ یہ خالصتاً ہماری جنگ تھی۔ ہم نے ہر حال میں لڑنا تھی۔ اور ہم پانچ سال تک بنا کسی مدد کے لڑتے بھی رھے۔۔۔ 1979ء کو اس جنگ میں ایک ٹوسٹ آیا، عین اس وقت کہ جب افغانستان میں مجاھدین کی تعداد میں لادین حکومت کی اسلام و عوام دشمنی کے پیشِ نظر روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا تھا، افغانستان نے روس سے فوجی مداخلت کی درخواست کر دی۔ اور روسی فوج نے آتے ساتھ ہی پاکستان سے متصلہ افغان علاقوں میں تابڑ توڑ کاروائیاں کر کے بازی پلٹ دی۔ حتی کہ روسی افواج نے کئی بار پاکستانی فضائی اور بری حدود کی خلاف ورزی بھی کی۔ روس کے آنے سے پاکستان اور اسکے حمایت یافتہ مجاھدین مشکلات میں گھر گئے۔

یاد رھے کہ اس وقت تک افغانستان میں مجاھدین کے صرف تین قابل ذکر گروپس تھے۔ ایک احمد شاہ مسعود کا، دوسرا گلبدین حکمتیار کا اور تیسرا نورستان و کنڑ کے سلفی مجاھدین۔ اور انکو سپورٹ صرف پاکستان کی حاصل تھی۔

پاکستانی ہتھیار کہ جو اس وقت مجاھدین کے پاس موجود تھے وہ روسی فوجی طاقت، خاص کر جنگی طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کے أگے بیکار ثابت ہو رھے تھے۔ جس سے محاز کمزور پڑتا جا رھا تھا۔ ایسے میں پاکستان کو لامحدود پیسے اور جدید ہتھیار کی ضرورت تھی۔ ضرورت تھی کسی ایسے دوست کی کہ جو روس کا دشمن بھی ہو۔

نظر جا کر رکی امریکہ پہ۔ جو ویتنام میں روس کے ہاتھوں پٹا ہوا تھا۔ پاکستان نے ویتنام شکست کے انتقام کے نام پر امریکہ کو پٹانا شروع کیا، اس دوران افغانستان میں امریکی سفیر کے اغواء اور قتل نے امریکہ کو قائل کرنے میں مدد کی۔ 1980ء میں امریکہ نے پاکستان کے ذریعے مجاھدین کو ”ضروری“ اسلحے کی ترسیل شروع کر دی۔۔۔۔۔

اور یوں امریکہ اور اسکے اتحادی ہماری جنگ میں فریق بنائے گئے۔

Share This

About yasir

Check Also

پاک فوج کے آفیسرز کو تربیت نہ دینے پر امریکہ کو کیا نقصانات اٹھانا پڑینگے

امریکا کی طرف سے پاکستانی فوج کی ملٹری ٹریننگ پروگرام کی فنڈنگ کم کرنے پر …