Home / Uncategorized / پرائیویٹائزیشن اور قومی سلامتی!

پرائیویٹائزیشن اور قومی سلامتی!

پرائیویٹائزیشن اور قومی سلامتی!

پاکستان میں پرائیویٹائزیشن کا عمل شائد اب پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

یہ عمل اب محض قومی اداروں کی فروخت تک محدود نہیں رہا۔ بلکہ اب ذرائع ابلاغ، صحت اور تعلیم تک پھیلا دیا گیا ہے۔ اور اب اس کے بھیانک اثرات نظر آنے لگے ہیں۔

آئیے ذرا ان کو الگ الگ سمجھنے کی کوشش کریں۔

قومی ادارے ریاست کے لیے پیسے کمانے کی مشینیں ہوتی ہیں۔ نہ صرف عوام کو سستی خدمات اور اشیاء فراہم کرتی ہیں بلکہ ریاست کے لیے زر کثیر کما کر عوام پر سے ٹیکسوں کا بوجھ بھی کم کرتی ہیں۔

پاکستان میں پیسے کمانے والی ان تمام مشینوں کو پہلے برباد کر دیا گیا اور اس کے بعد کوڑیوں کے مول بیچ دیا گیا۔ فروخت کیے جانے والے اداروں کی تعداد 200 کے قریب ہے۔
اس وقت ریاست کے پاس اداروں کے نام پر سٹیل مل، پی آئی اے اور ریلوے ہی بچے ہیں جن کو بھی مفت دینے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔

وہ بجٹ جس سے ریلوے کی اصلاح ہو سکتی تھی اسکو میٹرو اور اورینج ٹرین جیسے نمائشی منصوبوں میں جھونک دیا گیا جس کے بعد پاکستان ریلوے تقریباً بند ہونے کے قریب ہے۔ خیال رہے کہ ریلوے سب سے بڑی عوامی سواری ہونے کے علاوہ جنگوں میں افواج اور سازوسامان کی منتقلی کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں سرکاری علاج کے نام پر اب سرکاری ہسپتالوں میں عوام کے پاس سوائے ذلیل ہونے اور دھکے کھانے کے اور کچھ نہیں بچا ہے۔

عوام کی اکثریت اب اپنا علاج پرائیویٹ ہسپتالوں میں کروا رہی ہے جو صاف ستھرے ہوتے ہیں اور علاج کی بہتر سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک بار علاج کے بعد مریض کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔

پرائیویٹ چینلز کے ذریعے تمام قسم کے ذرائع ابلاغ پرائیویٹ ہاتھوں میں منتقل ہوچکے ہیں جس کے بعد پاکستان دشمنوں کے لیے آسان ہوگیا ہے کہ پاکستان کے اپنے میڈیا کو خرید کر پاکستان کے خلاف استعمال کر سکیں۔
اس کی سب سے بڑی مثال جنگ گروپ سے تعلق رکھنے والا جیو چینل ہے جس میں انڈیا کی سرمایہ کاری سپریم کورٹ میں ثابت ہوگئی تھی۔ لیکن اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔
جنگ گروپ اور ڈان نیوز پاکستان کے خلاف جو نظریاتی جنگ لڑ رہے ہیں وہ پاکستان پر کسی ملک کے باقاعدہ حملے سے زیادہ خطرناک ہے۔

لیکن پرائیویٹائزیشن کے اس عمل میں سب سے خطرناک تعلیم کی نجی ہاتھوں میں منتقلی یا پرائیویٹ سکولز ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں کی حکومت مختلف طریقوں سے حوصلہ افزائی کر رہی ہے جس کے بعد سرکاری سکول ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔

ایک طرف یہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے عوام کی جیبوں پر بھاری بوجھ بن چکے ہیں تو دوسری طرف وہ اپنی مرضی کے نصاب کے ذریعے ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو پاکستان، نظریہ پاکستان، اسلام حتی کہ اللہ کی ذات سے بھی بیزار ہیں۔
انہیں ہماری قابل فخر اقتدار فرسودہ لگتی ہیں۔ ان کا قبلہ مغرب سے بھی آگے جا کر وہاں پر ہے جہاں سورج غروب ہوتا ہے۔

دیسی لبرلز کے نام سے ایک ایسی نسل تیار کی جا رہی ہے جو خود اپنی ہی ریاست کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

عدالتوں میں انصاف ناپید ہے۔ لوگ دوبارہ پنچائیتوں اور جرگوں کے ذریعے نجی طور پر انصاف کے حصول کی کوششیں کر رہے ہیں۔

ریاست عوام کو تحفظ، انصاف، صحت، تعلیم اور بہت کچھ دیتی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت نے سائنٹفک بنیادوں پر عوام سے ایک ایک کر کے یہ ساری چیزیں چھین لیں ہیں اور کمال یہ کیا ہے کہ اس کو ” وسیع تر عوامی مفاد” میں قرار دیتے ہوئے اسی عوام سے اس کی داد بھی لی ہے۔

اس احمق عوام کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ کیسے ان کے پیروں تلے زمین کھینچی جا رہی ہے۔

اگر پاکستان کو بچانا ہے تو نہ صرف پرائیوٹائزیشن کے اس خوفناک عمل کو پوری قوت سے روکنا ہوگا بلکہ اس کو ریسورس گیئر لگانی ہوگی۔ ورنہ بہت دیر ہوجائیگی!

About yasir

Check Also

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار سویڈش تحقیقی ادارے ’سپری‘ کے مطابق گزشتہ پانچ …