Home / International / ملائیشیا ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بھارت کے حوالے کردے گا؟

ملائیشیا ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بھارت کے حوالے کردے گا؟

بھارت میں مودی حکومت کے قیام کے بعد سے ہی مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسندی شدت اختیار کر گئی اور اس میں روز بہ روز اضافہ ہوتا رہا اورنوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حکومت کی سرپرستی میں انتہا پسند ہندو غنڈے گائو رکشک کے نام پر مسلمانوں کو سر عام قتل کرنے لگے اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

کبھی گائے کاٹنے کے نام پرکسی بھی راہ چلتے کو قتل کر دیاگیا تو کسی کے گھر میں رکھے فریج سے گوشت بر آمد کرکے اسے گائے کا نام دے کر مکینوں کو قتل کردیا گیا۔بھارتی گجرات میں تو سیکڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا جب مودی وہاں وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے۔

ہندوستان میں تو ان بے گناہوں کے قتل عام پر انصاف نہیں ہوا لیکن عالمی برادری کی جانب سے ان واقعات کی شدید مذمت سامنے آئی اور امریکا کی جانب سے عملاً کارروائی اس وقت سامنے آئی جب نریندر مودی کو اس بنیاد پر ویزا دینے سے انکار کردیا گیا۔

مودی گجرات سے نکل کر بھارت کے وزیراعظم بن گئے اورمسلمانوں کو جن مصائب کا سامنا گجرات میں تھا اب اس کا سامنا انہیں پورے ہندوستان میں ہونے لگا تھا۔

ان حالات میں معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کیسے محفوظ رہتے، انتہا پسند ہندوئوں نے ان کا بھارت میں رہنا مشکل سے مشکل تر بنا دیا ، پہلے ان کی اسلامک ریسرچ فائونڈیشن پر پابندی عائد کردی گئی اور بھارت کے نام نہادجمہوری معاشرے میں ان کا ٹی وی چینل بھی بند کردیا گیا، جب ان کے مصائب ناقابل برداشت ہو گئے وہ پہلے سعودی عرب منتقل ہو ئے اور بعد ازاں ملائیشیا نےان کو اپنے ہاں مستقل قیام کی اجازت دے دی اور انہوں نے وہاں رہائش اختیار کر لی۔

انتہا پسندوں کو ذاکر نائیک کا بھارت سے چلے جانا بھی ہضم نہ ہوا اورانتہا پسندی کا شکار بھارتی میڈیا بھی ذاکر نائیک کی کردار کشی میں ملوث ہوگیا اور ان کے خلاف طرح طرح کی الزام تراشیاں تاحال جاری ہیں۔

بھارتی میڈیا پر آج کل ذاکر نائیک کی کردار کشی ایک مرتبہ پھر عروج پر ہے اور اس مرتبہ پروپگنڈے کا موضوع ذاکر نائیک کی ملائیشیا سے حوالگی کے مطالبے کو بنایا گیا ہے۔

گجرات کی ذہنیت دہلی منتقل ہوئی اور بھارت کی مرکزی حکومت نے ملائیشیا کی حکومت سے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک کی حوالگی کا مطالبہ کردیا۔

بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی(NIA) نے ذاکر نائیک کیخلاف الزامات کی فہرست بھی ملائیشیا کی وزارت خارجہ کی توسط سےکوالالمپورکی ایک عدالت میں جمع کرادی ہے جن میں ذاکر نائیک پر منی لانڈرنگ، دہشت گردی اور تقریروں کے ذریعے بھارتی نوجوانوں کو انتہا پسندی پر اکسانے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

بھارتی میڈیا پر ہونے والے اس پر وپیگنڈہ پر ملائیشیا کے ڈپٹی وزیر اعظم احمد زاہد حمیدی نے ملائیشین ایوان زیریں کو بتایا کہ بھارت سے ابھی تک باقاعدہ اور رسمی طور پر ذاکر نائیک کی حوالگی کی درخواست نہیں ملی ہے تاہم بھارت کی طرف سے اس نوعیت کی در خواست ملی تواس کا جائزہ لیا جائے گا،الزامات درست اور ثابت ہوئے تو انہیں بھارت کے حوالے بھی کیا جاسکتا ہے۔

حمیدی نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے ذاکر نائیک کا پاسپورٹ منسوخ کئے جانے کے باوجود ملائیشیا کی جانب سے دی گئی مستقل رہائش گاہ کی حیثیت کو منسوخ نہیں کیا جائے گا کیوں کہ نائیک نے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔

دوسری جانب ملائیشیا میں ذاکر نائیک کے وکیل شہارالدین علی نے کہا ہے کہ اگر اس نوعیت کی کوئی در خواست بھارت کی جانب سے دائر کی گئی ہے تو ملائیشیا کی عدالت ایسی درخواست کو سن سکتی ہے اور ایسی کسی قسم کی در خواست کو ہم چیلنج کریں گے،لیکن اس سے قبل ہمیں اس در خواست کی کاپی ملنے چاہئے ۔

ان کے وکیل نے مزید کہا کہ کلائنٹ کے خلاف کسی بھی چارج شیٹ کو چیلنج کرے گا کیوں کہ ذاکر نائیک کو بھارت سمیت دنیا میں کہیں بھی سزا نہیں دی گئی ۔

وکیل نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا پر جاری ذاکر نائیک کیخلاف پروپگنڈہ مہم اسلام فوبیا کے سوا کچھ نہیں۔

واضح رہے کہ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک ملائیشیا کے شہر پترا جایا میں رہائش پذیر ہیں۔

About yasir

Check Also

ترکی کا امریکہ کو بھرپور جواب – ترک معاشی جنگ اور آئی فون

ترکی میں لاکھوں لوگ آئی فون استعمال کرتے ہیں. آئی فون بڑی تعداد میں امریکہ …