Home / International / امریکی حملہ اور منظور پشتین

امریکی حملہ اور منظور پشتین

لر و بر کے پشتون ۔۔۔۔۔۔۔۔

چند دن پہلے ایک افغان رکن پارلیمنٹ نے مندرجہ ذیل تقریر کی۔

” پاک فوج کے پاکستان میں ظلم کے خلاف افغانوں نے آواز اٹھائی ہے۔ انکا لیڈر منظور پشتین، علی وزیر اور داوڑ ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک ان کو کوئی جانتا تک نہیں تھا۔ لیکن اب یہ روز پاکستان کے خلاف جلسے کر رہے ہیں اور سارے افغان ان کے جلسوں میں شرکت کرتے ہیں۔

افغانستان میں مدرسے پر امریکی حملے میں متضاد اطلاعات کے مطابق 150 سے 200 کے قریب بچے شہید ہوگئے ہیں اور 400 کے قریب لوگ زخمی ہیں جن میں سے اکثریت بچوں کی ہے۔

افغان حکومت نہ صرف اس پر خاموش ہے بلکہ امریکہ نے الزام لگا دیا ہے کہ یہ حملہ افغان حکومت نے خود کیا ہے۔

اس پر پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنی والی تمام تنظیمیں، پاکستانی میڈیا اور سب سے بڑھ کر لر و بر کے نعرے لگانے والی پشتونوں کی تمام قوم پرست جماعتیں اور “پسکین تحریک” بھی خاموش ہے۔

پشتونوں کے یہ نام نہاد علمبردار ویسے تو روز ” لر و بر ” کے نعرے لگاتے ہیں۔ لیکن اب نام نہاد ” پشتون تحفظ موومنٹ ” نے اس مدرسے پر امریکی حملے کے حوالے سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا حتی کہ سوشل میڈیا پر موجود ان کے گروپس اور پیجز تک خاموش ہیں۔ میرے دوست کا کہنا ہے کہ میں نے منظور پشتین سے ٹوئٹر پر یہ سوال کیا کہ آپ پاکستان اور اسکی فوج پر تو بہت الزمات لگا رہے ہوتے ہیں مگر افغانستان کے مدرسہ پر جو امریکی حملہ ہوا اور اتنا بڑا جانی نقصان ہوا خاص کر جو بے گناہ بچے مارے گئے کیا اس پر بھی آپ کچھ لکھیں گے؟ یہ سوال پوچھنے پر منظور پشتین نے مجھے فوراً بلاک کردیا۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے یہ لوگ اپنے حقوق مانگنے کی آڑ میں صرف فتنہ پھیلا رہے ہیں.


یا تو ہو مرنے والوں کو پشتوں نہیں مانتے۔ یا پھر یہ صرف ان پشتونوں کو پشتون مانتے ہیں جو فارسی بان افغان حکومت اور امریکہ کے وفادار ہوں اور پاکستان کے دشمن۔ پاک فوج کے خلاف جعلی تصاویر شیر کرنے والے اب امریکی حملے کی اصل تصاویر تک شیئر کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

آج آپ کے پاس موقع ہے افغانیوں کی اس تحریک کی منافقت اور پشتون دشمنی کو جانچنے کا۔

میں اس امریکی حملے کو اے پی ایس پر دہشت گردوں کے حملے جیسا ہی سمجھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسی طرح امریکہ کو جواب بھی ملے جیسا دہشت گردوں کو ملا تھا۔

افغانستان میں شہید کیے جانے والے ان معصوموں کا بدلہ وہ قوتیں لے سکتی ہیں جو افغانستان کی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

دنیا کے ہر سویلین کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔ اور پوری دنیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس امریکی حملے میں سولینز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

روس کو پاکستان نے تب شکست دی تھی جب پاکستان نے سٹنگرز کی مدد سے اسکی فضائی برتری ختم کر دی تھی۔

آج امریکہ کو افغان مجاہدین پر فضائی برتری حاصل ہے۔ میں نے سنا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے دور میں پاکستان نے کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے اینٹی ائیر کرافٹ میزائلز کا تجربہ کیا تھا اور ان سے ڈرون گرایا تھا۔ اس وقت پاکستان آرمی کے پاس بہترین شارٹ رینج مین پیڈ میزائل سسٹم موجود ہیں, جن میں جدید ترین Anza MK3 بھی شامل ہے۔

اگر “چین اور روس” واقعی اس وقت مجاہدین کی مدد کر رہے ہیں امریکہ کے خلاف تو انہیں فوری طور پر مجاہدین کو ایسے جدید مین پیڈ میزائل سسٹم فراہم کرنے چاہیے جوکہ امریکی ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کو گرا سکیں۔

شائد تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دہرائے۔ امریکہ کی فضائی برتری ختم ہو گئی تو ان میں زمین پر لڑنے کی صلاحت موجود نہیں۔ اگر یہ فیصلہ کر لیا گیا تو افغانستان کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے۔

Share This

About yasir

Check Also

پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کی خاطر کیا کچھ کرسکتا ہے۔

پاکستان میں عسکری اور سیاسی قیادت اس بات پر متفق ہیں کہ یمن میں جو …