Home / International / اسرائیل کو ’اپنی سرزمین کا حق‘ حاصل ہے، سعودی ولی عہد

اسرائیل کو ’اپنی سرزمین کا حق‘ حاصل ہے، سعودی ولی عہد

اسرائیل کو ’اپنی سرزمین کا حق‘ حاصل ہے، سعودی ولی عہد
سعودی عرب کے طاقتور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی سرزمین کا ’حق‘ حاصل ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب کے کسی اہم رہنما نے کبھی اتنے کھل کر اسرائیل کے اپنی سرزمین کے حق کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

اسرائیل کے ’سرزمین کے حق‘ کو تسلیم کرنے سے متعلق یہ بیان سعودی عرب کے انتہائی با اثر سمجھے جانے والے ولی عہد محمد بن سلمان نے پیر کے روز ایک امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں دیا۔
انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا، ’’کیا یہودی عقیدے کے لوگوں کو تاریخی طور پر ان کے آبائی وطن میں ریاست بنانے کا حق ہے؟‘‘ تو ان کا جواب تھا، ’’میری رائے میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے۔‘‘
ریاض حکومت نے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت سن 2002 میں کرنا شروع کی تھی تاہم شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب کے ایسے پہلے اہم رہنما ہیں، جنہوں نے کھل کر اسرائیلیوں کے ’اپنی سرزمین کا حق‘ تسلیم کیا ہے۔

بتیس سالہ سعودی ولی عہد کا مزید کہنا تھا، ’’سب کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن معاہدے کی ضرورت ہے۔‘‘

سعودی اسرائیلی تعلقات میں گرمجوشی

سعودی عرب نے اب تک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور ریاض حکومت اب تک کہتی رہی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات تب تک نہیں بن سکتے جب تک اسرائیل سن 1967 میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران فلسطینی علاقوں پر کیے گئے قبضے سے دستبردار نہیں ہوتا۔

تاہم اب سعودی ولی عہد کا یہ تازہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے مشترکہ دشمن ایران کے باعث دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ سعودی عرب نے پہلی مرتبہ اسرائیل جانے والی بھارتی مسافر پروازوں کو سعودی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔ گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں اسرائیلی کابینہ نے بھی تصدیق کی تھی کہ ریاض اور تل ابیب کے مابین پس پردہ سفارت کاری کا سلسلہ جاری ہے۔

تبصرہ
سعودی عرب کے ولی عہد کا فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کا کیا گیا ظلم اور ان کے علاقوں پر کئے گئے قبضوں کو نظر انداز کر کے یہ بیان دینا کہ اسرائیل کو اپنی زمین کا حق ہے بے غیرتی سے کم نہیں.

سعودی عرب کے قانون کی ایک تاریخ ہمارے سامنے ہے اس سے پہلے کسی سعودی حکمران نے کبھی بھی کھول کر اسرائیل کی حمایت نہیں کی, مگر نئے ولی عہد نے اسرائیل سے کھلم کھلا ہاتھ ملا لیا ہے, یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہودی کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوا کرتے, اور یہی اسرائیل تھا جس نے عربوں کو ناکوں چنے چبوائے.

جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تو پاکستان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں عید کا سماں تھا, سعودیوں اور پاکستانیوں کی امید بندھ گئی تھی کہ مسلمانوں کے دشمن یہودیوں کو لگام ڈالنے کا وقت آن پہنچا ہے, مگر اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، سعودیوں کی ترجیح اب خانہ کعبہ اور مسلمانوں کی حفاظت نہیں بلکہ ایران کی تباہی ہے.

حالانکہ ایران اور سعودی عرب میں جب جب حالات کشیدہ ہوئے تو پاکستان نے ان دونوں ممالک کو جنگ سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا, مگر نئے سعودی ولی عہد کی ایران سے نفرت اتنی بڑھ چکی ہے کہ حال ہی میں اس سعودی ولی عہد نے یہ بھی کہا کہ ایران سے جنگ ضرور ہوگی, اس کا مطلب یہی ہے کہ چونکہ ایران اور اسرائیل کے بھی آپس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں لہذا سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو جنگ میں شکست دینا چاہتا ہے جو کہ شرمناک اور بزدلانہ اقدام ہوگا.

اسرائیل اور امریکہ شروع سے ہی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کہ حکمت عملی اپناتے آئے ہیں, اور ایسا کرنے کی دو بڑی وجہ ہیں ایک اپنا اسلحہ بیچنا اور دوسرا مسلمانوں کو ہی مسلمانوں کے ہاتھوں مروانا, کیونکہ اگر مسلمانوں کو غیر مسلم مارتے ہیں تو اس کے نتیجے میں بھی امریکہ کو یہ خدشہ ہے کہ مسلمان یکجا ہو جائیں گے, لہذا عراق ہو یا لیبیا, شام ہو یا پھر افغانستان کسی نہ کسی صورت امریکہ کو مسلمانوں کو مارنے کے لیے مسلمانوں کا ہی ساتھ حاصل رہا ہے۔

یاد رہے اسرائیل مشرف دور میں پاکستان سے بھی ہاتھ ملانے کی کوشش کر چکا ہے اور امریکا کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈلوایا کے پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے, اس کے علاوہ اسرائیل نے پاکستان کو ایک بڑی رقم دینے کی بھی پیشکش کی جس کی شرط یہ تھی کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرلے, مگر پاکستان نے ایسا نہیں کیا, کیونکہ ہم نے ایٹمی ہتھیار دکھانے کے لئے اور دشمنوں سے پیسے بٹورنے کے لیے نہیں بلکہ یہودیوں پر استعمال کرنے کے لیے بنائے ہیں.

اس بات کا اسرائیل کو اندازہ ہے کہ پوری امت مسلمہ میں اگر کوئی ملک اسرائیل کو ختم کرسکتا ہے تو وہ پاکستان ہے, اسرائیل کسی بھی صورت پاکستان سے جنگ نہیں چھیڑ سکتا, کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستانی کسی صورت اسرائیل کو سلامت نہیں چھوڑیں گے, لہذا اسرائیل پاکستان سے بھی دوستی چاہتا ہے, اور اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے جب حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا تو اسرائیلی وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ ہم پاکستان کے دشمن نہیں ہیں, یہ بیان اصل میں پاکستان کو یہ پیغام پہنچانا تھا کہ ہم پاکستان کے دشمن نہیں ہیں لہذا پاکستان چاہے تو ہم سے دوستی کر سکتا ہے.

مگر ہم پاکستانی سعودی عرب کے ولی عہد کی طرح بے غیرت اور بے شرم نہیں. پاکستان اس وقت خود مشکل وقت سے گزر رہا ہے جس کی وجہ سے کشمیر اور فلسطین اور شام کے معاملے پر خاموش ہے, مگر عنقریب جب پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہوں گے اور امریکہ کا چین کی وجہ سے دنیا پر اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا تو پاکستان مسلمانوں پر کیے گئے ایک ایک ستم کا حساب ضرور لے گا۔

About yasir

Check Also

ترکی کا امریکہ کو بھرپور جواب – ترک معاشی جنگ اور آئی فون

ترکی میں لاکھوں لوگ آئی فون استعمال کرتے ہیں. آئی فون بڑی تعداد میں امریکہ …