Home / International / ملالہ اور منظور پشتین کو پاکستان میں کیوں ایکٹیو کیا گیا؟

ملالہ اور منظور پشتین کو پاکستان میں کیوں ایکٹیو کیا گیا؟

یہ ملالہ منظور پشتین کو کیوں پاکستان میں ایکٹو کیا گیا ہے؟؟ جانیے اس فلم میں ۔
فلم : ملالہ یوسفزئی
کاسٹ : تحریک طالبان پاکستان
رائیٹر : سی آئی اے، موساد
ایکشن سینز : را
پروڈیوسر : پینٹاگون

فلم : منظور پشتین
کاسٹ : تحفظ پختون پاکستان
رائیٹر : سی آئی اے، موساد ، خاد
ایکشن سینز : را ، خاد
پروڈیوسر : پینٹاگون ، نئی دہلی ، کابل

بیک وقت گالیاں اور گولیاں کھانے والی پاک فوج دنیا کی واحد فوج بن گئی ہے جو جنگ زدہ علاقے میں چیک پوسٹوں پر لوگوں کو شربتیں پلا رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی منظور پشتین کے حوالے سے بیان کے بعد پاکستان میں قوم پرستی کی آگ بھجنے کے قریب ہوگئی ہے ان شاءاللہ۔

اگر قوم پرستی کی یہ آگ کسی بھی صورت بجھا دی گئی تو امریکہ کے پاس پاکستان کے خلاف آپشنز مزید کم ہوجائینگے۔

پاکستان کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ کی بے بسی قابل دید ہے۔ امریکہ دفاعی پابندیوں کے بعد اب پاکستان پر سیاسی پابندیاں بھی لگانے پر غور کر رہا ہے۔ لیکن ان کو اصل امید پابندیوں سے زیادہ پاکستان کی تباہ ہوتی ہوئی معیشت اور پاکستان میں برپا کی جانے والی شورشوں سے ہے۔

ان شورشوں اور بغاؤتوں کی اب امریکہ کھل کر حمایت کررہا ہے۔

کشمیر سے لے کر کراچی تک تقریباً تمام قومیتوں کو پاکستان کے خلاف ابھارا جا رہا ہے۔

تاہم کراچی میں ایم کیو ایم اور بلوچستان میں بی ایل اے کی ناکامی کے بعد پاکستان دشمن طاقتوں نے اپنی ساری توجہ ” پشتون قوم پرستی” پر مرکوز کر لی ہے۔

محمود اچکزئی نے فاٹا اصلاحات اور فاٹا کے کے پی کے میں انضمام کی جو بھرپور مخالفت کی تھی اسکی اکلوتی وجہ یہی تھی کہ اگر یہ انضمام ہوجاتا تو فاٹا کے پشتونوں کو قومیت ( عصبیت ) کے نام پر بھڑکانا ممکن نہ رہتا۔ انڈیا میں نریندر مودی اور نیتھن یاہو سے ملاقاتوں کے بعد محمود اچکزئی آگ اگل رہا ہے۔

لیکن جس تیزی سے پشتون قوم پرستی کا ابال اٹھا تھا اسی تیزی سے بیٹھ بھی رہا ہے۔ ان حالات میں “قوم پرست” ملالہ کا دورہ پاکستان کافی معنی خیز ہے۔

وہ ملالہ جو امریکہ کے حکم کے بغیر سانس نہیں لیتی اچانک چار دن کے لیے پاکستان پہنچ گئی۔ کیا ملالہ قوم پرستوں سے بھی ملاقاتیں کرے گی؟

اگر کیں تو گمان غالب ہے کہ وہ اس بجھتی ہوئی آگ کے لیے مزید لکڑیاں لائی ہوگی۔ قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کو ان ملاقاتوں پر نظر رکھنی چاہئے۔

جس طرح ملالہ کی تحریر و تقریر میں کبھی پاکستان کے لیے کوئی خیر نہیں رہی اسی طرح اس کی پاکستان آمد میں بھی پاکستان کے لیے کوئی خیر پنہاں نہیں۔

Share This

About yasir

Check Also

نریندر مودی’ ٹرمپ اور مسلمان

ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کی آمد کو بند اور …