Home / Pakistan Army / پاکستان بمقابلہ بھارت اسرائیل: جنگ سے پہلے ایک جنگ

پاکستان بمقابلہ بھارت اسرائیل: جنگ سے پہلے ایک جنگ

جنگ ایک ایسا لفظ ہے جو کہ جیسے ہی ہمارے دماغ میں آتا ہے تو ساتھ ہی سوچ اسلحے اور فوج کی طرف جاتی ہے، یوں لگتا ہے کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے اور سرحدوں پر لڑی جاتی ہے۔

لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے, اسلحہ کا استعمال دشمن کو زیر کرنے کا آخری حربہ ہوتا ہے, اس آخری حربے کو استعمال کرنے سے پہلے دشمن کو معاشی اور اقتصادی نقصان دیا جاتا ہے, دشمن کے اپنے لوگ خریدے جاتے ہیں, جیسے کہ ہمیشہ سے مسلمانوں کو صرف اس وجہ سے شکست کا سامنا رہا کیونکہ ان کی صفوں میں موجود غداروں کی کمی نہیں تھی, ان کی وفاداریاں دشمن کے ہاتھوں بک چکی تھیں، یوں وقت آنے پر ان غداروں نے اپنوں کا ساتھ چھوڑا اور مسلمان کئی بار شکست سے دوچار ہوئے.

یہ آرٹیکل اپنی غلطیوں پر نظر ثانی کرنے کے لیے لکھا جا رہا ہے, کیونکہ جب تک ہم اپنی کمزوریوں کو ختم نہیں کریں گے اس وقت تک اپنے دو نظریاتی دشمنوں بھارت اور اسرائیل سے مقابلہ نہیں کر سکتے, یہ دونوں ممالک نہ صرف اپنا اسلحہ تیزی سے بڑھا رہے ہیں بلکہ اپنے دشمن ملک میں اعلی عہدوں پر فائز لوگوں کو خریدنے کیلئے اپنا پیسہ پانی کی طرح بہا رہے ہیں.

بھارت اور اسرائیل کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے  کہ پاکستان کے میڈیا , سیاست دان اور اور فوج کے آفیسرز کو خریدا جائے, اس کوشش میں ان دونوں ممالک کو کامیابی ملی ہے, میں کسی بھی ادارے کی طرف سے بات نہیں کروں گا, کیوں کہ ہماری عوام تصویر کا ایک ہی رخ دیکھنے کی عادی ہے, اس لیے  اپنی فوج سے ہی شروع کروں گا تاکہ کسی کا شکوہ یہ نہ ہو کہ میرے سیاسی قائد پر انگلی اٹھائی گئی.

پاک فضائیہ نے اپنے ایک پائلٹ کی غلطی پر اسے سزا دی اور اسے جیل بھجوادیا, جس کا پتہ اسرائیل کے خفیہ اداروں کو چل گیا, اور انہوں نے جیل میں موجود اس پاکستانی پائلٹ سے رابطہ قائم کرنے کے لئے تگ و دو شروع کر دی, اور اس میں کامیاب بھی ہو گئے, اسرائیلیوں نے ارجنٹائن کے سفارتکاروں کو استعمال کرتے ہوئے اس پائلٹ سے رابطہ کیا اور اس سے راز اگلوانے لگے, مگر جلد ہی پاکستان کی خفیہ ایجنسی حرکت میں آئی اور دشمن کی اس چال کو ناکام بنادیا.

آپ یہ سوچیں کہ ایک پائلٹ جس کو باقاعدہ ٹرین کیا گیا ہوتا ہے کہ وہ کسی صورت لالچ میں آکر یا پھر اذیت سہہ کر دشمن کو اپنے ملک کے راز فراہم نہ کرے, مگر دشمن تربیت یافتہ پائلٹ کو بھی اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو کیا دشمن پاکستان کے میڈیا اور سیاستدانوں کو نہیں خرید سکتا؟

اس وقت پاکستان کو سرحد پر لڑی جانے والی جنگ کے علاوہ ہر جنگ میں شکست ہو رہی ہے, میڈیا کو ملک میں خانہ جنگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے, جب کہ سیاستدانوں کو اتنا کرپٹ کر دیا گیا ہے کہ حب الوطنی ان کے دلوں سے نکل چکی ہے, میں مشرف کو بھی اس بات میں شامل کروں گا کہ ان اٹھارہ سالوں میں ہمارے سیاستدانوں نے قرض لے کر ان فضول پروجیکٹس پر پیسہ ضائع تو کردیا مگر ملک میں ڈیم نہیں بنائے، ان ڈیموں کا پاکستان کے دفاع سے بھی تعلق ہے۔

وہ تعلق اس  طرح ہے کہ بھارت ایک طرف ہمارا پانی  روک کر بیٹھا ہوا ہے جس کی وجہ سے زرعی اجناس میں کمی واقع ہو رہی ہے, اور دوسری طرف بھارت بےانتہا ڈیم بنا کر یہ ارادہ کر کے بیٹھا ہے کہ جب پاکستان سے جنگ ہوئی تو وہ اپنے ڈیم پاکستان کی طرف کھول دے گا, اور یوں دوران جنگ پاکستان کے اہم علاقے ڈوب جائیں گے, اور پاکستان کی فوج کی نقل و حمل تقریبا ناممکن ہوجائے گی۔

اگر پاکستانی سیاستدان اور پاکستانی جرنیل مل بیٹھ کر یہ بات سوچیں کہ اگر ہم ڈیم بنا لیتے ہیں بھارت جتنا مرضی پانی چھوڑے پاکستان اس پانی کو اپنے ڈیموں میں سٹور کر لے گا، اس کے علاوہ پاکستان میں جو علاقے زیرآب آ سکتے ہیں علاقوں میں نکاسی کا نظام ایسا زبردست بنانا ہوگا کہ جنگ کے دوران فوج کی نقل و حمل متاثر نہ ہوں اور پاکستان کی عوام کو بھی اس کا بہت بڑا فائدہ ہوگا, اور ہر سال ان کی فصلیں ان کے مکان اور ان کی جانیں سیلاب کی نذر نہیں ہوں گی.

سیاست دانوں کو اس طرح سے بھی خریدا جاتا ہے کہ یہ واحد ہستیاں ہوتی ہیں جو براہ راست ملکی خزانے کو کنٹرول کرتی ہیں, اور انہوں نے ہی ملک میں ترقیاتی کام کرنے ہوتے ہیں اور مختلف پروگراموں پر پیسہ خرچ کرنا ہوتا ہے, یوں دشمن کی طرف سے انہیں خریدا جاتا ہے اور بھاری معاوضہ اس مد میں دیا جاتا ہے کہ ملکی خزانہ ایسے پروجیکٹس میں جھونکا جائے جس کا فائدہ عارضی ہو، اور ان پروجیکٹس پر کام کرنے سے روکا جائے جس سے ملک کا فائدہ ہو, جیسے کہ اگر ہم قرضہ لیتے ہیں  تو ہمیں وہ پیسہ ڈیمو اور تعلیم کے شعبوں میں استعمال کرنا چاہیے.

کیونکہ یہ دو شعبے ایسے ہیں کہ ان پر جتنا پیسہ لگایا جائے گا اس سے کئی گنا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے, دشمن ملک کو اس فائدے سے بچانے کے لیے ایسے پروجیکٹس پر کام کرنے سے روکا جاتا ہے, جسے کک بیک کا نام دیا گیا ہے, یعنی مخصوص کام نہ کرنے کے لئے دشمن ملک کی ایجنسیوں سے پیسہ کھانا.

بدقسمتی اور لاقانونیت کی وجہ سے پاکستان کے ہزاروں پروجیکٹس ایسے ہیں جن کی ضرورت نہیں تھی مگر انہیں شروع کر دیا گیا, مگر چند پروجیکٹس ایسے ہیں جن پر اگر کام شروع کردیا گیا ہوتا تو پاکستان کی تقدیر بدل جاتی, جس کا براہ راست فائدہ پاکستان کی عوام اور پاکستان کے دفاع کو ہوتا.

یاد رہے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریبا 12 سے15 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے, جبکہ اتنے کا ہی 1 پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ تیار ہوتا ہے. دشمن ہمیں کہتا ہے کہ تمہارا ملک غریب ہے تم کیسے پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے خرید سکتے ہو, اصل میں ہم غریب نہیں مگر کرپٹ ضرور ہیں, اگر ہم نیک نیتی سے اپنے ملک کی بقا کے لیے کام کرنا شروع کردیں تو نہ صرف ہم جدید سے جدید تک ہتھیار لے سکتے ہیں بلکہ ملکی سطح پر بھی تیار کر سکتے ہیں اور کسی حد تک کر رہے ہیں۔

یہاں میں واضح طور پر بتاتا چلوں کے میں نے پورے انصاف سے یہ آرٹیکل لکھا ہے, اور کسی فرد واحد کو ٹارگٹ کرنے سے گریز کیا ہے, ہاں البتہ میں یہاں بتاتا چلوں کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ سیاستدان ملک کے خزانوں پر براہ راست گرفت رکھتے ہیں اس لیے دشمن انہیں خریدنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے. بے شک کرپشن کرنے والے عناصر فوج اور حکومت میں موجود ہیں.

 

Share This

About yasir

Check Also

کیا واقعی جنرل ضیاء الحق امریکی آلہ کار تھے؟

پاکستان میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو جنرل ضیاء الحق کو امریکی …