Home / Pakistan / پاک ایران گیس پائپ لائن کو معطل کرنے کا خمیازہ

پاک ایران گیس پائپ لائن کو معطل کرنے کا خمیازہ

پاک ایران گیس پائپ لائن کو معطل کرنے کا خمیازہ ۔۔۔۔۔۔

زرداری اور نواز شریف نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ معطل کر کے سٹریٹیج بنیادوں پاکستان کی کمر توڑنے کی کوشش کی ہے۔

ذرا اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

یہ کافی پرانا منصوبہ تھا لیکن یہ مشرف کے دور میں تب شروع ہوا جب انڈیا نے اس میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔ منصوبہ یہی تھا کہ ایران پاکستان کے راستے انڈیا گیس پہنچائے گا۔

اس پائپ لائن کی تیکنیکی تفصیلات میں پڑے بغیر پاکستان کے لیے یہ منصوبہ ہر لحاظ سے فائدہ مند تھا۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان کو راہداری کے عوض کم از کم 16 ارب روپے سالانہ ملتے اور انڈیا کی گیس کی تیس سے چالیس فیصد گھریلو اور صنعتی ضروریات اس پائپ لائن سے پوری ہوتیں۔

مشرف حکومت اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بے چین رہی۔ کیونکہ اس منصوبے کی تکمیل کی صورت میں انڈیا کی ایک بہت بڑی سٹرٹیجک کمزوری ہمارے ہاتھ آجاتی۔ اور تمام تر معاہدات کے باؤجود پاکستان جب چاہتا انڈیا کی سینکڑوں صنعتوں اور لاکھوں چولہوں کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا۔

آسان الفاظ میں اگر انڈیا ہمارا پانی بند کرتا تو ہم اسکی گیس بند کر دیتے۔

انڈیا اس کو سمجھ رہا تھا اور پس و پیش سے کام لیتا رہا تب چین اس میں کود پڑا اور یہ پیشکش کی کہ وہ تین ہزار کلومیٹر لمبی پائپ لائن بچھا کر اس کو چین لے جائے گا جس نے ایک مرتبہ پھر انڈیا کو مجبور کردیا کہ وہ اس پائپ لائن کے بارے میں فیصلہ کرے۔

اسی دوران حکومت تبدیل ہوئی اور جمہوری حکومت نے ہمیشہ کی طرح اس معاملے کو کھٹائی مٰیں ڈال دیا جس کے بعد چین کی دلچسپی بھی اس میں کم ہوگئی۔ نواز شریف نے تو ایک وقت میں باقاعدہ اس منصوبے کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچتا تو انڈیا کے علاوہ اس خطے کی بہت بڑی طاقت ایران اس پائپ لائن کی بدولت پاکستان پر پے پناہ انحصار کرتا۔

منصوبے کو ملتوی کرنے کی وجہ سے ایران نے انڈیا سے راہ رسم بڑھائے جس نے ایرانی گیس کو سمندر کے راستے انڈیا لےجانے کی پیشکش کی جواباً ایران نے انڈیا کو چاہ بہار کے راستے افغانستان جانے کا راستہ دیا۔

انڈیا نے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں تہلکہ مچا دیا۔ دہشت گردی کی شکل میں پاکستان میں جاری انڈیا کی پراکسی جنگ کی قیمت پاکستان نے ہزاروں جانوں اور اربوں ڈالر کے معاشی نقصان کی صورت میں چکائی۔

گو کہ اب بہت دیر ہوچکی ہے لیکن یہ کام اب بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو چین کی پرانی پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور چین کو دوبارہ اس منصوبے پر آمادہ کرنا چاہئے۔

یہی محنت انڈیا پر بھی ہونی چاہئے۔ آخر یہ کروڑوں اربوں روپے لینے والے سفارت کار اور سیاستدان کیا کام کرتے ہیں؟

اگر مشرف جیسا ڈکٹیٹر انڈیا کو قائل کرسکتا ہے تو یہ لوگ یہ کام کیوں نہیں کر سکتے؟؟

جہاں تک سعودی عرب کا معاملہ ہے تو سعودی عرب ہماری ناراضگی کے باؤجود انڈیا میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تب ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ آخر مشرف نے بھی تو کیا تھا اور اس کے باؤجود اس کے تعلقات سعودی عرب سے بہترین رہے۔

Share This

About yasir

Check Also

بھارت محتاط رہے جنرل قمر جاوید باجوہ بہت قابل آفیسر ہیں ۔ بکرم سنگھ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجو نے جب آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تو سابقہ …