Home / Pakistan Army / پاکستان کے دفاع میں کیا کچھ شامل ہو چکا ہے

پاکستان کے دفاع میں کیا کچھ شامل ہو چکا ہے

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستان کا نیوکلئیر پروگرام دنیا کا سب سے تیز رفتاری سے ترقی کرنے والا نیوکلئیر پروگرام ہے جو جلد ہی پاکستان کو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ایٹمی ملک بنا دے گا۔ چینی ذرائع کے مطابق پاکستان نے میزائل ٹیکنالوجی میں انتہائی شاندار کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔

جب اسامہ بن لادن کا پاکستان میں مارے جانے کا ” ڈرامہ ” ہوا تو امریکہ نے کہا کہ ” ہم ہر آپشن پر غور کرینگے ” ۔۔اس وقت پاک فوج نے فوری طور پر کچھ اقدام اٹھائے تھے۔ جنرل کیانی نے سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل میزائل حتف 7 بابر کروز کا تجربہ کیا ۔ یہ انتہائی نچلی پرواز کرنے کی صلاحیت رکھنے والا میزائل سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہے اور ریڈار پر نظر نہیں آتا ۔ نچلی پرواز کی وجہ سے اس میزائل کو نشانہ بنانا بھی ممکن نہیں ۔

جبکہ پرویز مشرف نے امریکہ میں بیان جاری کیا کہ “پاکستان دنیا کے سب سے چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو چکا ہے ” ۔ مطلب پاکستان” کریٹیکل لمٹ” سے کم مقدار میں ایٹمی مواد میں فیوژن کا عمل کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے ۔جس کے بعد امریکہ کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
نیوکلئیر ہتھیار بنانے کے لیے یورینیم یا پلوٹینیم کی ایک مخصوص مقدار چاہئے ہوتی ہے ۔ مقدار ایک خاص حد سے کم ہو تو اس میں وہ زنجیری عمل یا فیوژن شروع نہیں ہوپاتا جو ہمیں ایٹمی دھماکے کی شکل میں نظر آتا ہے ۔ اس کم سے کم مقدار کو “کریٹیکل لمٹ” کہتے ہیں جو اس رنجیری عمل یا فیوژن کے لیے درکار ہوتی ہے ۔

امریکہ اور روس عشروں تک چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنانے کے دعوے کرتے رہے۔ جس میں امریکہ نے 43 کلو گرام وزن کا ایک ایٹمی ہتھیار بنانے کا دعوی کیا جس کو آج تک دنیا کا سب سے چھوٹا ایٹمی ہتھیا سمجھا جاتا ہے ۔ اس کو ایک بڑی توپ سے فائر کیا جا سکتا ہے ۔لیکن پاکستان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے اتنے چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا لیے ہیں جو ایک بریف کیس میں لے جائے جا سکتے ہیں ۔

پاکستان دنیا کے ان چند گنے چنے ممالک میں بھی شامل ہو چکا ہے جس نے ایسے ڈرون بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یاد رہے بھارت جیسا ملک جس کا دفاعی بجٹ پاکستان کےدفاعی بجٹ سے تقریباً چھ گنا بڑا ہے اسلحہ بردار ڈرون اور لڑاکا طیارے بنانے سے قاصر ہے۔ مگر اللہ کے فضل سے پاکستان یہ دونوں ہتھیار ملکی سطح پر تیار کرتا ہے۔

کچھ دن پہلے پاک فوج نے رات کے اندھیرے میں دہشت گردوں پر کامیاب ڈرون حملہ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ خبروں کے مطابق پاک فوج اب تک 250 سے زائداس قسم کے ڈرون طیارے بنا چکی ہے اور اس تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ کیا جا رہا ہے، بہت جلد پاکستان ایسے ڈرون بھی بنانے لگے گا جو زیادہ وزنی ہتھیار اٹھا سکیں گے یہاں تک کہ چھوٹے ایٹمی ہتھیاربھی.

ایسے ڈرونز بنانے میں زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا, اور جس طرح کامرہ میں پاکستانی انجینئرز دن رات ایک کر کے کام کر رہے ہیں بہت جلد ایسے ڈرون بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے, یاد رہے ایسے ڈرون جو کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس چھوٹے میزائل اٹھا سکیں یا پھر ایٹمی وار ہیڈ لے جاسکے جنگ کا پانسہ پلٹنے کے لیے کافی ہوتے ہیں.

انڈیا کو اب تک یہ یقین دلایا جا رہا تھا کہ ” جنگ کی صورت میں پاکستان ایٹمی حملہ کرنے میں پہل نہیں کرے گا کیونکہ جواباً اسکو بھی ایٹمی حملہ سہنا پڑے گا ” ۔۔اسی اعتماد کے سہارے انڈیا پاکستان کے خلاف اپنی فوجی حکمت عملی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے نام سے تیار کر رہا تھا ۔ اس جنگی منصوبے پر انڈیا اب تک اربوں ڈالر پھونک چکا ہے۔

پاکستان کے کم رینج بلسٹک میزائلز ، ڈرون ٹیکنالوجی اور چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں نے اس جنگی حکمت عملی کو زمین میں گاڑ دیا ہے ۔انڈین ماہرین کا خیال تھا کہ چونکہ پاک فوج کو پاکستان کے اندر ہی بہت زیادہ مصروف کر دیا گیا ہے اس لیے اگر انڈیا اپنی کولڈ سٹارٹ کے تحت 9 لاکھ فوج کے ساتھ سندھ سے ملحقہ علاقوں پر حملہ کرتا ہے تو اسکا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی صرف دو ڈھائی لاکھ فوج ہی دستیاب ہوگی جس کو انڈیا پیچھے دھکیل سکے گا۔تاہم اب اگر انڈین آرمی سندھ میں داخل ہوتی ہے تو پاک فوج ان کو تھوڑا سا آگے آنے کا موقع دے کر چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کی مدد سے ان کو تباہ و برباد کر سکتی ہے۔

پاک فوج سندھ کے صحراوؤں کو انڈین آرمی کا قبرستان بنا دے گی ۔ ان حملوں سے تابکاری بھی نہیں پھیلے گی ۔ان حملوں کو انڈین سرزمین پر پاکستان کا ایٹمی حملہ بھی قرار نہیں دیا جا سکے گا جو انڈیا کو پاکستان پر ایٹمی حملے کا جواز دے سکے ۔ انڈیا کو پاکستانی سرحد عبور کرنے والی اپنی ساری فوج سے ہاتھ دھونا پڑینگے۔

پاکستان کی یہ کامیابی دنیا کے کچھ خاص ممالک کے لیے کتنی پریشان کن ہے اسکا اندازہ امریکی ردعمل سے کیا جا سکتا ہے, امریکہ پاکستان کے نیوکلئیر ہتھیاروں کی جاسوسی کے لیے سالانہ 23 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے اس کو اتنا علم ضرور ہوا ہوگا کہ پاکستان اس معاملے میں واقعی غیر معمولی کامیابی حاصل کر چکا ہے. یہی وجہ ہے کہ بظاہر ایک کمزور نظر آنے والے پاکستان پر امریکا براہ راست حملہ کیوں نہ کر سکا.

پاکستان کے سینئر کالم نگار ہارون رشید کہتے ہیں کہ میں ایک عرصے سے پاکستان کی فوج کے قریب رہا ہوں, اور میں یہ جانتا ہو کہ پاکستان وہ وہ ہتھیار بنا رہا ہے جس کے بارے میں بھارت کبھی سوچ بھی نہیں سکتا. مگر پاکستان ایسے ہتھیار منظرعام پر نہیں لاتا, جس کی دو بڑی وجہیں ہیں, ایک بڑی وجہ پاکستان پر پابندیاں لگ سکتی ہیں اور دوسری وجہ دشمن کو وقت آنے پر زبردست سرپرائز دینا ہے.

About yasir

Check Also

کیا واقعی جنرل ضیاء الحق امریکی آلہ کار تھے؟

پاکستان میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو جنرل ضیاء الحق کو امریکی …