Home / Pakistan / ڈکٹیٹر ایوب خان کے دور میں پی آئی اے کے ساتھ کیا سلوک ہوا، ملاحظہ فرمائیں

ڈکٹیٹر ایوب خان کے دور میں پی آئی اے کے ساتھ کیا سلوک ہوا، ملاحظہ فرمائیں

ڈکٹیٹر ایوب خان کے دور میں پی آئی اے کے ساتھ کیا سلوک ہوا، ملاحظہ فرمائیں:

1960 میں ایشیا کی دوسری ائیرلائن بنی جس کے پاس بوئنگ 707 طیارہ تھا۔

1961 میں پی آئی اے دنیا کی دوسری ائیرلائن تھی جو کراس اٹلانٹک روٹ یعنی کراچی سے لندن اور لندن سے نیویارک کی حامل تھی۔

1962 میں پی آئی اے نے لندن سے کراچی کی فلائیٹ کو 938 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مکمل کرتے ہوئے دنیا کی تیزترین اڑان کا ریکارڈ بنایا جو آج بھی پی آئی اے کے پاس ہے۔

60 کی دہائی میں پی آئی اے نے فرنچ ڈیزائنر پئیرے کارڈن کے ذریعے اپنی ائیرہوسٹس کا دوپٹہ اوڑھے یونیفارم ڈیزائن کروایا جسے دنیا کی تمام ائیرلائنز کے مقابلے میں بہترین یونیفارم کا ٹائٹل ملا۔

دنیا کی واحد ائیرلائن تھی جو اپنے ہر روٹ میں کھانا سرو کرتی تھی، چاھے وہ 30 منٹ کی فلائیٹ ہی کیوں نہ ہو۔

70 کی دہائی میں پی آئی اے دنیا کی ٹاپ تھری ائیرلائنز میں سے ایک بن چکی تھی۔

پھر وقت کا دھارا آگے چلتا گیا اور ہم مارشل لا سے جمہوریت کا سفر شروع کرتے ہوئے 90 کی دہائی میں آگئے۔ اس دور میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے مل کر پی آئی اے میں سیاسی بھرتیاں شروع کردیں اور اس کا سارا بجٹ اپنی کرپشن کی نظر کردیا۔

جہازوں کی مینٹینینس ختم ہوتی گئی تو ان کی کارکردگی میں فرق آتا گیا۔ ائیرلائن کا سیفٹی ریکارڈ خراب ہوتا گیا، نااہل سفارشی عملے کی وجہ سے سروس گھٹیا ترین ہوتی گئی اور پھر وہ پی آئی اے جس نے ایوب دور میں منافع دینا شروع کردیا تھا، وہ سینکٹروں ارب کے خسارے میں جاتی گئی۔

2006 میں پاکستان سٹیل مل بھی ریکارڈ منافع دیا کرتی تھی اور اسی لئے جب مشرف نے اسے پرائیویٹائز کرنے کا فیصلہ کیا تو افتخار چوہدری نے اسے منسوخ کردیا۔ مشرف جانتا تھا کہ اس وقت سٹیل مل کی جو 3 بلین ڈالر میں ڈیل ہورہی تھی، وہ آگے چل کر جمہوری ادوار میں 3 ملین روپے بھی نہیں رہے گی۔

مشرف کے بعد جمہوری سفر شروع ہوا، پہلے زرداری نے 5 سال ملک لوٹا پھر نوازشریف نے۔

اب ان سیاستدانوں نے اعلان کیا ہے کہ جو کوئی پی آئی اے خریدے گا، اسے سٹیل مل مفت میں مل جائے گی۔ میں زاتی طور پر سیاست کے خلاف نہیں, کیونکہ سیاست دان ہی ملک کو چلایا کرتے ہیں ۔ مگر وہ سیاست دان جو اپنے ملک سے پیار کرتے ہوں۔ اپنے ملک کے ہر ادارے کو اس طرح دیکھیں اور ان کا خیال رکھیں، جس طرح اپنی اولاد کا خیال رکھا جاتا ہے.

مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کے انہی اداروں کو ان سیاستدانوں کی طرف سے نقصان پہنچایا گیا جن اداروں نے پوری دنیا میں ہمارے ملک پاکستان کا نام روشن کیا, جس سیاستدان پر کڑا وقت آیا تو اس نے یہی بات کی ملک ٹوٹ جائے گا, کسی نے بھی آج تک پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر یہ نہیں کہا کہ میں رہوں یا نہ رہوں، میری آل اولاد رہے نہ رہے, مگر یہ ملک قیامت تک قائم رہنے کے لئے بنا ہے, کاش ایسا کوئی سیاستدان ہوتا تو ہم پاکستانی اس پر جان نچھاور کرتے.

یہ تحریر کسی ایک سیاستدان کے خلاف یا کسی ایک سیاستدان کے حق میں نہیں ہے, یہ تحریر دفاع پاکستان پر ہی لکھی گئی ہے جو کہ اندرونی دفاع پر مشتمل ہے, ملک کے اداروں کا دفاع۔

About yasir

Check Also

پاکستان آنے سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے ایئرکرافٹ کیریئر کا دورہ کیوں کیا۔

امریکہ اپنے ڈومورکے مطالبے پر قائم ہے مگر دھیمے لہجے کے ساتھ، مائیک پومپیو یہ …