Home / International / اسلامی فوجی اتحاد اور امریکہ

اسلامی فوجی اتحاد اور امریکہ

اسلامی فوجی اتحاد اور امریکہ.

اسلامی فوجی اتحاد یا مسلم ممالک کا فوجی اتحاد 41 مسلم ممالک کا بین الاقوامی فوجی اتحاد ہے جس کی تشکیل 14 دسمبر 2015ء کو سعودی عرب کی قیادت میں ہوئی۔

اتحاد کا مقصد “مذہب اور نام سے قطع نظر ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف مزاحمت اور جنگ کا محاذ قائم کرنا “۔

یہ شائد کئی سو سال بعد اتنی بڑی تعداد میں مسلمان ممالک کے درمیان بننے والا پہلا عسکری اتحاد ہے۔ غیر مسلم ممالک میں چین نے نہ صرف اس اتحاد کو خوش آمدید کہا ہے بلکہ اس کا حصہ بننے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
china want to friendship

امریکہ نے بظاہر اس اتحاد کو ویلکم کیا ہے لیکن درحقیقت اس کو اس اتحاد سے کتنی تکلیف ہے اسکا اظہار دنیا بھر میں پھیلے اس کے حواریوں کی زبان سے ہو رہا ہے۔

اسکی وجہ سمجھنے کی کوشش کریں۔

یہ اتحاد ابھی مکمل طور پر آپریشنل نہیں ہوا لیکن امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی ہوجائیگا۔ جس کے بعد یہ نیٹو کے طرز پر تمام ممبر ممالک کے اندر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ آپریشنز کرے گا۔ نہ صرف آپریشنز کرے گا بلکہ یہ بھی پتہ لگائے کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہیں اور ان کو نظریاتی تربیت کون دے رہا ہے۔
islami aittehad

اس سے امریکہ کو کیا تکلیف؟

پچھلے دو عشروں میں دہشت گرد خاص طور پر القاعدہ اور داعش امریکہ کا ہراول دستہ ثابت ہوئے ہیں۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ امریکہ کے ہاتھوں تباہ ہونے والے تمام مسلمان ممالک میں پہلے دہشت گرد داعش، القاعدہ یا کسی اور نام سے نمودار ہو کر اس ملک کو عسکری اور معاشی لحاظ سے ممکنہ حد تک کمزور کر دیتے ہیں۔ جس کے بعد امریکہ بظاہر اس ملک کی مدد کرنے اور دنیا کو دہشت گردی کے خطرے سے بچانے کے وہاں چڑھائی کر دیتا ہے۔ جس کے بعد وہ ملک مکمل طور پر تباہ ہو جاتا ہے۔

بلکہ اب تو امریکہ کی ان دہشت گردوں کی براہ راست امداد کے حوالے سے بھی خبریں اور شواہد آنے لگے ہیں۔ حامد کرزئی کا بیان آپ نے سنا ہوگا کہ داعش کو امریکی ہیلی کاپٹرز میں افغانستان لایا جاتا ہے۔
american helicopters

ان حالات میں مسلمان ممالک کے درمیان فوجی اتحاد کا قیام امریکہ کے لیے کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے؟
آپ خود سوچئے جب نیٹو کی طرز پر دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی مسلمانوں کی اپنی مشترکہ فوج ہوگی تو امریکہ اور نیٹو کے پاس مسلمان ممالک میں آپریشنز کرنے کا کیا جواز ہو گا۔
Top Muslim Military

سب سے بڑھ کر امریکی تھنک ٹینکس کو یہ بھی خطرہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بننے والا یہ فوجی اتحاد آنے والے وقت میں باقاعدہ فوجی اتحاد کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس کے بعد مسلمانوں کی بہت بڑی مشترکہ فوجی قوت تشکیل پا سکتی ہے۔ نیز اگر چین اسکا حصہ بنتا ہے تو یہ اتحاد شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن نامی فوجی اتحاد کے ساتھ بھی اشتراک کر سکتا ہے۔

پاکستان کو اس فوجی اتحاد میں کمانڈنگ پوزیشن حاصل ہے۔ پاکستان کے سابق سپاہ سالار راحیل شریف نہ صرف اس اتحاد کے سربراہ ہیں بلکہ پاکستانی فوجیوں کی بہت بڑی تعداد بھی اسکا حصہ بننے والی ہے۔
pak army in saudi

پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی امریکی کوشش کے خلاف سعودی عرب کی مزاحمت کی ایک وجہ یہ اتحاد بھی ہے۔ اس اتحاد نے سعودی عرب کے اندر پاکستان کے اثرو رسوخ میں مزید اضافہ کیا ہے اور راحیل شریف کو سعودی عرب میں سب سے طاقتور غیر عرب شخصیت بنا دیا ہے۔ یہ سب کچھ اس خطے کا امن تباہ کرنے والی طاقتوں کے لیے ہرگز قابل قبول نہیں۔

آپ نوٹ کیجیے پاکستانی سیاست، میڈیا اور سوشل میڈیا میں موجود لبرل عناصر اس فوجی اتحاد اور اس کے کمانڈر بننے والے پاکستانی سپاہ سالار پر زبردست تنقید کر رہے ہیں اور بہت سے احمق سوچے سمجھتے بغیر اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔

اس کو ایران کے خلاف مسلکی اتحاد بھی قرار دیا جا رہا ہے جو کہ درست نہیں۔ اس اتحاد کا حصہ شیعہ اور ایرانی اثر رسوخ رکھنے والے لبنان اور اومان بھی ہیں۔ ایران اور سعودی عرب میں پائی جانی والی چپلقش کی وجہ سے ایران ابھی اس اتحاد کا حصہ نہیں بنا ہے لیکن پاکستانی عسکری ذرائع یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ایران کو بھی اس اتحاد کا حصہ بنانے کی کوشش کرینگے اور سعودی عرب اور ایران کی جنگ نہیں ہونے دینگے۔

عمران خان غالباً واحد پاکستان سیاسی لیڈر ہے جس نے اس اتحاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بیان جاری کیا تھا کہ ” اسلامی اتحادی افواج کے سربراہ بن کر جنرل راحیل سعودیہ اور ایران کو قریب لائیں گے.
Gen Raheel Role

مصر کی جامع ازہر نے بھی اس اتحاد کا استقبال کیا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ وہ ایک عرصہ سے اپنے انٹرویوز اور کانفرنسوں میں اس کا مطالبہ کر رہے تھے۔ خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمن اسی ادارے کے فارغ التحصیل ہیں۔

ترکی کے طیب اردگان نے اس اتحاد کا زبردست خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” اس سے دنیا کو پیغام مل گیا ہوگا کہ اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنا درست نہیں.

موجودہ حالات میں جب پہلے سے موجود اسلامی ممالک کو توڑ کر مزید چھوٹا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ان میں اس قسم کا اتحاد تشکیل پانا کسی غنیمت سے کم نہیں۔ اس کی مخالفت کر کے اس کو کمزور کرنے کے بجائے اس کو ہر طرح سے سپورٹ کرنا چاہئے۔

Share This

About yasir

Check Also

پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کی خاطر کیا کچھ کرسکتا ہے۔

پاکستان میں عسکری اور سیاسی قیادت اس بات پر متفق ہیں کہ یمن میں جو …